صحابہ کرام ؓ کا ذکر
مجلس کا کفّارہ
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھ لیتے تو کچھ کلمات پڑھاکرتے۔ میں نے حضورﷺ سے ان کلمات کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ ان کلمات کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی نے اگر خیر کی بات کی ہو تو یہ کلمات اس پر قیامت کے دن تک کے لیے مہر بن جائیں گے، اور اگر بری باتیں کی ہوں تو یہ کلمات ان کے لیے کفارہ بن جاتے ہیں، اور وہ کلمات یہ ہیں:
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ لَا إِلٰـہَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وأَتُوْبُ إِلَیْکَ۔
اے اللہ! میں تیری پاکی اور تیری تعریف بیان کرتاہوں۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتاہوں اور تیری طرف توبہ کرتاہوں۔3
حضرت ابوبَرزہ اَسلمی ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ جب مجلس سے اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو آخر میں یہ دعا پڑھتے:
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰـہَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ إِلَیْکَ۔
تو ایک آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کچھ کلمات پڑھتے ہیں پہلے تو آپ یہ کلمات نہیں پڑھا کرتے تھے۔ حضورﷺ نے فرمایا: مجلس میں جو غلطیاں ہوجاتی ہیں یہ کلمات ان کے لیے کفارہ ہیں۔4
’’طبرانی‘‘ نے حضرت رافع بن خدیج ؓ سے اس جیسی حدیث ذکرکی ہے اس میں وَأَتُوْبُ إِلَیْکَ کے بعد یہ کلمات بھی ہیں:
عَمِلْتُ سُوْئً ا أَوْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّ نُوْبَ إِلَّا أَنْتَ۔
اور میں نے جو بھی براکام کیا یا اپنی جان پر ظلم کیا تو اسے معاف کردے،تیرے سوا اور کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔
ہم لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کلمات آپ نے ابھی کہنے شروع کیے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: جی ہاں، حضرت جبرئیل ؑ میرے پاس آئے تھے اور انھوں نے کہا تھا: یہ کلمات مجلس کا کفارہ ہیں۔ 1
حضرت زبیر بن عو ّام ؓ فرماتے ہیں: ہم لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب ہم آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو ہم زمانۂ جاہلیت کی باتیں شروع کردیتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: جب تم ایسی مجلسوں میں بیٹھو جن میں تمھیں اپنے بارے میں ڈرہو (کہ تم سے غلط باتیں ہوگئی ہوں گی) تو اٹھتے وقت یہ کلمات پڑھ لیا کرو:
سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ نَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰـہَ إِلَّا أَنْتَ نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ إِلَیْکَ۔
اس مجلس میں جو کچھ ہوا ہوگا یہ کلمات اس کے لیے کفارہ بن جائیں گے۔2
حضرت عبداللہ عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں: کچھ کلمات ایسے ہیں کہ جو شخص بھی کسی حق کی یا باطل کی مجلس سے اٹھتے وقت ان کلمات کو تین مرتبہ پڑھ لے گا تو یہ کلمات اس کی طرف سے (اس مجلس کی تمام غلطیوں کا) کفارہ ہوجائیں گے۔ اور اگر (اس مجلس میں اس سے کوئی غلطی نہ ہوئی ہو بلکہ) وہ مجلس خیر کی اور ذکر کی تھی، تو پھر اللہ تعالیٰ ان کلمات کے ذریعہ ایسی مہرلگا دیتے ہیں جیسی انگوٹھی سے لکھی ہوئی تحریر پر لگائی جاتی ہے۔ پھر آگے حضرت عائشہؓ جیسی حدیث ذکر کی۔3