صحابہ کرام ؓ کا ذکر
ادائیگی قرض کی دعائیں
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ ایک مُکاتَب غلام (مُکاتَب اس غلام کو کہتے ہیں جسے اس کے آقا نے کہا ہو کہ اگر تم اتنا مال اتنے عرصہ میں ادا کردوگے تو تم آزاد ہو جائوگے) نے حضرت علیؓ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ میں کتابت میں مقرر شدہ مال ادا کرنے سے عاجز ہو گیا ہوں، آپ اس بارے میں میری مدد فرمائیں۔ حضرت علی فرمایا:کیا میں تمھیں وہ کلمات نہ سکھائوںجو حضورﷺ نے مجھے سکھائے تھے؟ اگر تم پر (یمن کے) صیر پہاڑ کے برابر بھی قرض ہو تو بھی اﷲ تمہارا وہ قرض ادا کرادے گا۔تم یہ دعا پڑھا کرو:
اَللّٰھُمَّ اکْفِنِيْ بِحَلاَلِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِيْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ۔
اے اﷲ! مجھے اپنا حلال رزق دے کر حرام سے بچادے اور اپنے فضل و کرم سے مجھے اپنے ماسوا سے بے نیاز کر دے۔1
حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ ایک دن مسجد میں تشریف لائے تو اچانک آپ کی نظر ایک انصاری شخص پر پڑی جنھیں ابو اُمامہ کہا جاتا تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے ابو اُمامہ!کیا بات ہے تم آج مسجد میں نماز کے وقت کے علاوہ دوسرے وقت میں بیٹھے ہوئے ہو؟ انھوں نے کہا: یا رسول اﷲ! غموں اور قرضوں نے مجھے گھیر لیا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا میں تمھیں ایسا کلام نہ سکھا ئوں کہ جب تم اسے کہو گے تو اﷲ تمہارا غم دور کریں گے اور قرض اتروادیں گے۔ انھوں نے کہا: یا رسول اﷲ! ضرور سکھا دیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: صبح اور شام یہ دعا پڑھا کرو:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْنِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسْلِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ غَلَبَۃِ الدَّیْنِ وَقَھْرِ الرِّجَالِ۔
اے اﷲ! میں ہر فکر و غم سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور عاجز ہو جانے اور سستی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور بزدلی اور کنجوسی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور قرضہ کے غلبہ اور لوگوں کے میرے اوپر دبائو سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
حضرت ابو اُمامہؓفرماتے ہیں ـ:میں نے ایسا کیا تو اﷲ نے میرے غم بھی دور کر دیے اور میرا قرضہ بھی سارا ادا کرا دیا۔ 2
ایک دفعہ جمعہ کے دن حضورﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو نہ دیکھا۔ حضورﷺ جب نماز سے فارغ ہوگئے تو حضرت معاذ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: اے معاذ! کیا بات ہے آج تم (جمعہ کی نماز میں)نظر نہیں آئے؟ انھوں نے کہا:یا رسول اﷲ! ایک یہودی کا مجھ پر ایک اُوقیہ سونا قرضہ ہے، میں گھر سے آپ کی خدمت میں حاضری کے لیے چل پڑا لیکن راستہ میں وہ یہودی مل گیا جس کی وجہ سے دیر ہوگئی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے معاذ! کیا میں تمھیں ایسی دعا نہ سکھا دوں کہ اگر (یمن کے) صِیْر پہاڑ جتنا بھی تم پرقرض ہو اور تم یہ دعا پڑھو تو اﷲ تعالیٰ تمہارا وہ قرضہ ضرور ادا کرادیں گے۔ اے معاذ! تم یہ دعا کیا کرو:
اَللّٰھُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِي الْمُلْکَ مَنْ تَشَائُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَائُ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَائُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَائُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیْرٌ۔ تُوْلِجُ اللَّیْلَ فِي النَّھَارِ وَتُوْلِجُ النَّھَارَ فِي اللَّیْلِ، وَتُخْرِجُ الْحِيَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَتُخُرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَيِّ، وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَائُ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔ رَحْمٰنَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَرَحِیْمَھُمَا! تُعْطِيْ مِنْھُمَا مَنْ تَشَائُ وَتَمْنَعُ مَنْ تَشَائُ، اِرْحَمْنِيْ رَحْمَۃً تُغْنِیْنِيْ بِھَا عَنْ رَّحْمَۃِ مَنْ سِوَاکَ۔
اے اﷲ! اے تمام ملک کے مالک! تو جس کو چاہے ملک دے دیتا ہے اور جس سے چاہے ملک چھین لیتا ہے، اور تو جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت دیتا ہے، ہر بھلائی تیرے ہی اختیار میں ہے، بلاشبہ تو ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے (کبھی دن بڑا ہوتا ہے اور کبھی رات)، اور تو زندہ کو مردہ سے نکال لیتا ہے اور مُردے کو زندہ سے نکال لیتا ہے (پرندہ سے انڈا نکال لیتا ہے اور انڈے سے پرندہ)، اور تُو جسے چاہتاہے اسے بے حساب روزی دیتا ہے۔ اے دنیا وآخرت کے رحمن! اے دنیا وآخرت کے رحیم! تو دنیا اور آخرت جسے چاہے دے دیتا ہے اور جس سے چاہے روک لیتا ہے، تو مجھ پر ایسی خاص رحمت نازل فرما جس کے بعد مجھے تیرے سوا کسی کی ضرورت نہ رہے۔1
حضرت انس بن مالکؓفرماتے ہیں: حضورﷺ نے حضرت معاذؓ کو فرمایا:کیا میں تمھیں ایسی دعا نہ سکھا دوں کہ اگر اُحُد پہاڑ جتنا بھی تم پر قرضہ ہو تو بھی اﷲ تعالیٰ ضرور اتروادے گا؟ اے معاذ! تم یہ دعا پڑھو: اَللّٰھُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ پچھلی دعا جیسی دعا ذکر فرمائی البتہ اس میں تُوْلِجُ اللَّیْلَسے آخر تک کا ذکر نہیں ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں ـ: رَحْمٰنَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ تُعْطِیْہِمَا مِنْھُمَا مَنْ تَشَائُ وَتَمْنَعُ مَنْ تَشَائُ۔ آگے پچھلی حدیث جیسی دعا ذکر کی ۔1