صحابہ کرام ؓ کا ایمان

قرآن کی مشغولی کو ترجیح دینا

حضرت قَرَظہ بن کعب ؓ فرماتے ہیں: ہم عراق کے ارادے سے (مدینہ سے) نکلے تو حضرت عمر بن خطّابؓ بھی ہمارے ساتھ حِراء مقام تک چلے (جو مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے)۔ پھر آپ نے وضو کرکے فرمایا: کیا آپ لوگ جانتے ہیںکہ میں آپ لوگوں کے ساتھ کیوں چلا؟ ساتھیوں نے کہا: جی ہاں، ہم لوگ حضورﷺ کے صحابہ ہیںاس لیے آپ ہمارے ساتھ چلے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: (یہ وجہ تو خیر ہے ہی، لیکن اصل میں میں آپ لوگوں کو ایک خاص بات کہنا چاہتا تھا اور وہ یہ ہے کہ) تم لوگ ایسے علاقہ میں جارہے ہو کہ وہاں کے لوگ شہد کی مکھی جیسی دھیمی آواز سے قرآن پڑھتے ہیں۔ ان کے سامنے احادیث بیان نہ کرنا ورنہ وہ (قرآن کو چھوڑ کر) تمہارے ساتھ (احادیث میں) مشغول ہوجائیں گے، بلکہ قرآن کو (احادیث سے) الگ تھلگ رکھو اور حضورﷺ کی طرف سے روایت کم کرو اور اب جاؤ میں تمہارے ساتھ (اجر میں) شریک ہوں۔ جب حضرت قرظہ (عراق) پہنچے تو لوگوں نے کہا: آپ ہمیں حدیثیں سنائیں۔فرمایا: حضرت ابنِ خطّاب ؓ نے ہمیں اس کام سے روکا ہے۔1 ابنِ عبدالبر کی ایک روایت میں یہ ہے: ان کو احادیث نہ سنانا ورنہ تم ان کو ان ہی میں مشغول کردوگے اور قرآن عمدہ طریقہ سے پڑھنا۔ دوسری روایت میں یہ ہے کہ پھر حضرت عمر ؓ نے ہم سے فرمایا: کیا تم جانتے ہو میں آپ لوگوں کے ساتھ کیوں نکلا؟ ہم نے کہا: آپ ہمیں رخصت کرنا چاہتے ہیں اور ہمارا اکرام کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے فرمایا: یہ تو ہے ہی، لیکن میں ایک اور ضرورت کی وجہ سے نکلا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تم ایسے علاقہ میں جارہے ہو۔ اور پھر آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔2