صحابہ کرام ؓ کا ایمان
ایمان اور علم و عمل کو بہ یک وقت اکٹھے سیکھنا
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں: میں نے اپنی زندگی کا بڑا عرصہ اس طرح گذارا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک قرآن سے پہلے ایمان سیکھتا تھا۔ اور جو بھی سورت حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوتی تھی ہر ایک اس کے حلال و حرام ایسے سیکھتا تھا جیسے تم قرآن کو سیکھتے ہو اور جہاں وقف کرنا مناسب ہوتا تھا اس کو بھی سیکھتا تھا۔ پھر اب میں ایسے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو ایمان سے پہلے قرآن حاصل کرلیتے ہیں، اور سورۂ فاتحہ شروع سے آخر تک ساری پڑھ لیتے ہیں، اور انھیں پتا نہیں چلتا کہ سورۂ فاتحہ کن کاموں کا حکم دے رہی ہے اور کن کاموں سے روک رہی ہے اور اس سورت میں کون سی آیت ایسی ہے جہاں جا کر رک جانا چاہیے۔ اور سورۂ فاتحہ کو ردّی کھجور کی طرح بکھیر دیتا ہے، یعنی جلدی جلدی پڑھتا ہے۔ 1
حضرت جُندب بن عبد اﷲؓفرماتے تھے: ہم نو عمر لڑکے حضورﷺ کے ساتھ ہوا کرتے تھے۔ پہلے ہم نے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا، جس سے ہمارا ایمان اور زیادہ ہوگیا۔2
حضرت علیؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ کے زمانے میں ایک آیت یا چند آیتیں یا پوری سورت نازل ہوتی تو اس سے مسلمانوں کا ایمان اور خشوع اور بڑھ جاتا، اور وہ آیت یا سورت جس کام سے روکتی سارے مسلمان اس سے رک جاتے۔3
حضرت ابو عبدالرحمن سُلَمی کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے جو صحابہ ہمیں پڑھاتے تھے، انھوں نے ہمیں بتایا کہ وہ حضورﷺ سے دس آیتیں پڑھتے اور اگلی دس آیتیں تب شروع کرتے جب پہلی دس آیتوں میں جو علم و عمل ہے اسے اچھی طرح جان لیتے۔ چناںچہ یوں ہم علم و عمل دونوں سیکھتے۔ 4
حضرت ابو عبدالرحمن سے اسی جیسی دوسری روایت میں یہ مضمون بھی منقول ہے کہ ہم قرآن کو اور اس پر عمل کو سیکھتے تھے، اور ہمارے بعد ایسے لوگ قرآن کے وارث بنیں گے جو پانی کی طرح سارا قرآن پی جائیں گے، لیکن یہ قرآن ان کی ہنسلی کی ہڈی سے نیچے نہیں اُترے گا۔ اور حلق کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: بلکہ اس سے بھی نیچے نہیں جائے گا۔ 5
حضرت ابنِ مسعودؓفرماتے ہیں: جب ہم نبی کریمﷺ سے قرآن کی دس آیتیں سیکھتے تو بعد والی آیتیں تب سیکھتے جب پہلی آیتوں میں جو کچھ ہوتا اسے اچھی طرح سیکھ لیتے۔ حضرت شریک راوی سے پوچھا گیا: اس سے مراد یہ ہے کہ پہلی آیتوں میں جو عمل ہوتا اسے سیکھ لیتے؟ حضرت شریک نے کہا: جی ہاں۔6