صحابہ کرام ؓ کا ذکر

کلمہ طیبہ لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ کا ذکر

حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قیامت کے دن لوگوں میں سے کسے آپ کی شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ حاصل ہوگی؟ حضورﷺ نے فرمایا: چوںکہ مجھے معلوم تھا کہ تمھیں اَحادیث حاصل کرنے کا بہت زیادہ شوق ہے، اس وجہ سے میرا خیال یہی تھا کہ تم سے پہلے یہ بات مجھ سے کوئی نہیں پوچھے گا۔ قیامت کے دن میری شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ اسے حاصل ہوگی جولَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ خالص دل سے کہے گا۔5 حضرت زید بن اَرقم ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا:جو لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ اخلاص سے کہے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ کسی نے پوچھا: اس کا اخلاص کیاہے؟ آپ نے فرمایا: اس کا اخلاص یہ ہے کہ یہ کلمہ انسان کو اللہ کے حرام کردہ کاموں سے روک دے۔1 حضرت ابوسعید خُدریؓفرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: ایک مرتبہ حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ مجھے کوئی وِردسکھادیں جس سے آپ کو یاد کیا کروں اور آپ کو پکارا کروں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ کہا کرو۔ انھوں نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! یہ تو ساری ہی دنیا کہتی ہے۔ ارشاد ہوا: لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ کہا کرو۔ عرض کیا:اے میرے ربّ! میں تو کوئی ایسی خاص چیز مانگتاہوں جو مجھ ہی کو عطا ہو۔ ارشاد ہوا کہ اگر ساتوں آسمان ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور دوسری طرف لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ رکھ دیاجائے تو لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ والا پلڑا جھک جائے گا۔2 اور ایک روایت میں یہ ہے کہ اگر ساتوں آسمان اور میرے علاوہ انھیں آباد کرنے والے اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں ہوں، اور لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ دوسرے پلڑے میں ہو، تو لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ والا پلڑا جھک جائے گا۔3 حضرت عبداللہ بن عمر ؓفرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضورﷺ نے فرمایا: کیا میں تمھیں یہ نہ بتائوں کہ حضرت نوح ؑ نے اپنے بیٹے کو کیا وصیت کی تھی؟ صحابہ نے عرض کیا: ضرور بتائیں۔ ارشاد فرمایا: حضرت نوح ؑنے اپنے بیٹے کو یہ وصیت کی تھی کہ اے میرے بیٹے! میں تمھیں دو باتوں کی وصیت کرتاہوں اور دوباتوں سے روکتاہوں۔ میں لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ کہنے کی وصیت کرتاہوں، کیوںکہ اگر یہ کلمہ ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے، اور دوسرے پلڑے میں سارے آسمان اور زمینیں رکھ دی جائیں تو کلمہ والا پلڑا جھک جائے گا۔ اور اگر سارے آسمان ایک حلقہ بن جائیں تو بھی یہ کلمہ انھیں توڑ کر آگے چلاجائے گا اور اللہ تعالیٰ تک پہنچ کررہے گا۔ اور دوسری وصیت یہ کرتاہوں کہ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ کہا کرو، کیوںکہ یہ ساری مخلوق کی عبادت ہے اور اسی کی برکت سے ان کو رزق دیا جاتاہے۔ اور فرمایا: تمھیں دو باتوں سے روکتاہوں: ایک شرک دوسرا تکبر، کیوںکہ یہ دونوں بری صفات اللہ سے روک دیتی ہیں۔ کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا یہ بات تکبر میں سے ہے کہ آدمی کھانا تیار کرے اور اس کھانے پر ایک جماعت کو بلائے اور انھیں کھلائے یا صاف ستھرے کپڑے پہنے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، یہ دونوں باتیں تکبر میں سے نہیں ہیں۔ تکبر تو یہ ہے کہ تم مخلوق کو بے وقوف بنائو اور دوسرے لوگوں کو حقیر سمجھو۔1 ایک روایت میں یہ ہے کہ اگر تمام آسمان اور زمینیں اور جو کچھ ان میں ہے یہ سب ایک حلقہ بن جائے ،اور ان پر لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ رکھ دیاجائے، تو یہ کلمہ ان سب کو توڑدے گا۔ حضرت یعلیٰ بن شدّاد کہتے ہیں: میرے والد حضرت شدّاد بن اَوسؓ نے جب مجھے یہ واقعہ بیان کیا اس وقت حضرت عُبادہ بن صامت ؓ وہاں موجود تھے اور وہ میرے والد کی تصدیق کررہے تھے۔ میرے والد نے مجھے بتایا کہ ایک دن ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا: کیا تم میں کوئی اجنبی آدمی اہلِ کتاب میں سے ہے؟ ہم نے عرض کیا: کوئی نہیں۔ ارشاد فرمایا: کواڑ بند کردو۔ اس کے بعد فرمایا:ہاتھ اٹھائو اور کہو لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ ہم نے تھوڑی دیر ہاتھ اٹھائے رکھے (اور کلمۂ طیبہ پڑھا)۔ پھر فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اے اللہ! تُو نے مجھے یہ کلمہ دے کر بھیجا ہے اور اس کے پڑھنے کا تونے مجھے حکم دیاہے اور اس پر تو نے مجھ سے جنت کا وعدہ کیاہے اور تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ پھر فرمایا کہ خوش ہوجائو! اللہ نے تمہاری مغفرت فرمادی۔2 حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ! مجھے کچھ وصیت فرمادیں۔ ارشاد فرمایا: جب تم سے کوئی برائی سرزدہوجائے تو اس کے بعد فوراً کوئی نیکی کا کام کرو، اس سے وہ برائی مٹ جائے گی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ بھی نیکیوں میں سے ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ تو تمام نیکیوں سے اَفضل ہے۔1 حضرت عمر بن خطاب ؓ نے دیکھا کہ لوگ لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ اور اللّٰہُ أَکْبَرُ کہہ رہے ہیں تو آپ نے فرمایا: ربِّ کعبہ کی قسم! یہی ہے۔ لوگوں نے پوچھا: یہی کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہی تقویٰ والا کلمہ ہے۔ مسلمان ہی اس کے زیادہ مستحق ہیں اور اس کے اہل ہیں۔2 اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایاہے: {وَاَلْزَمَھُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی}3 اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا۔ اس کے بارے میں حضرت علی ؓ نے فرمایا: یہ تقویٰ والی بات لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ ہے۔ ابنِ جریر وغیرہ میں اس کے بعد اللّٰہُ أَکْبَرُ بھی ہے۔4