صحابہ کرام ؓ کا افراد کو انفرادی طور پر دعوت دینا
حضرت عمر بن خطاب ؓ کا انفرادی دعوت دینا
اَسبق کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن الخطّاب ؓ کا غلام تھا اور میںعیسائی تھا۔ آپ میرے سامنے اِسلام کو پیش کرتے رہتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر تو مسلمان ہوجائے گا تو میں اپنی امانت کے سنبھالنے میں تجھ سے مدد لے سکوں گا، کیوں کہ جب تک مسلمانوں کے دین کو اختیار نہیں کروگے اس وقت تک مسلمانوں کی امانت کو سنبھالنے کے لیے تم سے مدد لینا میرے لیے حلال نہیں ہے۔ میں ہمیشہ اِنکار کرتا رہا۔ آپ فرمادیتے: دین میں جبر نہیں ہے۔ جب آپ کے انتقال کا وقت قریب آیا تو میں عیسائی ہی تھا، آپ ؓنے مجھے آزاد کر دیا اور فرمایا: جہاں تیرا جِی چاہے چلا جا۔ (حضرت اَسبق بعد میں مسلمان ہوگئے تھے) 1
حضرت اَسلم کہتے ہیں کہ جب ہم لوگ ملکِ شام میں تھے تو میں وضو کا پانی لے کر حضرت عمر بن خطابؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے پوچھا: تم یہ پانی کہاں سے لائے ہو؟ میں نے ایسا میٹھا پانی کبھی نہیں دیکھا اور بارش کا پانی بھی اس سے عمدہ نہیں ہوگا۔ میں نے کہا: میں اس نصرانی بڑھیا کے گھر سے لایا ہوں۔ وضو سے فارغ ہوکر آپ اس بڑھیا کے پاس گئے اور اس سے کہا: اے بڑی بی! اِسلام لے آؤ، اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق دے کر بھیجا ہے۔ اس نے اپنا سر کھول کر دکھایا تو ثَغَامہ بوٹی (کے پھولوں ) کی طرح اس کے بال بالکل سفید تھے۔ اور اس نے کہا: میں بہت بوڑھی ہوچکی ہوں اور بس اب مرنے ہی والی ہوں (یعنی اب اِسلام لانے کا وقت نہیں رہا )۔ حضرت عمر نے فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہنا ۔ 2