صحابہ کرام ؓ کا ذکر

اِستِغفار کرنا

حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: ہم شمار کیا کرتے تھے کہ حضورﷺ ایک ہی مجلس میں سو دفعہ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَابُ الرَّحِیْمُ کہہ لیتے۔ اے میرے ربّ! میری مغفرت فرما، میری توبہ قبول فرما، بے شک تُوہی توبہ قبول کرنے والا اور نہایت مہربان ہے۔2 حضرت حُذیفہ ؓ فرماتے ہیں:میں نے حضورﷺ سے اپنی زبان کی تیزی کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا: تم اِستغفار سے کہاں غفلت میں پڑے ہو؟ میں تو روزانہ اللہ سے سومرتبہ اِستغفار کرتاہوں۔3 ابو نُعیم کی دوسری روایت میں حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں: میں نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ! میری زبان گھر والوں کے بارے میں تیزی کرجاتی ہے جس سے مجھے ڈرہے کہ یہ تو مجھے آگ میں داخل کردے گی۔ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیاہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ ایک سفر میں تھے، آپ نے فرمایا: اللہ سے اِستغفار کرو۔ ہم نے اِستغفار کیا۔ فرمایا: پورے ستّر مرتبہ کرو۔ ہم نے ستّر مرتبہ کیا۔ فرمایا: جو بندہ اور بندی ایک دن میں ستّرمرتبہ اللہ سے اِستغفار کرے گا اللہ اس کے سات سوگناہ معاف کردیں گے، اور وہ بندہ اور بندی نامراد ہوگیا جو دن اور رات میں سات سو سے زیادہ گناہ کرے۔4 حضرت علی بن ربیعہ کہتے ہیں: مجھے حضرت علی ؓ نے اپنے پیچھے بٹھا یا اور حَر ّہ کی طرف لے گئے۔ پھر آسمان کی طرف سر اٹھا کر فرمایا: اے اللہ! میرے گناہوں کو معاف فرما کیوںکہ تیرے علاوہ اور کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔ پھر میری طرف متوجہ ہو کر مسکرانے لگے۔ میں نے کہا: اے امیرالمؤمنین! پہلے آپ نے اپنے ربّ سے اِستغفار کیا پھر میری طرف متوجہ ہوکر مسکرانے لگے، یہ کیا بات ہے؟ انھوں نے فرمایا: حضورﷺ نے ایک دن مجھے اپنے پیچھے بٹھایا تھا، پھر مجھے حَر ّہ کی طرف لے گئے تھے، پھر آسمان کی طرف سراٹھاکر فرمایا: اے اللہ! میرے گناہوںکو معاف فرماکیوںکہ تیرے علاوہ اور کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔ پھر میری طرف متوجہ ہوکر مسکرانے لگے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! پہلے آپ نے اپنے ربّ سے اِستغفار کیا، پھر میری طرف متوجہ ہوکر مسکرانے لگے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: میں اس وجہ سے مسکرا رہاہوں کہ میرا ربّ اپنے بندے پر تعجب کرکے مسکراتا ہے۔ اس بندے کو معلوم ہے کہ میرے علاوہ اور کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔1 حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں:میں نے حضورﷺ کے بعد کسی کو آپ سے زیادہ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوْبُ إِلَیْہِ ( میں اللہ سے مغفرت طلب کرتاہوں اور توبہ کرکے اسی کی طرف متوجہ ہوتاہوں) کہتے ہوئے نہیں دیکھا۔2 حضرت محمد بن عبداللہ بن محمد بن جابر بن عبداللہ اپنے والد حضرت عبداللہ سے نقل کرتے ہیں، وہ اپنے دادا حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر دویا تین مرتبہ کہا: ہائے میرے گناہ! ہائے میرے گناہ! حضورﷺ نے فرمایا: یہ کہو: اَللّٰہُمَّ مَغْفِرَتُکَ أَوْسَعُ مِنْ ذُنُوْبِيْ، وَرَحْمَتُکَ أَرْجٰی عِنْدِيْ مِنْ عَمَلِيْ۔ اے اللہ! تیری مغفرت میرے گناہوں سے زیادہ وسعت والی ہے، اور مجھے اپنے عمل سے زیادہ تیری رحمت کی اُمید ہے۔ اس نے یہ کہا۔ حضورﷺ نے کہا: دوبارہ کہو۔ اس نے دوبارہ کہا۔ حضورﷺ نے کہا:پھر کہو۔ اس نے پھر کہا۔حضورﷺ نے کہا: اٹھ جا، اللہ نے تیری مغفرت کردی ہے۔ 1 حضرت عمر ؓ نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوْبُ إِلَیْہٖ۔ میں اللہ سے مغفرت طلب کرتاہوں اور اس کے سامنے توبہ کرتاہوں۔ فرمایا: تیرا بھلا ہو! اس کے پیچھے اس کی بہن کو بھی لے آ اور وہ یہ ہے: فَاغْفِرْ لِيْ وَتُبْ عَلَيَّ تُو تو میری مغفرت کردے اور میری توبہ قبول فرما۔ 2 حضرت شَعْبِی کہتے ہیں: حضرت علی ؓ نے فرمایا: مجھے اس آدمی پر تعجب ہوتاہے جو ہلاک ہوجائے حالاںکہ نجات کا سامان اس کے پاس تھا۔ پوچھاگیا: نجات کا سامان کیا ہے؟ فرمایا: اِستغفار۔3 حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرمایا: اس آدمی کے لیے خوش خبری ہے جس کے اَعمال نامہ میں تھوڑاسا بھی اِستغفار پایاجائے۔4 حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا: جو آدمی بھی تین مرتبہ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الَّذِيْ لَا إِلٰـہَ إِلَّا ھُوَ الْحَيُّ الْقَیُّوْمُ وَأَتُوْبُ إِلَیْہِ۔ میں اس اللہ سے مغفرت طلب کرتاہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو سدا زندہ رہنے والا سب کو قائم رکھنے والاہے اور میں اس کے سامنے توبہ کرتاہوں۔ کہے گا، اس کی پوری مغفرت کردی جائے گی اگرچہ وہ میدانِ جنگ سے بھاگ کر آیا ہو۔5 حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا: اگر تم لوگوں کو میرے گناہ معلوم ہوجائیں تو میرے پیچھے دو آدمی بھی نہ چلیں اور تم لوگ میرے سر پر مٹی ڈالنے لگو۔ اگر اللہ تعالیٰ میرے گناہوں میں سے ایک گناہ کو بھی معاف کردے اور مجھے اس کے بدلہ میں عبداللہ بنِ رَوْثَہ (گوبرکا بیٹا عبداللہ کہہ) کر پکاراجائے تو بھی میں اس پر راضی ہوں۔1 حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا: میں روزانہ بارہ ہزار مرتبہ توبہ اور اِستغفار کرتا ہوں، اور یہ مقدار میرے (گناہوں کے) قرضے کے مطابق ہے۔ یا فرمایا: اس کے (یعنی اللہ کے مجھ پر) قرضے کے مطابق ہے۔2 ایک روایت میں یہ ہے کہ یہ میرے گناہوں کے برابر ہے۔3 ایک آدمی نے حضرت بَرَاء ؓ سے پوچھا کہ اے ابو عُمارہ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ}4 اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں تباہی میں مت ڈالو۔ کیا اس سے مراد وہ آدمی ہے جو دشمن سے اتنی جنگ کرتاہے کہ خود شہید ہوجاتاہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس سے مراد تو وہ آدمی ہے جو گناہ کرے اور یوں کہے کہ اللہ اسے معاف نہیں کریں گے۔5