صحابہ کرام ؓ کا ذکر
نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنا
حضرت اُبی بن کعب ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کی عادتِ شریفہ یہ تھی کہ جب رات کا دو تہائی حصہ گذر جاتا تو آپ کھڑے ہوجاتے اور فرماتے: اے لوگو! اللہ کا ذکر کرو، اللہ کا ذکر کرو، ہلادینے والی چیز آگئی (مراد پہلی مرتبہ صور پھونکنا ہے) جس کے بعد ایک پیچھے آنے والی آئے گی (مراد دوسری مرتبہ صور پھونکناہے)۔ موت اپنے اندر لی ہوئی مصیبتوں کے ساتھ آگئی ہے۔میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ پر درود شریف کثرت سے پڑھنا چاہتا ہوں تو میں نے ذکر و دعا کے لیے جتنا وقت مقرر کررکھا ہے اس میں سے کتنا وقت آپ پر درود پڑھنے کے لیے مقرر کردوں؟ فرمایا: جتنا تم چاہو۔ میں نے کہا: چوتھائی وقت مقرر کردوں؟ فرمایا: جتنا تم چاہو، لیکن اگر اس سے بڑھادو تو بہتر ہے۔ میں نے کہا: آدھا وقت مقرر کردوں؟ فرمایا: جتنا تم چاہو، لیکن اس سے بڑھا دو تو بہتر ہے۔ میں نے کہا: دوتہائی کردوں؟ فرمایا: جتنا تم چاہو، لیکن اگر بڑھادو تو بہتر ہے۔ میں نے کہا: پھر تو میں سارا وقت ہی آپ کے لیے کردیتاہوں۔ فرمایا: پھر تو تمہارے ہر فکر کی کفایت کی جائے گی اور تمہارا ہر گناہ معاف کردیاجائے گا۔1
حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ فرماتے ہیں: ہم میں سے یعنی نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے چار پانچ صحابی دن رات حضورﷺ کے ساتھ رہاکرتے تھے، کبھی آپ سے جدا نہیں ہوتے تھے تاکہ آپ کو جو ضرورت پیش آئے اس میں کام آسکیں۔ چناںچہ ایک دن میں آپ کی خدمت میں آیا تو آپ کہیں تشریف لے جارہے تھے۔ میں بھی آپ کے پیچھے ہولیا۔ آپ رُؤ سائے اَنصار کے ایک باغ میں تشریف لے گئے، اور نماز شروع کردی، اور سجدہ فرمایا اور بہت لمبا سجدہ کیا۔ میں رونے لگ پڑا، میں یہ سمجھا اللہ نے آپ کی روح قبض کرلی ہے۔ پھر آپ نے سراٹھاکر مجھے بلایا اور فرمایا: تمھیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے بہت لمبا سجدہ کیا جس کی وجہ سے مجھے اندیشہ ہوا کہ شاید اللہ نے اپنے رسول کی روح قبض کرلی ہے اور اب میں آپ کو کبھی بھی زندہ نہ دیکھ سکوں گا۔ آپ نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ پر میری اُمّت کے بارے میں ایک خاص فضل فرمایاہے اس کے شکرانے میں میں نے اتنا لمبا سجدہ کیا۔ اور وہ یہ ہے کہ میری اُمّت میں سے جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیاں لکھیں گے اور اس کی دس برائیاں مٹادیں گے۔1
احمد اور حاکم کی روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: حضرت جبرائیل ؑ نے مجھے کہا: کیا میں آپ کو خوش خبری نہ سنائوں؟ اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ جو آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت نازل کروں گا اور جو آپ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلام بھیجوں گا، اس لیے میں نے شکرانے میں اللہ کے لیے اتنا لمبا سجدہ کیا۔2
حضرت ابوطلحہ انصاری ؓ فرماتے ہیں: ایک دن حضورﷺ بہت خوش تھے اور خوشی کے آثار آپ کے چہرے پر نظر آرہے تھے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج تو آپ بہت ہی خوش ہیں اور خوشی کے آثار آپ کے چہرے پر نظر آرہے ہیں۔ فرمایا: جی ہاں، میرے پاس میرے ربّ کی طرف سے ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا: آپ کی اُمّت میں سے جو آپ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیاں لکھیں گے اور اس کی دس برائیاں مٹادیں گے اور اس کے دس درجے بلند کردیں گے اور جواب میں اس پر اتنی ہی رحمت نازل کریں گے۔3
حضرت کعب بن عُجرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ نے فرمایا: منبر کے قریب ہوجائو۔ ہم لوگ حاضر ہوگئے۔ جب حضورﷺ نے منبر کے پہلے درجہ پر قدم مبارک رکھاتو فرمایا: آمین۔ جب دوسرے پر قدم رکھا تو پھر فرمایا: آمین۔ جب تیسرے پر قدم رکھا تو پھر فرمایا: آمین۔ جب آپ فارغ ہوکر نیچے اترے تو ہم نے عرض کیا کہ ہم نے آج آپ سے (منبر پر چڑھتے ہوئے) ایسی بات سنی جو پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ اس وقت حضرت جبرئیل ؑ میرے سامنے آئے تھے۔ (جب میں نے پہلے درجہ پر قدم رکھا تو) انھوں نے کہا: ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان کا مبارک مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی ہو۔ میں نے کہا: آمین۔ پھر جب میں دوسرے درجہ پر چڑھاتو انھوں نے کہا: ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے آپ کا ذکر مبارک ہو اور وہ درود نہ بھیجے۔ میں نے کہا: آمین۔ جب میں تیسرے درجے پر چڑھا تو انھوں نے کہا: ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے اس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پا ویں اور وہ اس کو جنت میں داخل نہ کرائیں۔ میں نے کہا: آمین۔1
حضرت ابو ذر ؓ فرماتے ہیں: ایک دن میں باہر آیا اور حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں لوگوں میں سب سے زیادہ بخیل آدمی نہ بتاؤں؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ضرور بتائیں فرمایا: جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر دُرود نہ بھیجے تو یہ لوگوں میں سب سے زیادہ بخیل آدمی ہے۔ 2
حضرت ابومسعود ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے ساتھ حضرت سعد بن عُبادہ ؓ کی مجلس میں بیٹھ گئے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ کے والد حضرت بشیر بن سعدؓ نے حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر درود پڑھنے کا حکم دیا ہے، تو یا رسول اللہ! آپ ہمیں بتائیں کہ ہم آپ پر کس طرح درود پڑھاکریں۔ حضورﷺ نے سکوت فرمایا یہاں تک کہ ہم تمنا کرنے لگے کہ کاش! وہ حضور ﷺ سے یہ بات نہ پوچھتے۔ پھر حضورﷺ نے کچھ دیر کے بعد فرمایا: یوں کہا کرو:
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ۔ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ فِي الْعَالَمِیْنَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
اے اللہ! محمد (ﷺ) پر اور آلِ محمد(ﷺ)پر ایسے درود بھیج جیسے تُو نے ابراہیم ( ؑ) پر درود بھیجا۔ اور محمد(ﷺ) پر اور آلِ محمد(ﷺ)پر ایسے برکت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم ( ؑ) پر تمام جہانوں میں برکت نازل فرمائی، بے شک تو ہر تعریف کا مستحق اور بڑی شان والا ہے۔
اور مجھ پر سلام پرھنے کا طریقہ تو تمھیں (التحیات میں) معلوم ہوچکاہے۔1
حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: جب تم لوگ حضورﷺ پر درود بھیجنے لگو تو اچھی طرح بھیجا کرو، کیوںکہ تمھیں پتا نہیں ہے تمہارا درود تو حضورﷺ پر (فرشتوں کے ذریعہ) پیش کیا جاتاہے۔ لوگوں نے عرض کیا: آپ ہمیں سکھادیں۔ فرمایا: یوں کہا کرو:
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِکَ وَرَحْمَتَکَ وَبَرَکَاتِکَ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ وإِمَامِ الْمُتَّقِیْنَ وَخَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ إِمَامِ الْخَیْرِ وَقَائِدِ الْخَیْرِ وَرَسُوْلِ الرَّحْمَۃِ۔ اَللّٰھُمَّ ابْعَثْہٗ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا یَّغْبِطُہٗ بِہِ الْأَوَّلُوْنَ وَالْاٰخِرُوْنَ۔
اے اللہ! اپنی خاص رحمتیں، مہربانی اور اپنی برکتیں اس ذات کے حصے میں کردے جو تمام رسولوں کے سردار، سب متقیوں کے امام اور آخری نبی ہیں۔ جن کا نام محمد ہے، جو تیرے بندے اور رسول ہیں، جو خیر کے امام اور پیشوا ہیں، اور رحمت والے رسول ہیں۔ اے اللہ! ان کو اُس مقامِ محمود میں اٹھا جس پر تمام اگلے پچھلے لوگ رشک کریں گے۔
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔2
حضرت علی ؓ درود کے جو الفاظ سکھایا کرتے تھے وہ پہلے گذر چکے ہیں۔
حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے فرمایا: جیسے پانی آگ کومٹا دیتا ہے، حضورﷺ پر درود بھیجنا اس سے زیادہ خطائوں کو مٹانے والا ہے۔ اور نبی کریم ﷺ پر سلام بھیجنا غلام آزاد کرنے سے اَفضل ہے، اور حضورﷺ کی محبت غلام آزاد کرنے سے اور اللہ کے راستہ میں تلوار چلانے سے اَفضل ہے۔1
حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا: جب تک تم اپنے نبی ﷺ پر درود نہیں بھیجتے اس وقت تک دعا آسمان اور زمین کے درمیان رُکی رہتی ہے بالکل اوپر نہیں جاتی۔2
حضرت عمر ؓ نے فرمایا: جب تک نبی کریم ﷺ پر درود نہیں پڑھ لیا جاتا اس وقت تک دعا ساری کی ساری آسمان سے پہلے رُکی رہتی ہے، جب درود آجاتاہے پھر دعا اوپر جاتی ہے۔3
حضرت علی ؓ نے فرمایا: جب تک حضرت محمد ﷺ پر درود نہیں پڑھ لیا جاتا اس وقت تک ہر دعارُکی رہتی ہے۔4
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں: جو آدمی جمعہ کے دن نبی کریم ﷺ پر سو دفعہ درود پڑھے گا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر خاص قسم کا نور ہوگا جسے دیکھ کر لوگ کہیں گے: یہ کون ساعمل کیا کرتاتھا (جس کی وجہ سے اسے یہ نور ملا ہے)؟5
حضرت ابنِ عباس ؓ نے فرمایا: نبیوں کے علاوہ کسی اور پر درود بھیجنا مناسب نہیں۔6
حضرت ابنِ عباس ؓ نے فرمایا: کسی کی طرف سے کسی پر درود بھیجنا مناسب نہیں صرف نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنا چاہیے۔1