صحابہ کرام ؓ کا ذکر

نبی کریم ﷺ کے صحابۂ کرامؓ کا ذکر کرنے کاشوق

حضرت عبداﷲبن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں صبح سے لے کر شام تک سارا دن اﷲکا ذکر کرتا رہوں، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں صبح سے لے کر شام تک سارا دن لوگوں کو سواری کے لیے عمدہ گھوڑے دیتا رہوں۔2 حضرت ابو عبیدہ بن عبداﷲبن مسعود ؓ فرماتے ہیں: حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ کو اﷲ کے ذکر کے علاوہ کوئی اور بات کرنے سے بہت گرانی ہوتی تھی۔3 طبرانی کی ایک روایت میں یہ ہے حضرت عبد اﷲبن مسعودؓ صبح صادق سے لے کر فجر کی نماز تک کسی کو بات کرتے ہوئے سنتے تو اس سے اُن کو بہت گرانی ہوتی۔ طبرانی کی دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضرت عطاء کہتے ہیں: حضرت ابنِ مسعود ؓ باہر آئے تو دیکھا کہ فجر کے بعد کچھ لوگ باتیں کررہے ہیں۔ انھوں نے ان لوگوں کو بات کرنے سے منع کیا اور فرمایا: تم لوگ یہاں نماز کے لیے آئے ہو، اس لیے یا تو نماز پڑھو یا چپ رہو۔4 حضرت ابو الدرداء ؓ نے فرمایا: سو دفعہ اللّٰہ أکبر کہنا مجھے سو دینار صدقہ کرنے سے زیادہ پسند ہے۔5 حضرت معاذ بن جبلؓنے فرمایا: صبح سے لے کر رات تک اﷲکا ذکر کرنا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں صبح سے لے کر رات تک اﷲکے راستہ میں(مجاہدوں کو) عمدہ گھوڑے سواری کے لیے دیتا رہوں۔1 حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ ایک سفر میں حضرت ابو موسیٰؓ کے ساتھ چل رہے تھے انھوں نے لوگوں کو فصیح اور بلیغ باتیں کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: اے انس! مجھے ان لوگوں سے کیا تعلق؟ آؤ ہم اپنے ربّ کا ذکر کریں، کیوں کہ یہ لوگ تو اپنی زبان سے کھال اُدھیڑ دیں گے۔ اس کے بعد آگے ویسی حدیث ذکر کی جیسی ’’آخرت پر ایمان لانے‘‘ کے باب میں گزر چکی ہے۔2 حضرت معاذ بن عبداﷲ بن رافع کہتے ہیں: میں ایک مجلس میں تھا جس میں حضرت عبداﷲبن عمر، حضرت عبداﷲبن جعفر اور حضرت عبداﷲبن اَبی عُمیرہ ؓ بھی تھے۔ حضرت ابنِ اَبی عُمیرہؓ نے فرمایا: میں نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میںنے حضرت محمدﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ دو کلمے ایسے ہیں کہ ان میں سے ایک تو عرش تک پہنچ کرہی رکتا ہے اس سے پہلے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ اور دوسرا زمین و آسمان کے درمیان کے خلا کو بھر دیتا ہے۔ اور وہ ہیں: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ۔ حضرت ابنِ عمرؓ نے حضرت ابنِ اَبی عمیر ہؓ سے کہا: کیا آپ نے خود ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ اس پر حضرت ابنِ عمرؓ اتنا روئے کہ آنسو ؤں سے ان کی ڈاڑھی تر ہوگئی (انھیں اس بات کا غم تھا کہ مجھے اب تک حضورﷺ کی یہ بات معلوم کیوں نہیں تھی)،پھر فرمایا: ہمیں ان دونوں کلمات سے بہت تعلق اور محبت ہے۔3 حضرت جُریری کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالکؓنے ذاتِ عرق مقام سے اِحرام باندھا، اور پھراِحرام کھولنے تک ہم نے انھیں اﷲکے ذکر کے علاوہ اور کوئی بات کرتے ہوئے نہیں سنا۔ اِحرام کھول کر مجھ سے فرمایا: اے بھتیجے! اِحرام اس طر ح ہوا کرتا ہے۔4