صحابہ کرام ؓ کا ایمان

مغرب اور عِشا کے درمیان نوافل کا اہتمام

حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں: میں حضورﷺ کے پاس گیا اور حضورﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، پھر حضورﷺ عِشا تک نماز پڑھتے رہے۔7 حضرت محمد بن عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمار بن یاسرؓکو مغرب کے بعد چھ رکعت نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اور حضرت عمارؓ نے فرمایا: میں نے اپنے محبوب حضورﷺ کو مغرب کے بعد چھ رکعت نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ اور حضورﷺ نے فرمایا کہ جو مغرب کے بعد چھ رکعت نماز پڑھے گا، اس کے تمام گناہ معاف کردیے جائیں گے چاہے وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔1 حضرت عبدالرحمن بن یزیدکہتے ہیں کہ ایک وقت ایسا ہے جس میں جب بھی میں حضرت عبداﷲبن مسعودؓ کے پاس گیا انھیں نماز پڑھتے ہوئے ہی پایا، اور وہ ہے مغرب اور عِشا کے درمیان کا وقت۔ میں نے حضرت عبداﷲؓ سے پوچھا: ایک وقت ایسا ہے جس میں جب بھی میں آپ کے پاس آتا ہوں تو آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پاتا ہوں۔ انھوں نے فرمایا کہ یہ فرصت کا وقت ہے (یا یہ غفلت کی گھڑی ہے؟ اس وقت لوگ اپنے کھانے پینے وغیرہ میں لگ جاتے ہیں اور اﷲسے غافل ہوجاتے ہیں، اس لیے میں غفلت کی اس گھڑی میں عبادت کرتا ہوں)۔2 حضرت اَسود بن یزیدکہتے ہیں:حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ نے فرمایا: غفلت کی گھڑی یعنی مغرب اور عِشا کے درمیان نفل نماز پڑھنابہترین عمل ہے۔3 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: فرشتے ان لوگوں کو گھیر لیتے ہیں جو مغرب اور عِشا کے درمیان نفل پڑھتے ہیں، اور یہ اوّابین کی نماز ہے۔4