صحابہ کرام ؓ کا ایمان
علم کا پڑھنا پڑھانا اور علم کو آپس میں دہرانا، اور کن چیزوں کا پوچھنا مناسب ہے اور کن کا مناسب نہیں
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوتے تھے اور کبھی ہماری تعداد ساٹھ تک بھی ہوجاتی تھی۔ حضورﷺ ہم لوگوں میں حدیث بیان فرماتے پھر اپنی کسی ضرورت سے اندر تشریف لے جاتے، ہم لوگ بیٹھ کر اسے آپس میں اتنا دہراتے کہ جب وہاں سے اٹھتے تو وہ حدیث ہمارے دل میں پختہ ہوچکی ہوتی۔1
حضرت ابو موسیٰ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو ہم سب آپ کی طرف متوجہ ہوجاتے۔ ہم میں سے کوئی آپ سے قرآن کے بارے میں، کوئی فرائض کے بارے میںاور کوئی خواب کی تعبیر پوچھتا۔2
حضرت فَضالہ بن عبیدؓ کے پاس جب ان کے ساتھی آیا کرتے تو ان سے فرمایا کرتے کہ مل کر پڑھا کرو، بشارتیں سنایا کرو، اور (علم کو) بڑھاؤ اﷲتعالیٰ تمہاری خیر کو بڑھائے اور تم سے محبت کرے اور جو تم سے محبت کرتا ہے اس سے بھی محبت کرے۔ اور مسائل کو ہمارے سامنے دہراتے رہا کرو، کیوںکہ مسائل کے آخری حصے کا ثواب پہلے حصے کی طرح ہے۔ اور اپنی گفتگو میں اِستغفار شامل کرلیا کرو۔3
حضرت ابو نضرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعیدؓ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ہمیں حدیثیں لکھ کردے دیں۔ فرمایا: ہرگز لکھ کر نہیں دیں گے، ہم ہرگز حدیث کو قرآن نہیں بنائیں گے، بلکہ تم ہم سے حدیثیں ایسے لو جیسے ہم نے نبی کریم ﷺ سے (بغیر لکھے ہوئے زبانی)لی تھیں۔ اور حضرت ابو سعیدؓ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ حدیثیں آپس میں دہرایا کرو، کیوںکہ اس طرح پختہ یاد ہوجاتی ہیں۔ 1
حضرت ابو سعیدؓ نے فرمایا: حدیثوں کا آپس میں مذاکرہ کرتے رہا کرو، اس سے حدیثیں اچھی طرح یاد ہو جاتی ہیں۔2
حضرت علیؓ نے فرمایا: حدیثوں کا آپس میں مذاکرہ کرتے رہا کرو، کیوںکہ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تمام حدیثیں بھول جاؤگے۔3
ابنِ عبدالبر کی روایت کے شروع میں یہ بھی ہے کہ آپس میں ایک دوسرے سے ملتے رہا کرو۔
حضرت ابنِ مسعودؓ نے فرمایا: حدیثوں کا آپس میں مذاکرہ کرتے رہو، کیوںکہ مذاکرہ کرنے سے حدیثیں زندہ رہتی ہیں یعنی یاد رہتی ہیں۔4
حضرت ابنِ مسعودؓ نے فرمایا: علم کا پڑھنا پڑھانا نفل نماز کا ثواب دلاتا ہے۔
اور حضرت ابنِ عباسؓ نے فرمایا: رات کے کچھ حصے میں علم کا آپس میں مذاکرہ کرنا مجھے رات بھر عبادت کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔5
حضرت ابنِ عمرؓفرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّابؓنے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے فرمایا: اے ابو حسن! کئی مرتبہ آپ حضورﷺ کی مجلس میں موجود ہوتے تھے اور ہم غائب ہوتے تھے، اور کبھی ہم موجود ہوتے تھے اور آپ غیر حاضر۔ تین باتیں میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا آپ کو وہ معلوم ہیں؟ حضرت علیؓ فرمایا: وہ تین باتیں کیا ہیں؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: ایک آدمی کو ایک آدمی سے محبت ہوتی ہے، حالاںکہ اس نے اس میں کوئی خیر کی بات نہیں دیکھی ہوتی اور ایک آدمی کو ایک آدمی سے دوری ہوتی ہے، حالاںکہ اس نے اس میں کوئی بری بات نہیں دیکھی ہوتی اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت علیؓنے فرمایا: اس کا جواب مجھے معلوم ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ انسانوں کی روحیں اَزل میں ایک جگہ اکٹھی رکھی ہوئی ہیں وہاں وہ ایک دوسرے کے قریب آکر آپس میں ملتی ہیں۔ جن میں وہاں آپس میں تعارف ہوگیا ان میں یہاں دنیا میں اُلفت ہوجاتی ہے اور جن میں وہاں اَجنبیت رہی ہو یہاں دنیا میں ایک دوسرے سے الگ رہتے ہیں۔ حضرت عمرؓنے فرمایا: یہ ایک بات کا جواب مل گیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ آدمی حدیث بیان کرتا ہے کبھی اسے بھول جاتا ہے کبھی یاد آجاتی ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت علیؓنے فرمایا: میں نے حضورﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جیسے چاند کا بادل ہوتا ہے ایسے دل کے لیے بھی بادل ہے۔ چاند خوب چمک رہاہوتاہے بادل اس کے سامنے آجاتا ہے تو اندھیرا ہوجاتا ہے اور جب بادل ہٹ جاتا ہے چاند پھر چمکنے لگتاہے۔ ایسے ہی آدمی ایک حدیث بیان کرتا ہے، وہ بادل اس پر چھا جاتا ہے تو وہ حدیث بھول جاتا ہے، اورجب اس سے بادل ہٹ جاتا ہے تو اسے وہ حدیث یاد آجاتی ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: دو باتوں کا جواب مل گیا۔تیسری بات یہ ہے کہ آدمی خواب دیکھتا ہے تو کوئی خواب سچا ہوتا ہے کوئی جھوٹا، اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا: جی ہاں، اس کا جواب بھی مجھے معلوم ہے۔ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو بندہ یا بندی گہری نیند سوجاتا ہے تو اس کی روح کو عرش تک چڑھایا جاتا ہے۔ جو روح عرش پر پہنچ کر جاگتی ہے اس کا خواب تو سچا ہوتاہے اور جو اس سے پہلے جاگ جاتی ہے اس کا خواب جھوٹا ہوتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں ان تین باتوں کی تلاش میں ایک عرصہ سے لگا ہوا تھا، اﷲ کا شکر ہے کہ میں نے مرنے سے پہلے ان کو پالیا۔1
حضرت ابراہیم تیمی کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر بن خطاب ؓ تنہائی میں بیٹھے ہوئے تھے اور اپنے دل میں کچھ سوچ رہے تھے۔ پھر آدمی بھیج کر حضرت ابنِ عباس ؓ کو بلایا۔ جب وہ آگئے تو ان سے فرمایا: اس اُمّت میں کیسے اختلاف ہوسکتا ہے جب کہ ان کی کتاب ایک ہے اور ان کا نبی ایک ہے اور ان کا قبلہ ایک ہے؟ حضرت ابنِ عباس ؓ نے کہا:اے امیرالمؤمنین! ہم پر قرآن نازل ہوا، ہم نے اسے پڑھااور ہمیں معلوم ہے کہ قرآن کی یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی ہے، لیکن ہمارے بعد کے لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن انھیں یہ نہیں معلوم ہوگا کہ یہ آیت کس بارے میں نازل ہوئی ہے، اس طرح ہر جماعت کی اس بارے میں الگ الگ رائے ہوگی، جب ہر جماعت کی الگ الگ رائے ہوگی تو ان میں اختلاف ہوجائے گا اور جب ان میں آپس میں اختلاف ہوجائے گا تو پھر آپس میں لڑ پڑیں گے۔ یہ سن کر حضرت عمرؓان پر برسے اور انھیں خوب ڈانٹا۔ حضرت ابنِ عباس ؓ واپس چلے گئے، لیکن حضرت ابنِ عباس نے جو بات کہی تھی وہ بعد میں حضرت عمرؓکو سمجھ آگئی تو انھیں بلایا اور ان سے فرمایا: وہ اپنی بات ذرا دوبارہ کہنا۔1
حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطابؓ نے فرمایا: آج رات میں نے ایک آیت پڑھی جس کی وجہ سے مجھے ساری رات نیند نہیں آئی۔ وہ آیت یہ ہے:
{اَیَوَدُّ اَحَدُکُمْ اَنْ تَکُوْنَ لَہُ جَنَّۃٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ} الآیۃ2
بھلا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ اس کا ایک باغ ہو کھجور وںاور انگوروں کا، اس کے (درختوں کے) نیچے نہریں چلتی ہوں، اس شخص کے یہاں اس باغ میں اور بھی ہر قسم کے (مناسب) میوے ہوں، اور اس شخص کا بڑھاپا آگیا ہو اور اس کے اہل وعیال بھی ہوں جن میں(کمانے کی) قوت نہیں۔ سو اس باغ پر ایک بگولا آوے جس میںآگ (کامادہ) ہو پھر وہ باغ جل جاوے۔
میں ساری رات یہ سوچتا رہا کہ اﷲتعالیٰ اس آیت میں کیا کہنا چاہتے ہیں؟ اس سے مراد کیا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: اﷲزیادہ جانتے ہیں۔ حضرت عمرؓنے فرمایا: یہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ اﷲ زیادہ جانتے ہیں، لیکن میں اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ اگر آپ لوگوں میں سے کسی کو کچھ معلوم ہے یا اس نے اس بارے میں کچھ سن رکھا ہے تو وہ بتادے۔ اور لوگ تو خاموش رہے لیکن میں نے دھیمی آواز سے کچھ کہا۔ اس پر حضرت عمرؓنے مجھ سے فرمایا:کہو، اے میرے بھتیجے! کہو، اپنے آپ کو اتنا کم درجہ کا نہ سمجھو۔ میں نے کہا: اس مثال سے مراد عمل ہے۔ انھوں نے فرمایا: عمل مراد لینے کی کیا دلیل ہے؟ میں نے کہا: (دلیل تو کوئی نہیں ہے لیکن) میرے دل میں یہ بات آئی ہے جو میں نے کہہ دی ہے۔ اس پر حضرت عمرؓ مجھے چھوڑ کر خود تفسیر کرنے لگے اور فرمایا: اے میرے بھتیجے! تم نے ٹھیک کہا، واقعی اس سے عمل ہی مراد ہے۔ ابنِ آدم جب بوڑھا ہوجاتا ہے اور اس کے اہل وعیال زیادہ ہوجاتے ہیں تو اسے اپنے باغ کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے ہی قیامت کے دن اسے عمل کی سب سے زیادہ ضرورت ہوگی۔ اے میرے بھتیجے! تم نے بالکل ٹھیک کہا۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓمجھے غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے بڑے بوڑھوں کے ساتھ اپنی مجلس میں شریک فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان سے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓنے کہا: آپ اس نوجوان کو ہمارے ساتھ شریک کرتے ہیں حالاںکہ اس جتنے تو ہمارے بیٹے ہیں؟ حضرت عمرؓنے فرمایا: یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کو تم جانتے ہو۔ ایک دن حضرت عمرؓ نے انھیں بھی بلایا اور مجھے بھی بلایا۔ میں سمجھ گیا کہ مجھے صرف اس لیے بلایا ہے تاکہ وہ لوگ میری (علمی) حیثیت دیکھ لیں۔ اور فرمایا: آپ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اور پھر {اِذَا جَآئَ نَصْرُ اﷲِ وَالْفَتْحُ} سے لے کر آخر تک ساری سورت پڑھی۔
اے محمد! جب خدا کی مدد اور (مکہ کی) فتح(مع اپنے آثار کے) آپہنچے(یعنی واقع ہوجائے)، اور (آثار جو اس پر متفرع ہونے والے ہیں یہ ہیں کہ) آپ لوگوں کو اﷲکے دین (یعنی اسلام) میں جوق درجوق داخل ہوتا ہوا دیکھ لیں، تو اپنے رب کی تسبیح و تحمید کیجیے اور اس سے اِستغفار کی درخواست کیجیے، وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔
ان میں سے کسی نے کہا: اﷲ نے ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ جب اﷲ کی مدد آجائے اور ہمیں فتح نصیب ہوجائے تو ہم اس کی تعریف کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں۔ اور کسی نے کہا: ہمیں معلوم نہیں۔ بعضوں نے کچھ نہیں کہا بلکہ خاموش رہے۔ پھر حضرت عمرؓنے مجھ سے فرمایا: اے ابنِ عباس! کیا تم بھی ایسے ہی کہتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں۔ انھوں نے فرمایا: پھر تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا: اس میں حضورﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کی طرف اشارہ ہے۔ اﷲتعالیٰ نے حضورﷺ کو بتایا ہے کہ جب اﷲ کی مدد آجائے اور مکہ فتح ہوجائے اور تم لوگوں کو دیکھ لو تو یہ آپ کے دنیا سے جانے کے قریب آنے کی نشانی ہے، لہٰذا آپ اپنے ربّ کی تسبیح و تحمید کیجیے اور اس سے مغفرت طلب کیجیے، وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا: مجھے بھی اس سورت کے بارے میں اتنا ہی معلوم ہے جتنا تمھیں معلوم ہے۔1
حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطّابؓسے اﷲتعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا:
{یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآئَ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ}2
اے ایمان والو! ایسی (فضول) باتیں مت پوچھو کہ اگر تم سے ظاہر کردی جاویں تو تمہاری ناگواری کا سبب ہو۔
حضرت عمرؓ نے فرمایا: کچھ مہاجرین کو اپنے نسب میں کچھ شبہ تھا۔ ایک دن یہ لوگ آپس میں کہنے لگے: اﷲ کی قسم! ہمارا دل چاہتا ہے کہ ہمارے نسب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کچھ قرآن نازل فرمادیں تو کیا ہی اچھا ہو۔ اس پر اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جو تم نے ابھی پڑھی تھی۔ پھر حضرت عمرؓ نے مجھ سے فرمایا: تمہارے یہ ساتھی یعنی حضرت علی بن اَبی طالب ؓ اگر امیر بن گئے تو یہ زاہد تو ہوں گے، لیکن مجھے خود بینی کا ڈر ہے کہ کہیں اس میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! ہمارے ساتھی (کے فضائل اور درجے) کو تو آپ جانتے ہیں۔ اﷲ کی قسم! آپ کیا فرما رہے ہیں؟ (حضورﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد) ا ن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور جتنے دن وہ حضورﷺ کے ساتھ رہے کبھی حضورﷺ کو ناراض نہیں کیا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: حضرت فاطمہ ؓ کے ہوتے ہوئے حضرت علیؓنے ابو جہل کی بیٹی کو شادی کا پیغام دینا چاہا تھا جس پر حضور ﷺ کو گرانی ہوئی تھی۔ میں نے کہا: اﷲ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کی نافرمانی کے قصے میں فرمایا ہے:
{وَلَمْ نَجِدْ لَہُ عَزْمًا}1
ہم نے (اس حکم کے اہتمام میں) ان میں پختگی (اور ثابت قدمی) نہ پائی۔
ایسے ہی ہمارے ساتھی نے حضورﷺ کو ناراض کرنے میں پختگی نہ دکھائی (بلکہ جوںہی پتا چلا کہ یہ کام حضورﷺ کو پسند نہیں ہے انھوں نے فوراً اس ارادہ کو چھوڑ دیا)۔ اور یہ تو دل کے وہ خیالات ہیں جن کے آنے کو کوئی نہیں روک سکتا،اور اﷲکے دین کی سمجھ رکھنے والے فقیہ اور اﷲ کے اَحکام کے جاننے والے عالم سے بھی کبھی لغزش ہوجاتی ہے، لیکن جب اسے اس پر متنبہ کیا جائے تو فوراً اسے چھوڑ کر اﷲ کی طرف رجوع کرلیتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اے ابنِ عباس! جو یہ چاہتا ہے کہ تمہارے (علوم کے) سمندر وں میں گھس کر تمہارے ساتھ غوطہ لگائے اور گہرائی تک جاپہنچے، وہ ایسا کام کرنا چاہتا ہے جو اس کے بس میں نہیں(یعنی تم نے اپنے دلائل سے مجھے لاجواب کردیا ہے)۔2
حضرت سعد بن اَبی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداﷲ بن عمرؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں سامنے سے مقصورہ والے حضرت خُباب ظاہر ہوئے اور کہنے لگے: اے عبداﷲ بن عمر! کیا آپ نے وہ حدیث سنی ہے جو حضرت ابو ہریرہ بیان کررہے ہیں؟ وہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو گھر سے ہی جنازہ کے ساتھ چلے اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھے اور پھر دفن تک اس کے پیچھے رہے اس کو دو قیراط اجر ملے گا۔ ایک قیراط اُحُدپہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔ اور جو نمازِ جنازہ پڑھ کر واپس آجائے اس کو اُحُدپہاڑ کے برابر اجر ملے گا، یعنی ایک قیراط اجر ملے گا۔ حضرت ابنِ عمر نے حضرت خُباب کو حضرت عائشہؓ کے پاس بھیج دیا کہ ان سے حضرت ابوہریرہ کی اس حدیث کے بارے میں پوچھو اور وہ جو جواب دیں وہ آکر بتاؤ۔ پھر حضرت ابنِ عمر ایک مٹھی مسجد کی کنکریاں لے کر ہاتھ میں الٹ پلٹ کرتے رہے یہاں تک کہ وہ قاصد یعنی حضرت خباب واپس آگئے اور آکر بتایا کہ حضرت عائشہؓ فرما رہی ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ نے ٹھیک کہا ہے۔ تو ہاتھ میں جو کنکریاں تھیں انھیں حضرت ابنِ عمرنے زمین پر پھینک کر کہا: پھر تو ہم نے اجرو ثواب کے بہت سے قیراط کھودیے۔1
حاکم کی روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا کہ ہمیں نہ تو زمین دارہ کی مشغولی تھی، اور نہ بازار کے کاروبار اور تجارت کی، جس کی وجہ سے ہمیں حضور ﷺ کو چھوڑ کر جانا پڑتاہو۔ میری چاہت تو بس اتنی تھی کہ حضورﷺ مجھے یا تو کوئی کلمہ اور بات سکھادیں یا کھانے کا کوئی لقمہ کھلادیں۔ اس پر حضرت ابنِ عمر نے فرمایا:اے ابوہریرہ! واقعی تم ہم سب سے زیادہ حضورﷺ کو چمٹے رہتے تھے، اسی وجہ سے تم ہم سب سے زیادہ حضور ﷺ کی حدیثوں کو جاننے والے ہو۔2
حضرت ابنِ عبا سؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ کے صحابہؓ سے بہتر کوئی قوم نہیں دیکھی کہ انھوں نے حضورﷺ کی وفات تک حضورﷺ سے صرف تیرہ مسئلے ہی پوچھے جن کا قرآن میں ان الفاظ کے ساتھ ذکر ہے:
{یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ}3
{یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ}4
{وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْیَتٰمٰی}1
{وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ}2
{یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ}3
{وَیَسْئَلُوْنَکَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ}4
(صحابہ آپ سے قابلِ احترام مہینے، شراب اور جوئے، یتیموں، حیض اور مالِ غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ اور صحابہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں)
اور وہ صرف اپنے فائدہ کی بات ہی پوچھا کرتے تھے۔حضرت ابنِ عباسؓ نے یہ بھی فرمایا: بیت اﷲ کا سب سے پہلے فرشتوں نے طواف کیا تھا، اور حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کے درمیان کئی نبیوں کی قبریں ہیں۔ جب کسی نبی کو اس کی قوم بہت زیادہ تکلیف دینے لگتی تو وہ انھیں چھوڑ کر بیت اﷲکے پاس آجاتا تو پھر وفات تک یہاں ہی اﷲ کی عبادت کرتا رہتا۔5
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ انصار کی عورتیں بہت اچھی ہیں، دینی مسئلہ پوچھنے اور دین کی سمجھ حاصل کرنے میں حیا نہیں کرتی ہیں۔6
حضرت اُمِّ سُلَیمؓ فرماتی ہیں کہ میں حضورﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت اُمِّ سَلَمہؓ کی پڑوسن تھی۔ میں نے (ان کے گھر میں جاکر) عرض کیا: یا رسول اﷲ! ذرا یہ بتائیں کہ جب کوئی عورت خواب میں یہ دیکھے کہ اس کے خاوند نے اس سے صحبت کی ہے، تو کیا اسے غسل کرنا پڑے گا؟ یہ سن کر حضرت اُمِ سلمہؓ نے کہا: اے اُمِ سلیم! تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں! تم نے تو اﷲ کے رسول ﷺ کے سامنے عورتوں کو رسوا کردیا۔ میں نے کہا: اﷲتعالیٰ حق بات بیان کرنے سے حیا نہیں کرتے۔ ہمیں جب کسی مسئلہ میں مشکل پیش آئے تو اسے نبی کریم ﷺ سے پوچھ لینا اس سے بہتر ہے کہ ہم ایسے ہی اندھیرے میں رہیں۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا: اے اُمِ سلیم! تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں! اگر اسے (کپڑوں پر یا جسم پر) پانی نظر آئے تو اسے غسل کرنا پڑے گا۔ حضرت اُمِ سلمہؓ نے کہا: کیا عورت کا بھی پانی ہوتا ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: تو پھر بچہ ماں کے کیسے مشابہ ہوجاتا ہے؟یہ عورتیں مزاج اور طبیعت میں مردوں جیسی ہیں۔1
حضرت سعدؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کوئی بات ارشاد فرمادیتے تو بعض لوگ ایک دوسرے سے اس کے بارے میں بہت زیادہ سوالات کرتے اور پھر حضورﷺ سے پوچھنے لگ جاتے۔ جب پوچھنا شروع کرتے تو اس وقت تو وہ چیز حلال ہوتی، لیکن وہ حضورﷺ سے اس کے بارے میں اتنے سوالات کرتے کہ آخر وہ چیز اﷲ کی طرف سے حرام کردی جاتی۔2
حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ لِعان کی آیتیں زیادہ سوالات کرنے کی وجہ سے نازل ہوئیں۔3
ایک دن لوگوں نے حضرت ابنِ مسعودؓسے بہت زیادہ سوالات کیے تو انھوں نے حضرت حارث بن قیس سے فرمایا: اے حار بن قیس!(شفقتًا حارث کو حار کہہ کر پکارا) تمہارا کیا خیال ہے یہ لوگ اتنا زیادہ پوچھ کر کیا کرنا چاہتے ہیں؟ حضرت حارث نے کہا: یہ لوگ تو بس سیکھ کر چھوڑ دیں گے۔ حضرت ابنِ مسعودؓنے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! تم نے ٹھیک کہا۔4
حضرت ابنِ عمرؓ نے فرمایا: اے لوگو! جو چیز ابھی ہوئی نہیں اس کے بارے میں مت پوچھو، کیوںکہ حضرت عمرؓ اس آدمی پر لعنت بھیجتے تھے جو اس چیز کے بارے میں پوچھے جو ابھی ہوئی نہیں۔5
حضرت طاؤس کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓنے فرمایا: کسی کے لیے یہ بات حلال نہیں ہے کہ وہ اس چیز کے بارے میں پوچھے جو ابھی ہوئی نہیں، کیوںکہ اﷲتعالیٰ نے ان تمام امور کے بارے میں فیصلہ فرمارکھا ہے جو آیندہ ہونے والے ہیں۔1
حضرت خارجہ بن زید بن ثابت کہتے ہیں کہ میرے والد حضرت زید بن ثابت ؓ سے جب کوئی چیز پوچھی جاتی تھی تو اس وقت تک اس کے بارے میں اپنی سمجھ سے کوئی جواب نہ دیتے تھے جب تک یہ نہ پوچھ لیتے کہ یہ بات ہوچکی ہے یا نہیں۔ اگر وہ ہوئی نہ ہوتی تو اس کا جواب نہ دیتے اور اگر ہوچکی ہوتی تو پھر اس کے بارے میں گفتگو فرماتے۔ اور جب ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو پوچھتے کہ کیا یہ پیش آچکا ہے؟ تو کوئی آدمی ان سے کہتا: اے ابو سعید! ابھی پیش تو نہیں آیا لیکن ہم پہلے سے اس کا جواب تیار کررہے ہیں۔ یہ فرماتے:اسے چھوڑ دو۔ اور اگر پیش آچکا ہوتا تو اس کا جواب بتادیتے۔
حضرت مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت اُبی بن کعب ؓسے ایک مسئلہ پوچھا تو انھوں نے فرمایا: کیا یہ پیش آچکا ہے؟ میں نے کہا:نہیں۔ تو فرمایا: جب تک یہ پیش نہ آئے اس وقت تک مجھے آرام سے رہنے دو۔2
ابنِ سعد کی روایت میں اس طرح ہے کہ حضرت اُبی ؓ نے فرمایا کہ جب تک یہ پیش نہ آجائے اس وقت تک ہمیں آرام سے رہنے دو۔ جب یہ پیش آجائے گا تب ہم تمہارے لیے کوشش کرکے اپنی رائے بتادیں گے۔
حضرت عامرکہتے ہیں کہ حضرت عمارؓ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا تو پوچھا: کیا یہ مسئلہ پیش آچکا ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔ تو فرمایا: جب تک یہ مسئلہ پیش نہ آجائے اس وقت تک ہمیں چھوڑے رکھو۔ جب یہ پیش آجائے گا تب زور لگا کر اس کا صحیح جوا ب نکال کر تمھیں بتائیں گے۔3