صحابہ کرام ؓ کا ایمان

جتنے دینی علم کی ضرورت ہو اتنا حاصل کرنا

حضرت سلمانؓ نے حضرت حذیفہؓ سے فرمایا: اے قبیلہ بنو عبس والے!علم تو بہت زیادہ ہے اور عمر بڑی تھوڑی ہے، لہٰذا دین پر عمل کرنے کے لیے جتنے علم کی ضرورت پڑتی جائے اتنا علم حاصل کرتے جاؤ، اور جس کی ضرورت نہیں اسے چھوڑ دو اور اس کے حاصل کرنے کی مشقت میں نہ پڑو۔ 1 حضرت ابو البَخْتَری کہتے ہیں کہ قبیلہ بنو عبس کا ایک آدمی حضرت سلمانؓ کے ساتھ سفر میں تھا، اس آدمی نے دریائے دجلہ سے پانی پیا۔ حضرت سلمانؓ نے اس سے فرمایا: اور پی لو۔ اس نے کہا: نہیں، میں سیر ہوچکا ہوں۔ حضرت سلما نؓنے فرمایا:تمہارا کیا خیال ہے تمہارے پانی پینے سے دریائے دِجلہ میں کوئی کمی آئی ہے؟ اس آدمی نے کہا: میں نے جتنا پانی پیا ہے اس سے اس دریا میں کیا کمی آئے گی؟ حضرت سلمانؓ نے فرمایا: علم بھی اسی دریا کی طرح ہے، لہٰذا جتنا علم تمھیں فائدہ دے اتنا حاصل کرلو۔ 2 حضرت محمد بن ابی قَیلہکہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابنِ عمرؓ کو خط لکھ کر علم کے بارے میں پوچھا۔ حضرت ابنِ عمرؓ نے اسے یہ جواب لکھا کہ تم نے مجھے خط لکھ کر علم کے بارے میں پوچھا ہے۔ علم تو بہت زیادہ ہے میں سارا لکھ کر تمھیں نہیں بھیج سکتا۔ البتہ تم اس بات کی پوری کوشش کرو کہ تمہاری اﷲ سے ملاقات اس حال میں ہو کہ تمہاری زبان مسلمانوں کی آبرو سے رکی ہوئی ہو اور تمہاری کمر پر اُن کے ناحق خون کا بوجھ نہ ہو اور تمہارا پیٹ اُن کے مال سے خالی ہو اور تم مسلمانوں کی جماعت سے چمٹے ہوئے ہو۔3