صحابہ کرام ؓ کا ایمان

قرآن سیکھنا اورسکھانا اور پڑھ کر لوگوں کو سنانا

حضرت ابو اُمامہؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضورﷺ کی خدمت میںآکر عرض کیا: یارسول اﷲ! میں نے فلاں قبیلہ کا حصہ خریدا تو مجھے اس میں اتنا اور اتنا نفع ہوا۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا میں تمھیں اس سے زیادہ نفع کی صورت نہ بتادوں؟ اس نے کہا: کیا اس سے زیادہ نفع ہوسکتا ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں، آدمی دس آیتیں سیکھ لے (تو اسے اس سے زیادہ نفع مل جائے گا)۔ چناںچہ وہ آدمی گیا اور اس نے دس آیتیں سیکھیں اور آکر حضورﷺ کو اس کی اطلاع کی۔1 حضرت اُبی بن کعب ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: کیا میں تمھیں ایسی سورت نہ سکھاؤں کہ اس جیسی سورت تورات، انجیل، زبور اور قرآن (کسی آسمانی کتاب) میں نازل نہیں ہوئی؟ میں نے کہا: ضرور سکھائیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: امید ہے اس دروازے سے نکلنے سے پہلے ہی تم اس سورت کو سیکھ لو گے۔ پھر حضورﷺکھڑے ہوگئے اور آپ کے ساتھ میں بھی کھڑا ہوگیا۔ پھر آپ مجھ سے باتیں کرنے لگے۔ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا اور میں اس خیال سے پیچھے ہٹنے لگا کہ حضورﷺ کہیں مجھے بتانے سے پہلے باہر نہ چلے جائیں۔ جب میں دروازے کے قریب پہنچ گیا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! وہ سورت جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو تو کیا پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: سورۂ فاتحہ۔ آپ نے فرمایا:بس یہی ہے، یہی وہ سات آیتیں ہیں جن کو نماز میں بار بار پڑھا جاتا ہے، جن کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ آیت کا نشان}2 اور ہم نے آپ کو سات آیتیں دیںجو (نماز میں) مکرر پڑھی جاتی ہیں اور قرآنِ عظیم دیا۔ یہی وہ چیز ہے جو مجھے خاص طور سے دی گئی ہے۔ 3 حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت طلحہؓ سامنے سے آئے تو دیکھا کہ حضور ﷺ کھڑے ہوئے اَصحابِ صُفّہ کو قرآن پڑھا رہے ہیں اور آپ نے بھوک کی وجہ سے پیٹ مبارک پر پتھر کا ٹکڑا باندھا ہوا ہے تاکہ کمرسیدھی ہوجائے۔1 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابو موسیٰؓ اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آہستہ آہستہ بہت سے لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے تو وہ ان کے سامنے قرآن پڑھنے لگے۔ اتنے میں ایک آدمی نے حضورﷺ کی خدمت میںآکر عرض کیا: یا رسول اﷲ! میںآپ کو حضرت ابو موسیٰؓ کی عجیب بات نہ بتاؤں؟ وہ گھر میں بیٹھے ہوئے تھے، پھر ان کے پاس لوگ جمع ہوگئے تو وہ ان کے سامنے قرآن پڑھنے لگے۔ حضورﷺ نے فرمایا:کیا تم یہ کرسکتے ہو کہ تم مجھے ایسی جگہ بٹھادو جہاں ان میں سے مجھے کوئی نہ دیکھ سکے؟ اس نے کہا:جی ہاں۔ حضور ﷺ تشریف لے گئے اور اس آدمی نے حضورﷺ کو ایسی جگہ بٹھا دیا جہاں حضورﷺ کو ان میں سے کوئی نہیں دیکھ سکتا تھااور وہاں سے حضورﷺ حضرت ابو موسیٰ ؓ کی تلاوت کو سننے لگے۔ پھر حضورﷺنے فرمایا: یہ حضرت داؤد ؑ کے لہجہ جیسی آواز میں قرآن پڑھ رہے ہیں۔2 حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ حضرت اشعریؓ نے مجھے حضرت عمرؓ کے پاس بھیجا۔ حضرت عمرؓ نے مجھ سے فرمایا: اشعری بھائی کو کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو؟ میں نے کہا: میں نے ان کو اس حال میں چھوڑا کہ وہ لوگوں کو قرآن سکھا رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ذرا غور سے سنو! وہ بہت سمجھ دار آدمی ہیں لیکن یہ بات انھیں نہ سنانا۔ پھر فرمایا: تم نے دیہاتیوں کو کس حال میں چھوڑا؟ میں نے کہا: اشعری قبیلہ والے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ بصرہ والے۔ میں نے کہا: اگر یہ بات بصرہ والے سن لیں تو انھیں بہت بری لگے گی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: یہ بات انھیں نہ بتانا لیکن ہیں وہ لوگ دیہاتی ہی۔ البتہ ان میں سے جسے اﷲ جہاد فی سبیل اﷲ کی توفیق دے دے(تو وہ دیہاتی نہیں رہے گا)۔3 حضرت ابورجاء عطاردی کہتے ہیں: حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بصرہ کی اس مسجد میں ہمارے پاس بار بار تشریف لاتے اور ایک ایک حلقہ میں بیٹھتے، اور ان کا یہ منظر اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ انھوں نے دو سفید چادریں پہنی ہوئی ہیں اور مجھے قرآن پڑھارہے ہیں اور میں نے سورۂ{ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ}ان سے ہی سیکھی تھی اور یہ سورت حضرت محمد ﷺ پر سب سے پہلے نازل ہوئی تھی۔1 حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ کا انتقال ہوگیا تو میں نے قسم کھائی کہ دو پٹھوں کے درمیان جو قرآن ہے، جب تک میں اس سارے کو جمع نہیں کرلوں گا اس وقت تک میں اپنی پیٹھ سے چادر نہیں اتاروں گا، یعنی آرام نہیں کروں گا۔ چناںچہ جب تک میں نے سارا قرآن جمع نہیں کرلیا یعنی یاد نہ کرلیا اپنی پیٹھ سے چادر نہیں اتاری، بالکل آرام نہیں کیا۔2 حضرت میمونکہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمرؓ نے چار سال میں سورۂ بقرہ سیکھی۔3 قبیلہ اَشجع کے ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ مدائن شہر میں لوگوں نے سنا کہ حضرت سلمان ؓ مسجد میں ہیں، تو لوگ ان کے پاس آنے لگے یہاں تک کہ ان کے پاس ایک ہزار کے قریب آدمی جمع ہوگئے۔ حضرت سلمانؓکھڑے ہوکر کہنے لگے: بیٹھ جاؤ، بیٹھ جاؤ۔ جب سب بیٹھ گئے تو انھوں نے سورۂ یوسف پڑھنی شروع کردی۔ آہستہ آہستہ لوگ بکھرنے لگے اور جانے لگے اور تقریباً سو کے قریب رہ گئے، تو حضرت سلمان کو غصہ آگیا اور فرمایا: تم لوگ چکنی چپڑی خوش نما باتیں سننا چاہتے ہو۔ میں نے تمھیں اﷲ کی کتاب سنانی شروع کی تو تم چلے گئے۔4 حضرت عبداﷲ بن مسعود ؓ آدمی کو ایک آیت پڑھاتے اور فرماتے: جتنی چیزوں پر سورج کی روشنی پڑتی ہے یا روئے زمین پر جتنی چیزیں ہیں، یہ آیت ان سب سے بہتر ہے۔ اس طرح آپ پورا قرآن سکھاتے اور ہر آیت کے بارے میں یہ ارشاد فرماتے۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جب صبح ہوتی تو لوگ حضرت ابنِ مسعودؓکے پاس ان کے گھر آنے لگتے۔ یہ ان سے فرماتے: سب اپنی جگہ بیٹھ جائیں۔ پھر ان لوگوں کے پاس سے گزرتے جنھیں قرآن پڑھارہے ہوتے اور ان سے فرماتے: اے فلانے! تم کون سی سورت تک پہنچ گئے ہو؟ وہ اس سورت کی آیت بتاتا تو یہ اس سے آگے والی آیت اسے پڑھاتے پھر فرماتے: اس آیت کو سیکھ لو یہ تمہارے لیے ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جو زمین اور آسمان کے درمیان ہیں۔ اور کسی کاغذ پر صرف ایک آیت لکھی ہو اسے دیکھنا بھی دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ پھر دوسری آیت پڑھاتے اور یہی ارشاد فرماتے اور ان سب لوگوں کو یہی بات کہتے۔1 حضرت ابنِ مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے: اس قرآن کو اپنے اوپر لازم سمجھو، کیوںکہ یہ اﷲ کا دسترخوان ہے، اﷲ کے اس دستر خوان سے ہر ایک کو ضرور لینا چاہیے اور علم سیکھنے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔2 حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: یہ قرآن اﷲ کا دستر خوان ہے، جو آدمی اسے جتنا زیادہ سیکھ سکتا ہے اسے اتنا سیکھنا چاہیے۔ خیر سے سب سے زیادہ خالی گھر وہ ہے جس میں اﷲ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو، اورجس گھر میں اﷲ کی کتاب میں سے کچھ نہیں وہ اس اُجاڑ اور ویران گھر کی طرح ہے جس میں رہنے والا کوئی نہ ہو۔ اور جس گھر میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہیں وہ اس اُجاڑاور ویران گھر کی طرح ہے جس میں رہنے والا کوئی نہ ہو۔ اور جس گھر میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے اس گھر سے شیطان نکل جاتا ہے۔3 حضرت حسن کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمرؓکے دروازے پر بہت زیادہ آیا کرتا تھا۔ حضرت عمر ؓ نے اس سے فرمایا: جا، اﷲ کی کتاب سیکھ۔ چناںچہ وہ چلا گیا اور کئی دن تک حضرت عمرؓ کو نظر نہ آیا۔ پھر اس سے حضرت عمر ؓکی ملاقات ہوئی تو حضرت عمر ؓ نے نہ آنے پر اس پر کچھ خفگی کا اظہار کیا تو اس نے کہا: مجھے اﷲکی کتاب میں وہ کچھ مل گیا ہے جس کے بعد عمر کے دروازے کی ضرورت نہیں رہی۔4