صحابہ کرام ؓ کا ذکر

ظالم بادشاہ سے ڈر کے وقت کی دعائیں

حضرت علیؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے مجھے ظالم بادشاہ کے پاس اور ہر طرح کے خوف کے وقت پڑھنے کے لیے یہ کلمات سکھائے: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ عِبَادِکَ۔ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو حلیم اور کریم ہے، وہ اﷲ پاک ہے جو ساتوں آسمانوں کا اور عظیم عرش کا ربّ ہے۔ تمام تعریفیں اس اﷲ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا ربّ ہے، میں تیرے بندوں کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ 2 حضرت ابو رافع کہتے ہیں: حضرت عبداﷲ بن جعفرؓنے (مجبور ہوکر) حجاج بن یوسف سے اپنی بیٹی کی شادی کی اور بیٹی سے کہا: جب وہ تمہارے پاس اندر آئے تو تم یہ دعا پڑھنا: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو حلیم اور کریم ہے، اﷲ پاک ہے جو عظیم عرش کا ربّ ہے اور تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔ حضرت عبداﷲ نے کہا: جب حضورﷺ کو کوئی سخت اَمر پیش آتا تو آپ یہ دعا پڑھتے۔ راوی کہتے ہیں: (حضرت عبداﷲ کی بیٹی نے یہ دعا پڑھی جس کی وجہ سے) حجاج اس کے قریب نہ آسکا۔1 حضرت ابنِ عباسؓفرماتے ہیں: جب تم کسی بارعب بادشاہ کے پاس جائو اور تمھیں ڈر ہو کہ وہ تمہارے ساتھ زیادتی کرے گا تو تم تین مرتبہ یہ دعا پڑھو: اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَعَزُّ مِنْ خَلْقِہٖ جَمِیْعًا، اَللّٰہُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ۔ أَعُوْذُ بِاللّٰہِ الَّذِيْ لَا إِلٰـہَ إِلَّا ہُوَ الْمُمْسِکُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ أَنْ یَّقَعْنَ عَلَی الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِہٖ مِنْ شَرِّ عَبْدِکَ فُلَانٍ وَجُنُوْدِہٖ وَأَتْبَاعِہٖ مِنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ۔ اَللّٰھُمَّ کُنْ لِيْ جَارًا مِنْ شَرِّھِمْ، جَلَّ ثَنَاؤُکَ وَعَزَّ جَارُکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَلَا إِلٰـہَ غَیْرُکَ۔ اﷲ سب سے بڑا ہے،اﷲ سب سے بڑا ہے، اﷲ اپنی ساری مخلوق سے زیادہ عزت و غلبہ والا ہے،اﷲ ان سب سے زیادہ عزت وغلبہ والا ہے جن سے میں بچنا چاہتا ہوں۔ میں اس اﷲ کی پناہ چاہتاہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور جس نے اپنے حکم سے ساتوں آسمانوں کو زمین پر گرنے سے روک رکھا ہے، تیرے فلاں بندے کے شر اور اس کے لشکروں اور اس کے پیچھے چلنے والوں اور اس کی بات ماننے والوں کے شر سے چاہے وہ جنات ہوں یا انسان ہوں۔ اے اللہ! تومیرے لیے ان سب کے شر سے پناہ بن جا۔ تیری ثنا بہت بڑی ہے اور تیری پناہ لینے والا غالب ہوتا ہے اور تیرا نام با برکت ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔2 حضرت ابنِ مسعودؓفرماتے ہیں: جب تمھیں کسی حاکم کے غیظ وغضب اور زیادتی کا خوف ہو تو یہ دعا پڑھو: اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ کُنْ لِيْ جَارًا مِّنْ فُلَانٍ وأَحْزَابِہٖ وَأَشْیَاعِہٖ مِنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ أَنْ یَفْرُطُوْا عَلَيَّ وَأَنْ یَطْغَوْا، عَزَّ جَارُکَ وَجَلَّ ثَنَاؤُکَ وَلَا إِلٰـہَ غَیْرُکَ۔ اے اﷲ جو ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا ربّ ہے! تو میرے لیے فلاں کے شر سے اور اس کی مددگار جماعتوں اور اس کی ماننے والے جنات اور انسانوں کے شر سے پناہ بن جا، تاکہ وہ مجھ پر ظلم اور زیادتی نہ کر سکیں۔ تیری پناہ لینے والا باعزت ہوتا ہے اور تیری ثنا بہت بڑی ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ جب تم یہ دعا پڑھو گے تو اس ظالم حاکم کی طرف سے تمھیں کوئی ناگواری پیش نہیں آئے گی۔1 حضرت ابنِ مسعودؓفرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو ظالم بادشاہ کا خوف ہو تو وہ یہ دعا پڑھے اور پھر پچھلی دعا ذکر کی۔ البتہ اس روایت میں یہ الفاظ ہیں: کُنْ لِيْ جَارًا مِّنْ فُلَانٍ بْنِ فُلاَنٍ - یَعْنِيْ الَّذِيْ یُرِیْدُ - وَشَرِّ الْجِنِّ وَالإِنْسِ وَأَتْبَاعِھِمْ أَنْ یَّفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِّنْھُمْ، عَزَّ جَارُکَ وَجَلَّ ثَنَاؤُکَ وَلَا إِلٰـہَ غَیْرُکَ۔ تو میرے لیے فلاں بن فلاں کے شر سے (یہاں اس ظالم بادشاہ کا نام لے) اور جنات اور انسانوں اور ان کے پیچھے چلنے والوں کے شر سے پناہ بن جا، تاکہ ان میں سے کوئی بھی مجھ پر زیادتی نہ کر سکے۔ تیری پناہ لینے والا غالب ہوتا ہے اور تیری ثنا بہت بڑی ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔2