صحابہ کرام ؓ کا ایمان
قرآن کی وہ آیات جن کی مراد اﷲتعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان کے بارے میں سوال کرنے والے پر سختی
حضرت ابنِ عمرؓ کے ایک آزاد کردہ غلام کہتے ہیں کہ صَبِیغ عراقی ملکِ شام کے مسلمان لشکروں میں قرآن کی (ان) چیزوں کے بارے میں پوچھنے لگا (جن کی مراد اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا)۔ وہ چلتے چلتے مصر پہنچ گیا تو حضرت عمر وبن عاص ؓ نے اسے حضرت عمر بن خطّاب ؓ کے پاس بھیج دیا۔ جب اُن کا قاصد خط لے کر حضرت عمر ؓکے پاس آیا تو حضرت عمر ؓ نے خط پڑھ کر فرمایا: وہ آدمی کہاں ہے؟ قاصد نے کہا: قیام گاہ میںہے۔ حضرت عمرؓنے فرمایا: اس پر نگاہ رکھنا وہ کہیں چلانہ جائے، ورنہ تمھیں سخت سزادوں گا۔ قاصد اسے حضرت عمرؓ کے پاس لے آیا۔ حضرت عمرؓ نے اس سے پوچھا: تم کیا پوچھتے ہو؟ اس نے اپنے سوالات بتائے۔ حضرت عمرنے میرے پاس پیغام بھیجا کہ کھجور کی ٹہنی لاؤ(میں نے جاکر اُن کو ٹہنی لادی)۔ انھوں نے صَبِیغ کو اس ٹہنی سے اتنا مارا کہ اس کی پیٹھ زخمی ہوگئی۔ پھر حضرت عمرؓنے اسے چھوڑ دیا۔ جب اس کی پیٹھ ٹھیک ہوگئی تو اسے پھر ٹہنی سے اتنا مارا کہ اس کی پیٹھ زخمی ہوگئی اور اسے چھوڑ دیا۔
جب اس کی پیٹھ ٹھیک ہوگئی اور اسے مارنے کے لیے تیسری مرتبہ بلایا توصَبِیغ نے کہا: اے امیر المؤمنین! اگر آپ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں تو اچھی طرح قتل کریں، اور اگر آپ میرا علاج کرنا چاہتے ہیں تو اب میں ٹھیک ہوگیا ہوں (قرآن کی متشابہ آیات کے بارے میں پوچھنے اور گفتگو کرنے سے میں نے توبہ کرلی ہے)۔ اس پر حضرت عمرؓ نے اسے اپنے علاقہ میں جانے کی اجازت دے دی اور (وہاں کے گورنر) حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو لکھا کہ صبیغ کے ساتھ کوئی مسلمان نہ بیٹھا کرے۔ اس سے صبیغ بہت زیادہ پریشان ہوا۔ پھر حضرت ابو موسیٰؓ نے حضرت عمرؓ کو لکھا کہ اب صبیغ کی حالت ٹھیک ہوگئی ہے۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے انھیں لکھا کہ اب لوگوں کو اس کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی اجازت دے دو۔1
حضرت سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ بنوتمیم کے ایک آدمی کو صبیغ بن عسل کہا جاتا تھا۔ وہ مدینہ منورہ آیا۔ اس کے پاس چند کتابیں تھیں اور وہ قرآن کی متشابہ آیات کے بارے میں پوچھاکرتا تھا(جن کی مراد اﷲکے سوا کوئی نہیں جانتا)۔ حضرت عمرؓ کو اس کی اطلاع ملی تو اس کے لیے کھجور کی ٹہنیاں تیار کروائیں اور آدمی بھیج کر اسے بلایا۔ جب وہ حضرت عمر کے پاس آیا تو اس سے پوچھا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں اﷲ کا بندہ صبیغ ہوں۔ حضرت عمرنے فرمایا: میں اﷲ کا بندہ عمر ہوں۔ پھر حضرت عمرنے اشارہ کرکے اسے ٹہنیوں سے مارنا شروع کردیا، اور اتنا مارا کہ اس کا سر زخمی ہوگیا اور خون اس کے چہرے پر بہنے لگا، تو صبیغ نے کہا:اے امیر المؤمنین! اب بس کردیں، اﷲکی قسم! میرے دماغ میں جو (شیطان) گھسا ہوا تھا وہ اب جاتا رہا۔1
ابو عثمان کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے ہمیں خط لکھا کہ اس کے ساتھ نہ بیٹھو۔ چناںچہ جب وہ آتا اور ہم سو(۱۰۰) آدمی بھی ہوتے تو ہم بکھر جاتے۔
حضرت سعید بن مسیّب کہتے ہیں کہ صَبِیغ تمیمی حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور اس نے سورۂ ذاریات کے بارے میں ان سے پوچھا۔آگے اور حدیث ذکر کی۔2
ابنِ اَنباری کی روایت میں یہ ہے کہ پہلے تو صَبِیغ اپنی قوم کا سردار تھا، لیکن اس واقعہ کے بعد اس کی قوم میں اس کی کوئی حیثیت نہ رہی۔3
حضرت حسن کہتے ہیں: کچھ لوگ مصر میں حضرت عبداﷲ بن عمر وؓ سے ملے اور اُن سے کہا:ہمیں اﷲ کی کتاب میں ایسی چیزیں نظر آرہی ہیں جن پر عمل کرنے کا اﷲ نے حکم دیا ہے لیکن ان پر عمل نہیں ہورہا، اس لیے ہم اس بارے میں امیر المؤمنین سے ملنا چاہتے ہیں۔ چناںچہ حضرت ابنِ عمروؓ مدینہ آئے اور یہ لوگ بھی ان کے ساتھ مدینہ آئے۔ حضرت ابنِ عمر وؓ نے حضرت عمرؓ سے ملاقات کی اور عرض کیا: اے امیر المؤمنین! کچھ لوگ مجھ سے مصر میں ملے تھے اور انھوں نے کہا تھا کہ ہمیں اﷲ کی کتاب میں ایسی چیزیں نظر آرہی ہیں جن پر عمل کرنے کا اﷲ نے حکم دیا ہے لیکن ان پر عمل نہیں ہورہا، اس لیے اس بارے میں وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ حضرت عمرنے فرمایا: انھیں اکٹھا کرکے میرے پاس لے آؤ۔ چناںچہ حضرت ابنِ عمر وؓ انھیں اکٹھا کر کے حضرت عمرؓ کے پاس لے آئے۔ ان میں سے جو حضرت عمر کے سب سے زیادہ قریب تھا اسے حضرت عمرنے بلایا اور فرمایا: میں تمھیں اﷲ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے سارا قرآن پڑھا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ حضرت عمرنے فرمایا: کیا تم نے سارا دل میں جما لیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ حضرت عمرنے فرمایا: کیا تم نے سارا نگاہ میں بٹھا لیاہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیا تم نے ساراقرآن یا د کرلیا ہے؟ کیا تم نے سارے پر عمل کرلیا ہے؟ پھر ان میں سے ایک ایک کو بلاکر ہر ایک سے یہی سوالات کیے، پھر فرمایا: عمر کو اس کی ماں گم کرے! کیا تم عمر کو اس بات کا مکلف بناتے ہو کہ وہ تما م لوگوں کو قرآن پر عمل کرنے کے لیے کھڑا کردے۔ ہمارے ربّ کو پہلے سے معلوم ہے کہ ہم سے خطائیں سرزد ہوں گی۔ پھر یہ آیت پڑھی:
{اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآئِرَ مَا تُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰ تِکُمْ وَنُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلًا کَرِیْمًا آیت کا نشان}1
جن کاموں سے تم کو منع کیا جاتا ہے ان میں جو بھاری بھاری کام ہیں اگر تم ان سے بچتے رہے تو ہم تمہاری خفیف برائیاں تم سے دور فرمادیں گے اور ہم تم کو ایک معزز جگہ میں داخل کردیں گے۔
پھر حضرت عمرؓنے فرمایا: کیا مدینہ والوں کو معلوم ہے کہ تم لوگ کس وجہ سے آئے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اگر انھیں معلوم ہوتا تو میں تمہارے اوپر رکھ کر ان کو بھی یہی نصیحت کرتا۔2