صحابہ کرام ؓ کا ذکر

قرآن مجید کی تلاوت

حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کچھ وصیت فرمادیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اللہ سے ڈرنے کو اپنے لیے ضروری سمجھو کیوںکہ یہ تمام کاموں کی جڑ ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کچھ اور وصیت فرمادیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: قرآن کی تلاوت کو ضروری سمجھو، کیوںکہ تلاوت زمین پر تمہارے لیے نور اور آسمان میں تمہارے لیے ثواب کا ذخیرہ ہے۔1 حضرت اَوس بن حذیفہ ثقفی ؓ فرماتے ہیں کہ ہم قبیلۂ ثقیف کا وفد بن کر حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم میں سے جو اَحلافی تھے وہ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے ہاں ٹھہرے اور مالکی حضرات کو حضورﷺ نے اپنے خیمہ میں ٹھہرایا۔ حضورﷺ عِشا کے بعد ہمارے پاس تشریف لاتے اور ہم سے (کھڑے کھڑے) باتیں کرتے اور اتنی دیر کھڑے رہتے کہ آپ (تھک جاتے اور) باری باری دونوں پائوں پر آرام فرماتے۔ زیادہ تر آپ قریش کی شکایت کرتے اور فرماتے: مکہ میں ہمیں کمزور سمجھاجاتاتھا، جب ہم مدینہ آگئے تو ہم نے ان سے بدلہ لینا شروع کردیا، اور لڑائیوں میں کبھی وہ جیتتے اور کبھی ہم۔ حضورﷺ روزانہ جس وقت ہمارے پاس تشریف لاتے ایک رات اس سے دیر سے تشریف لائے، تو ہم نے عرض کیا: یارسول اللہ! آپ روزانہ جس وقت ہمارے پاس تشریف لایا کرتے تھے آج اس سے دیر سے تشریف لائے ہیں (اس کی کیا وجہ ہے)؟ آپ نے فرمایا: میں نے قرآن کی ایک مقدار روزانہ پڑھنے کے لیے مقرر کررکھی ہے، وہ آج کسی وجہ سے پوری نہ ہوسکی اس لیے میں نے چاہا کہ اسے پورا کرکے پھر آپ لوگوں کے پاس آئوں۔ اگلے دن صبح کو ہم نے حضورﷺ کے صحابہ سے پوچھا کہ انھوں نے قرآن ختم کرنے کے کتنے حصے بنارکھے ہیں؟ انھوں نے بتایا کہ (قرآن ختم کرنے کے لیے سات حصے بنارکھے ہیں) پہلے حصے میں سورۂ فاتحہ کے بعد والی تین سورتیں، دوسرے حصے میں اس کے بعد والی پانچ سورتیں، تیسرے حصے میں اس کے بعد والی سات سورتیں، چوتھے حصے میں اس کے بعد والی نو سورتیں، پانچویں حصے میں اس کے بعد والی گیارہ سورتیں، چھٹے حصے میں اس کے بعد والی تیرہ سورتیں اور ساتویں حصے میں مفصل والی سورتیں۔1 ابوداود کی روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: اسے پورا کیے بغیر میں آجائوں اسے میں نے اچھانہ سمجھا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ مکہ اور مدینہ کے درمیان ٹھہرے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک آدمی نے حضورﷺ سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ حضورﷺ نے فرمایا: روزانہ میں جتنا قرآن پڑھتا تھا آج رات وہ رہ گیا ہے، اس پر میں کسی چیز کو ترجیح نہیں دے سکتا (میں وہ پڑھ رہاہوں اس لیے ابھی اجازت نہیں ہے)۔2 حضرت ابوسلمہکہتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ حضرت ابوموسیٰ ؓ سے فرمایا کرتے: ہمیں ہمارے ربّ کی یاد دلائو تو حضرت ابو موسیٰ ؓ قرآن پڑھ کر سنایا کرتے۔3 حضرت حبیب بن اَبی مرزوقکہتے ہیں: ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ بعض دفعہ حضرت عمر بن خطّابؓ حضرت ابو موسیٰ ؓ سے فرمایاکرتے: ہمیں ہمارے ربّ کی یاد دلائو۔ تو حضرت ابوموسیٰ قرآن پڑھاکرتے۔ وہ بہت اچھی آواز سے قرآن پڑھاکرتے تھے۔ حضرت ابونَضرہ کہتے ہیں: حضرت عمرؓ نے حضرت ابوموسیٰؓ سے فرمایا: ہمیں ہمارے ربّ کا شوق دلائو۔ وہ قرآن پڑھنے لگے۔ لوگوں نے کہا: نماز۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیا ہم نماز میں نہیں ہیں؟ حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطّابؓ جب گھر تشریف لے جاتے تو قرآن کھول کر اسے پڑھاکرتے۔4 حضرت عثمانؓ نے فرمایا: میں یہ چاہتاہوں کہ جودن یا رات آئے میں اس میں قرآن دیکھ کر پڑھاکروں۔1 حضرت عثمان ؓ نے فرمایا: اگر تمہارے دل پاک ہوتے تو تم لوگ کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے کلام سے سیر نہ ہوتے۔2 حضرت حسن کہتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفّان ؓ نے فرمایا: اگر ہمارے دل پاک ہوتے تو ہم اپنے ربّ کے کلام سے کبھی بھی سیر نہ ہوتے اور مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میری زندگی میں کوئی دن ایسا آئے جس میں میں دیکھ کر قرآن نہ پڑھوں۔ چناںچہ حضرت عثمانؓ دیکھ کر اتنا زیادہ قرآن پڑھاکرتے تھے کہ ان کے انتقال سے پہلے ہی ان کا قرآن پھٹ گیاتھا۔3 حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: ہمیشہ دیکھ کر قرآن پڑھاکرو۔4 حضرت حبیب بن شہیدکہتے ہیں کہ حضرت نافع سے کسی نے پوچھا کہ حضرت ابنِ عمر ؓ اپنے گھر میں کیا کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جو وہ کیا کرتے تھے لوگ اسے نہیں کرسکتے۔ وہ ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے اور ہر دو نمازوں کے درمیان قرآن پڑھاکرتے۔5 حضرت ابنِ اَبی مُلَیکہ کہتے ہیں: حضرت عِکرِمہ بن اَبی جہلؓ قرآن لے کر اپنے چہرے پر رکھاکرتے اور رونے لگ جاتے اور فرماتے: یہ میرے ربّ کا کلام ہے، یہ میرے ربّ کی کتاب ہے۔6 حضرت ابنِ عمر ؓ نے فرمایا: جو نبی کریم ﷺ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اور یہ بھی فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی آدمی بازار سے اپنے گھر واپس آئے تو اسے چاہیے کہ وہ قرآن کھول کر پڑھاکرے، کیوںکہ اسے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ملیں گی۔1 دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابنِ عمر ؓ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں لکھیں گے۔ میں یہ نہیں کہتاہوں کہ الٓمٓ پر دس نیکیاں ملیں گی، بلکہ الف پر دس نیکیاں ملیں گی اور لام پر دس اور میم پر دس۔2