صحابہ کرام ؓ کا ذکر
ذکرکے آداب اور نیکیوں کا بڑھنا
حضرت ابنِ عمر ؓ نے فرمایا کہ تم اس کی پوری کوشش کرو کہ اللہ کا ذکر صرف طہارت کی حالت میں کیا کرو۔1
حضرت ابوعثمان نَہْدی کہتے ہیں: مجھے حضرت ابوہریرہ ؓ کی طرف سے یہ بات پہنچی کہ انھوں نے فرمایا کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو ایک نیکی کے بدلے دس لاکھ نیکیاں دیتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا: بالکل نہیں۔ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اسے بیس لاکھ نیکیاں دیں گے۔ پھر یہ آیت پڑھی:
{یُّضٰعِفْھَا وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًاآیت کا نشان}2
تو اس کو کئی گناہ کردیں گے اور اپنے پاس سے اور اجرِ عظیم دیں گے۔
پھر حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اُسے اجرِ عظیم کہہ رہے ہیں تو اس کا اندازہ کون لگاسکتاہے؟
ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابو عثمان کہتے ہیں: میں نے حضرت ابو ہریرہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ نیکی کو دس لاکھ گُنا بڑھایا جاتاہے۔انھوں نے فرمایا: تمھیں اس بات پر حیرانی ہورہی ہے؟ اللہ کی قسم! میں نے تو حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا …۔ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکرکیا۔3