صحابہ کرام ؓ کا افراد کو انفرادی طور پر دعوت دینا

حضرت مصعب بن عمیر ؓ کا انفرادی دعوت دینا

حضرت عبد اللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم اور دیگر حضرات کہتے ہیں کہ حضرت اَسعد بن زُرارہ ؓ حضرت مُصْعَب بن عمیر ؓ کو بنو عبدالاشہل اور بنو ظفر کے محلوں میں لے گئے۔ حضرت سعد بن معاذ ؓ حضرت اَسعد بن زُرارہ ؓ کے خالہ زاد بھائی تھے۔ حضرت اَسعد حضرت مُصْعَب کو بنو ظفر کے ایک باغ میں مَرَق نامی کنویں پر لے گئے۔ یہ دونوں حضرات باغ میں جاکر بیٹھ گئے ۔ سارے مسلمان مرد اُن کے پاس جمع ہوگئے۔ حضرت سعد بن معاذ اور حضرت اُسید بن حضیر دونوں اس وقت اپنی قوم بنو عبدالاشہل کے سردار تھے اور دونوں مشرک تھے اور اپنی قوم کے مذہب پر قائم تھے۔ ان دونوں نے جب حضرت مُصْعَب اور حضرت اَسعد کے باغ میں مجلس لگانے کی خبر سنی ، حضرت سعد نے حضرت اُسید سے کہا: تیرا باپ نہ رہے! تم ان دونوں آدمیوں کے پاس جاؤ جنھوں نے ہمارے محلوں میں آکر ہمارے کمزوروں کو بے وقوف بنانا شروع کردیا ہے۔ انھیں ڈانٹو اور انھیں ہمارے محلوں میں آنے سے روک دو۔ اگر اَسعد بن زُرارہ کا مجھ سے قریبی رشتہ نہ ہوتا جیسے کہ تمہیں معلوم ہے تو یہ کام میں خود ہی کرلیتا تمہیں نہ بھیجتا۔ وہ میرا خالہ زاد بھائی ہے، ان کے پاس جانے کی مجھ میں ہمت نہیں۔ چناں چہ حضرت اُسید بن حضیر اپنا نیزہ لے کر ان دونوں کے پاس گئے ۔ جب حضرت اَسعد بن زُرارہ نے حضرت اُسید کو آتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے حضرت مُصْعَب سے کہا: یہ اپنی قوم کا سردار ہے اور تمہارے پاس آرہا ہے، تم ان کے ساتھ اِخلاص سے بات کرو اور جتنا زور لگاسکتے ہو لگادو۔ حضرت مُصْعَب نے کہا: اگر یہ بیٹھ گئے تو میں ان سے بات کروں گا۔ چناںچہ حضرت اُسید بن حضیر کھڑے ہوکر ان دونوں کو گالیاں دینے لگے اور یوں کہا: تم ہمارے پاس کس لیے آئے ہو؟ ہمارے کمزوروں کوبے وقوف بنانا چاہتے ہو۔ اگر تمہیں اپنی جان پیاری ہے تو تم دونوں ہمارے ہاں سے چلے جاؤ۔ ان سے حضرت مُصْعَب نے کہا: ذرا بیٹھ جاؤ، کچھ ہماری بھی تو سن لو۔ اگر ہماری بات تمہیں پسند آجائے تو تم مان لینااور اگر پسند نہ آئے تو ہم آپ کی ناپسندیدہ بات سے رک جائیں گے۔ حضرت اُسید نے کہا: تم نے اِنصاف کی بات کہی ہے۔ چناںچہ اپنا نیزہ زمین میں گاڑ کر ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے۔ حضرت مُصْعَب نے ان سے اِسلام کے بارے میں گفتگو کی اور انھیں قرآن پڑھ کر سنایا۔ یہ دونوں حضرات فرماتے ہیںکہ ان کے بولنے سے پہلے ہی قرآن سنتے ہی ان کے چہرے کی چمک اور نرمی سے ہمیں یہ محسوس ہوگیا کہ یہ اِسلام قبول کرلیں گے۔ چناںچہ انھوں نے کہا کہ یہ دینِ اِسلام کتنا اچھا اور کتنا خوب صورت ہے۔ جب تم اس دین میں داخل ہونا چاہتے ہو تو کیا کرتے ہو؟ان دونوں نے ان سے کہا: غسل کرکے پاک ہوجاؤ اور اپنے دونوں کپڑوں کو پاک کرو، پھر کلمۂ شہادت پڑھو اور پھر نماز پڑھو۔ چناںچہ انھوں نے کھڑے ہوکر غسل کیا اور اپنے دونوں کپڑے پاک کیے اور کلمۂ شہادت پڑھا اور پھر کھڑے ہوکر دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر ان دونوں سے کہا کہ میرے پیچھے ایک آدمی ہے اگر اس نے تم دونوں کا کہا مان لیا تو اُن کی قوم کا کوئی آدمی بھی ان سے پیچھے نہیں رہے گا، اور میں اسے ابھی تمہارے پاس بھیجتا ہوں اور وہ سعد بن معاذ ہیں۔ پھر وہ اپنا نیزہ لے کر حضرت سعد اور اُن کی قوم کے پاس گئے وہ لوگ اپنی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جب حضرت سعدبن معاذ نے اُن کو آتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے کہا: میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں حضرت اُسید کے چہرے کو پہلے کی نسبت بدلا ہوا پاتا ہوں (کیوں کہ اب اس پر اِسلام کا نور چمک رہا ہے)۔ جب حضرت اُسید مجلس میں جا کھڑے ہوئے تو ان سے حضرت سعد نے پوچھا: کیا کرکے آئے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے ان دونوں سے بات کی ہے اللہ کی قسم !مجھے ان دونوں کی باتوں میں کوئی خطرہ نظر نہیں آیا اور میں نے ان دونوں کو روک دیا ہے۔ انھوں نے کہا: تم جیسے کہوگے ہم ویسے ہی کریں گے۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ بنو حارثہ حضرت اَسعد بن زُرارہ ؓ کو قتل کرنے گئے ہیں کیوں کہ انھیں پتہ ہے کہ وہ تمہارا خالہ زاد بھائی ہے، اس طرح وہ تمہاری توہین کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سن کر سعد بن معاذ ؓ آگ بگولہ ہوگئے۔ وہ بڑی تیزی سے چلے، انھیں ڈر تھا کہ بنو حارثہ کہیں کچھ کر نہ گزریں اور نیزہ ہاتھ میں لے کر چل پڑے اور یوں کہا: ارے، تم نے تو کچھ بھی نہ کیا۔ حضرت سعد نے وہاں جاکر جب دیکھا کہ وہ دونوں حضرات اطمینان سے بیٹھے ہوئے ہیں تو سمجھ گئے کہ حضرت اُسید نے یہ بات اس لیے کہی تھی تاکہ میں بھی ان دونوں کی باتیں سن لوں۔ انھوں نے بھی کھڑے ہوکر ان دونوں کو گالیاں دینی شروع کیں اور پھر حضرت اَسعد بن زُرارہ کو کہا: اللہ کی قسم! اے ابواُمامہ! اگر میرے اور تمہارے درمیان رشتہ داری نہ ہوتی تو تم اس طرح کرنے کو سوچ بھی نہ سکتے۔ تم ہمارے محلے میں وہ چیز لانا چاہتے ہو جسے ہم برا سمجھتے ہیں۔ ان کو آتا ہوا دیکھ کر حضرت اَسعد نے حضرت مُصْعَب سے کہہ دیا تھا کہ آپ کے پاس ایسا بڑا سردار آرہا ہے جس کے پیچھے ایسی ماننے والی قوم ہے کہ اگر انھوں نے آپ کا کہا مان لیا تو ان کی قوم میں دو آدمی بھی کہا ماننے سے پیچھے نہیں رہیں گے۔ حضرت مُصْعَب نے حضرت سعد بن معاذ سے کہا: ذرا بیٹھ جاؤ، کچھ ہماری بھی سن لو۔ اگر ہماری بات پسند آجائے اور دل چاہے تو مان لینا اور اگر پسند نہ آئے تو ہم آپ کی ناپسندیدہ بات کو چھوڑ دیں گے۔ حضرت سعد نے کہا: آپ نے اِنصاف کی بات کہی ہے۔ پھر نیزہ گاڑ کر بیٹھ گئے۔ حضرت مُصْعَب نے ان پر اِسلام پیش کیا اور انھیں قرآن پڑھ کر سنایا۔ موسی بن عقبہ کا بیان ہے کہ انھوں نے سورتِ زُخرف کی شروع کی آیتیں سنائی تھیں۔ یہ دونوں حضرات بیان فرماتے ہیں کہ ان کے بولنے سے پہلے ہی قرآن سنتے ہی ان کے چہرے کی چمک اور نرمی سے ہمیں یہ محسوس ہوگیا کہ یہ اِسلام قبول کرلیں گے۔ چناںچہ انھوں نے ان دونوں حضرات سے پوچھا کہ جب تم مسلمان ہوکر اس دین میں داخل ہوا کرتے ہو تو کیاکیا کرتے ہو؟ انھوں نے کہا: غسل کرکے پاک ہوجاؤ اور اپنے دونوں کپڑوں کو پاک کرلو اور پھر کلمۂ شہادت پڑھو ، پھر دو رکعت نماز پڑھو۔ چناں چہ انھوں نے کھڑے ہوکر غسل کیا اور اپنے کپڑوں کو پاک کیا اور کلمۂ شہادت پڑھا، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر اپنانیزہ لے کر اپنی قوم کی مجلس کی طرف واپس گئے اور اُن کے ساتھ حضرت اُسید بن حضیر بھی تھے۔ جب اُن کو اُن کی قوم نے آتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے کہا: ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیںکہ واپسی میں حضرت سعد کا چہرہ بدلا ہوا ہے (اب اس پر اِسلام کا نور چمک رہا ہے)۔ انھوںنے اپنی قوم کے پاس کھڑے ہوکر کہا: اے بنو عبدالاشہل! تم مجھے اپنے میں کیسا سمجھتے ہو؟ انھوں نے کہا: آپ ہمارے سردار ہیں۔ ہم میں سب سے اچھی رائے والے اور سب سے عمدہ طبیعت کے ما لک ہیں۔ انھوں نے کہا: تمہارے مردوں اورعورتوں سے بات کرنا مجھ پر حرام ہے جب تک تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لے آؤ۔ راوی کہتے ہیں کہ شام تک بنو عبدالاشہل کے تمام مرد وعورت مسلمان ہوچکے تھے۔ اور حضرت سعدؓ اور حضرت مُصْعبؓ دونوں حضرت اَسعد بن زُرارہؓ کے گھر آگئے اوران کے ہاں ٹھہر کر دونوں اِسلام کی دعوت دیتے رہے یہاں تک کہ اَنصار کے ہر محلہ میں کچھ نہ کچھ مرد اور عورت ضرور مسلمان ہوگئے، لیکن بنو اُمیّہ بن زید، خطمہ ، وائل اور واقف کے محلوں میں کوئی مسلمان نہ ہوا۔ یہ اَوس قبیلہ کے مختلف خاندان ہیں۔1 طبرانی نے اور’’ دلائل النبوۃ‘‘ میں ابو نُعیم نے حضرت عروہ سے ایک لمبی روایت ذکر کی ہے، جس میں یہ مضمون بھی ہے کہ حضور ﷺ نے اَنصار کے سامنے اِسلام کی دعوت پیش کی اور وہ ایمان لائے جیسے کہ ابتدائے امر انصار کے باب میں آگے آئے گی۔ پھر اَنصار کا اپنی قوم کو چھپ کر دعوت دینا اور انصار کا حضورﷺ سے ایسے آدمی کے بھیجنے کا مطالبہ کرنا جو لوگوں کو دعوت دے یہ سب اس روایت میں مذکور ہے۔ چناںچہ حضورﷺ نے انصار کے پاس حضرت مُصْعب ؓ کو بھیجا جس کا تذکرہ حضورﷺ کے افراد کو اللہ و رسول کی دعوت دینے کے لیے بھیجنے کے باب میں صفحہ ۱۵۳ پر آچکا ہے۔ پھر حضرت عروہ نے کہا کہ اَسعد بن زُرارہ ؓ اور حضرت مُصْعب بن عمیر ؓ دونوں بیرِ مَرَق (کنویں) یا اس کے قریب کے علاقہ میں آئے اور وہاں آکر بیٹھ گئے۔ اس زمین والوں کو پیغام بھیج کر بلوایا، وہ چھپ کر ان کے پاس آئے۔ حضرت مُصْعَب بن عمیر اُن لوگوں سے باتیں کرتے رہے اور قرآن پڑھ کر سناتے رہے۔ ادھر حضرت سعد بن معاذ کو اس کی خبر لگی۔ وہ اپنے ہتھیار باندھ کر اور نیزہ لے کر ان کے پاس آئے اور کھڑے ہوکر کہنے لگے: تم ہمارے ہاں اس اکیلے آدمی کو کیوں لائے ہو جو کہ تنہا اور دُھتکارا ہوا اور پردیسی ہے؟ اور وہ غلط بیانی سے ہمارے کمزوروں کو بہکاتا ہے اور انھیں اپنی دعوت دیتا ہے۔ تم دونوں آج کے بعد پڑوس میں بھی کہیں نظر نہ آنا۔ یہ سن کر یہ حضرات واپس چلے گئے۔ پھر دوبارہ یہ لوگ بیرِ مرق (کنویں) یا اس کے آس پاس آکر بیٹھ گئے۔ حضرت سعد بن معاذ کو ان کی دوبارہ خبر ملی تو انھوں نے آکر ان دونوں کو پہلے سے کم سخت لہجے میں دھمکایا۔ جب حضرت اَسعد نے ان میں کچھ نرمی محسوس کی تو کہا: اے میرے خالہ زاد بھائی! ان کی ذرا بات سن لو۔ اگر ان سے کوئی بری بات سننے میں آئے تو اسے رد کرکے تم اس سے اچھی بات بتادینا، اور اگر اچھی بات سنو تو اللہ کی بات مان لینا۔ حضرت سعد نے کہا: یہ کیا کہتے ہیں؟ حضرت مُصْعب بن عمیر نے {حٰمٓ O وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ O اِنَّا جَعَلْنٰہُ قُرْاٰناً عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَO}1 پڑھ کر سنائی۔حضرت سعد نے کہا: میں تو جانی پہچانی باتیں ہی سن رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت سے نواز دیا ،لیکن انھوں نے اپنے اِسلام کا اظہار اپنی قوم کے پاس واپس جاکر کیا اور اپنی قوم بنو عبدالاشہل کو اِسلام کی دعوت دی اور یہ بھی کہا: اگر کسی بڑے یا چھوٹے کو کسی مرد یا عورت کو اِسلام کے بارے میں شک ہو تو ہمیں اس سے زیادہ بہتر دین بتادے ہم اسے قبول کرلیں گے۔ اللہ کی قسم! اب تو ایسی بات (کھل کر سامنے) آگئی ہے جس کی وجہ سے گردنیں کٹوائی جاسکتی ہیں۔ چناں چہ حضرت سعد کے مسلمان ہونے اور ان کے دعوت دینے پر قبیلہ بنو عبدالاشہل سارا ہی مسلمان ہوگیا۔ پس چند ناقابلِ ذکر آدمی اِسلام نہ لائے۔ چناںچہ یہ اَنصار کا پہلا محلہ تھاجو سارے کا سارا مسلمان ہوگیا۔ آگے اسی طرح حدیث ذکر کی ہے جیسے کہ ’’حضورﷺ کا افراد کو اللہ و رسول کی دعوت دینے کے لیے بھیجنے کے باب میں صفحہ ۱۵۴ پر گزرچکی ہے ۔اور اس کے آخر میں یہ ہے کہ پھر حضرت مُصْعب بن عمیرؓ حضورﷺ کی خدمت میں مکہ واپس چلے گئے۔