صحابہ کرام ؓ کا ذکر
اﷲکے ذکر کی مجلسیں
حضرت ابو سعید خُدریؓ فرماتے ہیں: حضورﷺنے فرمایا: اﷲتعالیٰ قیامت کے دن فرمائیںگے: عن قریب حشر والوں کو پتا چل جائے گا کہ کرم والے کون ہیں۔ کسی نے پوچھا: یا رسول اﷲ! کرم والے کون ہیں؟ حضورﷺنے فرمایا: ذکر کی مجلسوں والے۔1
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے نَجد کی طرف ایک لشکر بھیجا۔ یہ لشکر بہت سا مالِ غنیمت لے کر جلد ہی واپس آگیا۔ ایک آدمی جو اس لشکر کے ساتھ نہیں گیا تھا اس نے کہا: ہم نے اس جیسا کوئی لشکر نہیں دیکھا جو اتنا زیادہ مالِ غنیمت لے کر اتنی جلدی لوٹ آیا ہو۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا میں تمھیں ایسے لوگ نہ بتادوں جو اِن سے زیادہ مالِ غنیمت لے کر ان سے بھی جلدی واپس آگئے ہوں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو صبح کی نمازمیں شریک ہوکر پھر اپنی جگہوں میں بیٹھ کر سورج نکلنے تک اﷲکا ذکر کرتے رہیں۔ یہ ہیں وہ لوگ جو اِن سے زیادہ مالِ غنیمت لے کر ان سے بھی زیادہ جلدی واپس آگئے ہیں۔
ایک روایت میں یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو صبح کی نماز پڑھیں، پھر اپنی جگہوں میں بیٹھ کر سورج نکلنے تک اﷲکا ذکر کرتے رہیں، پھر دو رکعت نماز پڑھ کر اپنے گھر واپس جائیں، یہ ہیں وہ لوگ جو اِن سے زیادہ مالِ غنیمت لے کر ان سے زیادہ جلدی واپس آگئے ہیں۔2
حضرت عبدالرحمن بن سہل بن حُنَیف ؓ فرماتے ہیں:حضورﷺ اپنے ایک گھر میں تھے آپ پر یہ آیت نازل ہوئی:
{وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِيِّ}3 آخر تک۔
اور آپ اپنے کو ان لوگوں کے ساتھ مقید رکھا کیجیے جو صبح وشام (یعنی علی الدوام) اپنے ربّ کی عبادت محض اس کی رضا جوئی کے لیے کرتے ہیں۔
حضور ﷺ ان کو تلاش کرنے نکلے تو دیکھا کہ کچھ لوگ اللہ کا ذکر کررہے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کے سرکے بال بکھرے ہوئے ہیں اور کچھ لوگوں کی کھالیں خشک ہیں اور کچھ لوگوں کے پاس صرف ایک ہی کپڑاہے۔ آپ ان کے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری اُمّت میں ایسے لوگ پیدا کیے جن کے پاس بیٹھنے کا مجھے حکم دیا۔1
حضرت ابنِ عباسؓفرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ کا حضرت عبداللہ بن رواحہؓ پر گزرہوا وہ اپنے ساتھیوں میں بیان کررہے تھے۔ حضورﷺ نے فرمایا: غور سے سنو! تم لوگ ہی وہ جماعت ہو جن کے پاس بیٹھنے کا اللہ نے مجھے حکم دیاہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی:
{وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِيِّ}سے لے کر {وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًاآیت کا نشان} تک۔
غورسے سنو! تم لوگ جتنے بیٹھے ہو اتنے ہی تمہارے ساتھ فرشتے بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگر تم سُبْحَانَ اللّٰہِکہو گے تو وہ بھی سُبْحَانَ اللّٰہِ کہیں گے اور اگر تم اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہو گے تو وہ بھی اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ہیں گے، اگر تم اَللّٰہِ أَکْبَرُ کہوگے تو وہ بھی اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہیں گے۔ پھر (مجلس ختم ہوجانے پر) وہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے پاس اوپر چلے جائیں گے، حالاںکہ اللہ تعالیٰ ان سے زیادہ جانتے ہیں، لیکن پھر بھی وہ عرض کریں گے: اے ہمارے ربّ! تیرے بندے سُبْحَانَ اللّٰہِ کہتے رہے تو ہم بھی سُبْحَانَ اللّٰہِکہتے رہے اور وہ اَللّٰہِ أَکْبَرُکہتے رہے تو ہم بھی اَللّٰہِ أَکْبَرُ کہتے رہے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِکہتے رہے تو ہم بھی اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہتے رہے۔ پھر ہمارے ربّ فرمائیں گے: اے میرے فرشتو! میں تمھیں اس بات پر گواہ بناتاہوں کہ میں نے ان کی مغفرت کردی ہے۔ وہ فرشتے عرض کریں گے کہ ان میں تو فلاں فلاں خطا کار بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا۔ 2
حضرت ثابت بُنانی کہتے ہیں: حضرت سلمان ؓ ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے جو اللہ تعالیٰ کا ذکرکررہے تھے، حضورﷺ ان کے پاس سے گزرے تو انھوں نے ذکرکرنا چھوڑدیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: آپ لوگ کیا کررہے تھے؟ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اللہ کا ذکرکررہے تھے۔ حضورﷺ نے فرمایا: ذکرکرتے رہو، کیوںکہ میں نے آپ لوگوں پر رحمت کو اُترتے ہوئے دیکھاہے، اس لیے میں نے چاہا کہ میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ اس رحمت میں شامل ہوجائوں۔ پھر فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری اُمّت میں ایسے لوگ بنائے ہیں جن کے ساتھ بیٹھنے کا مجھے حکم دیاگیاہے۔1
حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی بہت سی جماعتیں مقرر فرما رکھی ہیں جو کہ زمین پر اللہ کے ذکر کی مجلسوں میں اُترتی ہیں اور ان کے پاس ٹھہرتی ہیں، لہٰذا تم جنت کے باغوں میں چراکرو۔ صحابہ نے پوچھا: جنت کے باغ کہاں ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا: ذکرکی مجلسیں (جنت کے باغ ہیں)۔ صبح شام اللہ کا ذکر کیاکرو، بلکہ اپنے آپ کو ہمیشہ اللہ کے ذکر میں مشغول رکھو۔ جو یہ جاننا چاہتاہے کہ اللہ کے ہاں اس کا کیا مرتبہ ہے، تو اس کو چاہیے کہ وہ یہ دیکھ لے کہ اس کے نزدیک اللہ کا کیا مرتبہ ہے؟ کیوںکہ بندہ اللہ کو اپنے نزدیک جو درجہ دیتاہے اللہ تعالیٰ بھی اپنے ہاں اس بندے کو وہی درجہ دیتے ہیں۔2
حضرت جابر بن سَمُرہ ؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو بیٹھ جاتے اور سورج نکلنے تک اللہ کا ذکر کرتے رہتے۔3
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ذکر کی مجلسوں کا ثواب کیاہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: ذکر کی مجلسوں کا ثواب جنت ہے جنت۔1
حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: ذکر کی مجلسیں علم زندہ ہونے کا ذریعہ ہیں اور یہ مجلسیں دلوں میں خشوع پیدا کرتی ہیں۔2