صحابہ کرام ؓ کا افراد کو انفرادی طور پر دعوت دینا
حضرت طُلَیْب بن عمیر ؓ کا انفرادی دعوت دینا
حضرت محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی کہتے ہیں کہ جب حضرت طُلَیْب بن عمیر ؓ مسلمان ہوئے اور اپنی والدہ اَرویٰ بنت عبدالمطّلب کے پاس گئے تو ان سے کہا: میں مسلمان ہوچکا ہوں اور محمدﷺ کا اِتباع کرچکا ہوں۔ اور پورا قصہ بیان کیا اور اس میں یہ بھی ہے کہ انھوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ اِسلام لانے سے اور حضورﷺ کا اتباع کرنے سے آپ کو کون سی چیز مانع ہے؟ آپ کے بھائی حضرت حمزہ ؓ بھی مسلمان ہوچکے ہیں۔ انھوںنے کہا کہ میں اس انتظار میں ہوں کہ میری بہنیں کیاکرتی ہیں؟ میں بھی انھی کاساتھ دوں گی۔حضرت طُلَیْب کہتے ہیں: میں نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ ضرور حضور ﷺ کی خدمت میں جائیں اور اُن کو سلام کریںاور اُن کی تصدیق کریں اور اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ (ان پر ایسا اثر پڑا کہ اسی وقت) انھوں نے کلمۂ شہادت أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھ لیا۔ اس کے بعد وہ اپنی زبان سے حضور ﷺ کی بہت مدد کیا کرتی تھیں، اور اپنے بیٹے کو حضور ﷺ کی مدد کرنے اور آپ کے کام کو لے کر کھڑے ہوجانے کی ترغیب دیتی رہتی تھیں۔1
حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت طُلَیْب بن عمیرؓ دارِاَرقم میں مسلمان ہوئے پھر وہاں سے نکل کر اپنی والدہ اَرویٰ بنت عبدالمطّلب کے پاس آئے اور ان سے کہا: میں محمد ﷺ کا اتباع کرچکا ہوں اور اللہ ربّ العالمین کا فرماں بردار ہوچکا ہوں۔ ان کی والدہ نے کہا: تمہاری مدد اور نصرت کے سب سے زیادہ حق دار تمہارے ماموں زاد بھائی ہی ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر ہم عورتوں میں مردوں جیسی طاقت ہوتی تو ہم بھی آپ کا اتباع کرتیں اور آپ کی طرف سے پورا دفاع کرتیں۔ حضرت طُلَیْب فرماتے ہیں: میں نے اپنی والدہ سے کہا: اے اماں جان! آپ کو کون سی چیز اِسلام سے مانع ہے؟ آگے ویسی ہی حدیث ذکر کی جیسی پہلے گزر چکی ہے۔ 2