صحابہ کرام ؓ کا افراد کو انفرادی طور پر دعوت دینا

حضرت عمیر بن وہب جمحی ؓ کا انفرادی دعوت دینا اور ان کے اسلام لانے کا قصہ

حضرت عروہ بن زُبیر ؓ فرماتے ہیںکہ غزوۂ بدر میں شکست کھانے کی پریشانی کے چند دنوں کے بعد عمیر بن وہب جمحی صفوان بن اُمیَّہ کے ساتھ حطیم میں بیٹھا تھا۔ عمیر بن وہب قریش کے شیطانوں میں سے بڑا شیطان تھا اور حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓکو بہت تکلیف دیا کرتا تھا اور مکہ میں مسلمانوں نے اس کی طرف سے بڑی تکلیفیں برداشت کیں۔ اور اس کا بیٹا وہب بن عمیر بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والوں میں تھا۔ عمیر بن وہب نے قلیبِ بدر کا ذکر کیا جس کنویں میں ستّر کافروں کو قتل کرکے ڈالا گیا تھا اور دیگر مصیبتوں کا بھی تذکرہ کیا۔ تو صفوان نے کہا: اللہ کی قسم! ان لوگوں کے بعد تو اب زندگی میں کوئی مزا نہیں رہا۔ عمیر نے کہا: تم سچ کہتے ہو۔ اللہ کی قسم! اگر مجھ پر قرضہ نہ ہوتا جس کی ادائیگی کا فی الحال میرے پاس کوئی انتظام نہیں ہے اور اپنے پیچھے بال بچوں کے ضائع ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ابھی سوار ہوکر محمد ( ؑ) کے پاس جاتا اور (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ) ان کو قتل کردیتا، کیوں کہ میرے لیے ان کے پاس جانے کا ایک بہانہ ہے اور وہ یہ کہ میرا بیٹا ان کے ہاتھوں میں قید ہے۔ صفوان بن اُمیَّہ نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور کہا: تمہارا قرضہ میرے ذمہ ہے،میں اسے تمہاری طرف سے ادا کردوں گا۔ تمہارے بال بچے میرے بال بچوں کے ساتھ رہیں گے اور جب تک وہ زندہ رہے میںاپنی وسعت کے مطابق اُن کا پورا خیال رکھوں گا۔ عمیر نے کہا: میری اور اپنی یہ باتیں رازمیں رکھنا۔ صفوان نے کہا: ایسا ہی کروں گا۔ عمیر کے کہنے پر تلوار تیز کردی گئی اور زہر میں بجھادی گئی۔ پھر وہاں سے چل کر وہ مدینہ پہنچے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ مسلمانوں کی ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے جنگ ِبدر کے حالات کا تذکرہ کررہے تھے، اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے جو ظاہر کے خلاف فتح سے نوازا اور دشمنوں کو جو کھلی شکست دکھائی اس کا تذکرہ کر رہے تھے۔ اتنے میں حضرت عمر کی نگاہ عمیر بن وہب پر پڑی جو گلے میں تلوار لٹکائے ہوئے مسجد کے دروازے پر اپنی سواری بٹھا چکے تھے۔ حضرت عمر نے کہا: یہ کتا، اللہ کا دشمن ،عمیر بن وہب بری نیت سے ہی آیا ہے۔ اسی نے ہمارے درمیان فساد برپا کیا تھا اور بدر کے دن ہمارا اندازہ لگا کر اپنی قوم کو بتایا تھا۔ چناںچہ حضرت عمر فوراً حضورﷺ کی خدمت میں گئے اور عرض کیا: یا نبی اللہ !یہ اللہ کا دشمن عمیر بن وہب اپنے گلے میں تلوار لٹکائے ہوئے آیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے آؤ۔ چناںچہ حضرت عمر گئے اور عمیر کی تلوار کے پَرتلے کو اس کے گریبان سمیت پکڑ کر کھینچا اور اپنے ساتھ کے انصارسے کہا: تم سب جاکر حضور ﷺ کے پاس بیٹھ جاؤ اور اس خبیث سے ہوشیار رہنا اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ پھر حضرت عمر اسے لے کر حضورﷺ کی خدمت میں آئے۔ جب حضورﷺ نے دیکھا کہ حضرت عمر نے اسے پَرتلے اور گریبان سے پکڑ کر رکھا ہے تو فرمایا: اے عمر! اسے چھوڑ دو۔ اور اے عمیر! قریب آجاؤ۔ عمیر نے قریب آکر کہا: أَنْعِمْ صَبَاحًا(صبح بخیر!) اور جاہلیت والے آپس میں یوں سلام کیا کرتے تھے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے عمیر! اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے اس سلام سے بہتر سلام سے نوازا ہے اور وہ ہے اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ جو کہ جنتیوں کا آپس میں سلام ہوگا۔ عمیر نے کہا: اللہ کی قسم! اے محمد ! میرے لیے تو یہ نئی بات ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے عمیر! تم کیوں آئے ہو؟ اس نے کہا: میں اس قیدی کی وجہ سے آیا ہوں جو آپ کے ہاتھوں میں قید ہے۔ آپ اس پر احسان کریں۔ آپ نے فرمایا: تو پھر گلے میں تلوار لٹکانے کا کیا مقصد ؟ عمیر نے کہا: اللہ ان تلواروں کا برا کرے! کیا یہ تلواریں ہمارے کچھ کام آئیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے سچ بتاؤ کیوں آئے ہو؟ عمیر نے کہا: میں تو صرف اسی لیے آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اور صفوان بن اُمیَّہ حطیم میں بیٹھے تھے۔ تم نے قریش کے اُن لوگوں کا تذکرہ کیا تھا جن کو مار کر بدر کے کنویں میں پھینکا گیا تھا ۔پھر تم نے کہا تھا: اگر مجھ پر قرضہ اور بال بچوں کی ذمہ داری کا بوجھ نہ ہوتا تو میں جاکر (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ) محمد کو قتل کر آتا۔ پھر صفوان بن اُمیَّہ نے تمہارے قرضے اور بال بچوں کی ذمہ داری اس شرط پر اٹھائی کہ تم مجھے قتل کروگے، حالاں کہ اللہ تمہارے اور تمہارے اس ارادے کے درمیان حائل ہے۔ حضرت عمیر نے (یہ سنتے ہی فوراً ) کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ یا رسول اللہ! آپ جو آسمان کی خبریں اور اترنے والی وحی ہمیں بتاتے تھے ہم اس کو جھٹلاتے تھے ،اور یہ تو ایک ایسا واقعہ ہے جس میں میرے اور صفوان کے علاوہ اورکوئی موجود نہیں تھا۔ اللہ کی قسم! مجھے پورا یقین ہے کہ یہ بات آپ کو اللہ ہی نے بتائی ہے۔ لاکھ لاکھ شکر ہے اس اللہ کا جس نے مجھے اِسلام کی ہدایت سے نوازا اور مجھے یہاں کھینچ کر لایا۔پھر انھوں نے کلمۂ شہادت پڑھا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی (عمیر)کو دین کی باتیں سکھاؤ اور قرآن اسے پڑھاؤ اور اس کے قیدی کو چھوڑ دو۔ چناںچہ صحابہ ؓ نے ایسا ہی کیا۔ پھر حضرت عمیرؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اللہ کے نور کو مٹانے کے لیے بہت کوشش کیا کرتا تھا اور اللہ کے دین والوں کو بہت زیادہ تکلیف پہنچایا کرتا تھا ۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں مکہ جاکر مکہ والوں کو اللہ ورسول کی طرف اور اِسلام کی طرف دعوت دوں، اُمید ہے اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت دے دیں گے، ورنہ میں ان کو ان کے دین کی وجہ سے ایسے ہی تکلیفیںدوں گا جیسے میں آپ کے صحابہ کو دین کی وجہ سے دیا کرتا تھا۔ چناںچہ حضور ﷺ نے اُن کواجازت دے دی اور وہ مکہ چلے گئے۔ حضرت عمیر بن وہب کے مکہ سے روانہ ہونے کے بعد صفوان یہ کہا کرتا تھا: اے لوگو! چند دنوں کے بعد تمہیں ایک ایسی خوش خبری ملے گی جو تمہیں بدر کی ساری مصیبتیں بھلادے گی۔ صفوان حضرت عمیر کے بارے میں آنے والے سواروں سے پوچھا کرتا تھا، یہاں تک کہ ایک سوار نے آکر انھیں بتایا کہ عمیر تو مسلمان ہوچکے۔ (یہ سن کر) صفوان نے اس بات کی قسم کھائی کہ نہ تو وہ کبھی عمیر سے بات کرے گا اور نہ اُس کے کسی کام آئے گا ۔ 1 ابنِ جریر نے حضرت عروہ سے لمبی حدیث بیان کی ہے جس میں یہ مضمون بھی ہے کہ حضرت عمیر ؓ مکہ واپس آکر اِسلام کی دعوت میں مشغول ہوگئے اور جو اُن کی مخالفت کرتا اسے سخت تکلیفیں پہنچاتے، چناںچہ اُن کے ہاتھوں بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔ 2حضرت عروہ بن زُبیر ؓ سے مرسلاً مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عمیر ؓ کو ہدایت دی تو مسلمان بہت خوش ہوئے، اور حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ جس دن عمیر آئے تھے اس دن وہ خنزیر سے بھی زیادہ برے لگ رہے تھے اور آج وہ مجھے اپنے بیٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ 3 حضرت عمرو بن اُمیَّہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمیر بن وہب ؓ مسلمان ہونے کے بعد مکہ آئے تو سیدھے اپنے گھر گئے اور صفوان بن اُمیَّہ سے نہ ملے اور اپنے اِسلام کا اظہار کیا اور اس کی دعوت دینے لگ گئے۔ جب صفوان کو یہ خبر پہنچی تو اس نے کہا: میں تو اسی وقت سمجھ گیا تھا جب عمیر میرے پاس پہلے نہیں آئے بلکہ سیدھے اپنے گھر چلے گئے کہ عمیر جس مصیبت سے بچنا چاہتا تھا اسی میں جاگرا اور بددین ہوگیا۔ اور میں نہ کبھی اس سے بات کروں گا اور نہ کبھی اس کا اور اس کے بال بچوں کا کوئی کام کروں گا۔ ایک دن صفوان حطیم میں تھاکہ اتنے میں حضرت عمیر نے اس کے پاس کھڑے ہوکر اسے آواز دی۔صفوان نے منہ پھیر لیا تو اس سے حضرت عمیر نے کہا: تم ہمارے سرداروں میں سے ایک سردار ہو، آپ بتاؤ کہ ہم جو پتھروں کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان کے نام پر جو جانور ذبح کرتے تھے کیا یہ بھی کوئی دین ہے ؟ أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔ صفوان نے اُن کو کوئی جواب نہ دیا ۔1 صفوان بن اُمیَّہ کے اِسلام لانے کے بارے میں حضرت عمیر ؓ نے جو کوشش کی اس کا تذکرہ صفحہ ۲۴۰ پر گزر چکا ہے۔