صحابہ کرام ؓ کا ذکر
ذکر اور تسبیحات کو گننا اور تسبیح کا ثبوت
حضرت صَفیّہ ؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ میرے پاس تشریف لائے میرے سامنے چار ہزار گٹھلیاں پڑی ہوئی تھیں جن پر میں سُبْحَان اللّٰہِ پڑھ رہی تھی۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا میں تمھیں اُس طرح سُبْحَانَ اللّٰہِ پڑھنا نہ بتائوں جو تمہارے اب تک کے سُبْحَانَ اللّٰہِ پڑھنے کی مقدار سے زیادہ ہو؟ میں نے کہا: ضرور بتائیں۔فرمایا:
سُبْحَانَ اللّٰہِ عَدَدَ خَلْقِہٖ اللہ کی مخلوق کی تعداد کے برابر سُبْحَانَ اللّٰہِ۔
حاکم کی روایت میں ہے: سُبْحَانَ اللّٰہِ عَدَدَ مَا خَلَقَ مِنْ شَيْئٍ اللہ نے جو کچھ پیدا کیا ہے اس کے برابر سُبْحَانَ اللّٰہِ۔3
’’جامع اَذکار‘‘ کے عنوان میں بھی کچھ اَذکار گذر چکے ہیں۔
نبی کریم ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابوصفیہ ؓ کے بارے میں آتاہے کہ ان کے سامنے چمڑے کا ایک بچھونا رکھاجاتا اور ایک ٹوکرا لایا جاتا جس میں کنکریاں ہو تیں۔ تو وہ ان پر زوال تک سُبْحَانَ اللّٰہِ پڑھتے رہتے پھر اسے اٹھالیا جاتا، پھر جب ظہر پڑھ لیتے تو پھر شام تک سُبْحَانَ اللّٰہِ پڑھتے رہتے۔1
حضرت یونس بن عبید اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں نے مہاجرین کے ایک آدمی حضرت ابوصَفیَّہ ؓ کو دیکھا کہ وہ گٹھلیوں پر تسبیح پڑھ رہے تھے۔2
حضرت ابو ہریرہ ؓ کے پاس ایک دھاگہ تھا جس میں دوہزار گرہیں لگی ہوئی تھی۔ جب تک ان سب پر تسبیح نہ پڑھ لیتے اس وقت تک سویانہ کرتے۔3
حضرت ابونضرہ کہتے ہیں: مجھے قبیلہ طُفاوہ کے ایک بڑے میاں نے اپنا قصہ سنایا۔ کہتے ہیں: میں مدینہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کا مہمان بنا۔ میں نے نبی کریم ﷺ کا کوئی صحابی ان سے زیادہ عبادت میں محنت کرنے والا اور ان سے زیادہ مہمان کی خیر خبر لینے والا نہیں دیکھا۔ ایک دن میں ان کے پاس تھا اور وہ اپنے تخت پر تھے اور ان کے پاس ایک تھیلی تھی جس میں کنکریاں یا گٹھلیاں تھیں اور ان کے تخت کے نیچے ان کی ایک کالی باندی بیٹھی ہوئی تھی اور وہ ان کنکریوں پر تسبیح پڑھ رہے تھے۔ جب تھیلی کی تمام کنکریاں ختم ہوگئیں تو انھوں نے وہ تھیلی اس باندی کے سامنے ڈال دی۔ اس باندی نے وہ ساری کنکریاں اس تھیلی میں ڈال دیں اور تھیلی اٹھا کر پھر ان کے سامنے رکھ دی۔ آگے لمبی حدیث ذکرکی۔4
حضرت حکیم بن دَیْلَمی کہتے ہیں: حضرت سعدؓ کنکریوں پر سُبْحَانَ اللّٰہِ پڑھا کرتے تھے۔5