صحابہ کرام ؓ کے بیانات
حضورﷺ کا خطبۂ جمعہ
حضرت سعید بن عبدالرحمن جَمْحِی کہتے ہیں: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضورﷺ نے مدینہ میں بنو سالم بن عوف کے محلہ میں جو سب سے پہلا جمعہ پڑھایاتھا اس میں یہ خطبہ دیا تھا کہ
تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں۔ میں اس کی تعریف کر تا ہوں، اس سے مدد مانگتا ہوں، اس سے مغفرت چاہتاہوں اور اس سے ہدایت طلب کر تا ہوں اور اس پر ایمان لاتا ہوں اور اس کا انکار نہیں کر تا بلکہ جو اس کا انکار کر تا ہے اس سے دشمنی رکھتا ہوں۔میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اﷲکے سواکوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور (حضرت) محمد(ﷺ) اس کے بندے اوررسول ہیں۔ انھیں اﷲ نے ہدایت، نور اور نصیحت دے کر اس وقت بھیجا جب کہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ رکا ہوا تھا اور علم بہت کم ہوگیا تھا اور لوگ گمراہ ہوچکے تھے اور زمانے میں خیر وبرکت نہیں رہی تھی اور قیامت قریب آچکی تھی اور دنیا کا مقررہ وقت پورا ہونے والا تھا۔اب جو اﷲ اور اس کے رسول(ﷺ) کی اطاعت کرے گا وہ ہدایت والا ہوگا، اور جو اِن دونوں کی نا فر مانی کرے گا وہ بچلاہو ا اور کو تاہی کا مرتکب ہو گااور بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑے گا۔
میں تمھیں اﷲ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو جن با توں کی تاکید کرتا ہے ان میں سب سے بہتر بات یہ ہے کہ اسے آخرت کی ترغیب دے اور اﷲ سے ڈرنے کا حکم دے، لہٰذا تم ان تمام کاموں سے بچوجن کے بارے میں تمھیں اﷲ نے اپنی ذات سے ڈرایا ہے اس سے بہتر کوئی نصیحت نہیں اس سے بہتر کوئی یا د دہانی نہیں۔ اپنے ربّ سے ڈر کر تقو یٰ پر عمل کرنا ان تمام چیزوں کے حاصل ہونے کے لیے سچا مدد گا ر ہے جنھیں تم آخرت میں چاہتے ہو۔ اور جو محض اﷲ کی رضا کی نیت سے لوگوں کے سامنے بھی اور ان سے چھپ کر بھی اپنے اور اپنے ربّ کے درمیان کے معا ملے کو ٹھیک کر لے گا تو یہ اس کے لیے دنیا میں ذکرِ خیر کا ذریعہ ہو گا اور موت کے بعد ذخیرہ آخرت ہوگا جب کہ آدمی کو آگے بھیجے ہوئے اپنے اعمال کی بہت زیادہ ضرورت ہوگی۔ اور جو اپنے اور اپنے ربّ کے درمیان کے معاملے کو ٹھیک نہیں کرے گا وہ تمنا کرے گا: کاش! میرے اور میرے آگے بھیجے ہوئے برے اعمال میں بہت زیادہ مسا فت ہوتی۔اور اﷲ تمھیں اپنی ذات (کے غصے اور سزا)سے ڈراتا ہے اور اﷲ بندوں پر بہت مہربا ن ہے۔اﷲ اپنی ہر با ت کو سچ کر دکھاتے ہیں اور اپنے وعدے کو پورا کرتے ہیں ان کے وعدے کے خلاف نہیں ہوسکتا، کیوںکہ خود اﷲ تعا لیٰ نے فر مایا ہے:
{مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَمَا اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِآیت کا نشان}1
میرے ہاں(وہ) بات (وعیدِ مذکور کی)نہیں بدلی جاوے گی اور میں(اس تجویز میں) بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔
لہٰذا دنیا وآخرت کے تمام معاملات میں خفیہ اور اعلانیہ طور سے اﷲ سے ڈرو، کیوںکہ جو اﷲ سے ڈرے گا اﷲ اس کی تمام بُرائیوںکو مٹا دے گا اور اسے اجرِ عظیم عطا فر مائے گا۔ اور جو اﷲ سے ڈرے گا اسے بہت بڑی کامیا بی ملے گی اور اﷲکا ڈر ہی اس کے غصہ، اس کی سزا اور نا راضگی سے بچاتا ہے۔ اوراﷲ کے ڈر سے ہی چہرے (قیامت کے دن)سفید ہوں گے اور ربِّ عظیم راضی ہوں گے اور درجے بلند ہو ں گے۔ لہٰذا تم تقویٰ میں سے پورا حصہ لو اور اﷲ کی جناب میں کوتاہی نہ کرو۔اﷲ نے تمھیں اپنی کتا ب کا علم عطا فر مایا ہے اور اپنا راستہ تمہارے لیے واضح کیا تا کہ اﷲ کو سچوں اور جھوٹوں کا پتا چل جائے۔اور لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو جیسے اس نے تمہارے ساتھ کیا ہے۔ اور اﷲ کے دشمنوں سے دشمنی رکھو اور اﷲ کے دین کے لیے خوب محنت کرو جیسے کہ محنت کرنے کا حق ہے۔ اسی نے تمھیں چنا ہے اور اسی نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے تاکہ جسے گمراہ ہو کر بر باد ہوناہے وہ دلیل اور نشانی دیکھ کر پھر بر باد ہو، اور جسے ہدایت پا کر حقیقی زندگی حاصل کرنی ہے وہ دلیل اور نشانی دیکھ کر حاصل کرے، اور نیکیاں کرنے کی طاقت صرف اﷲ سے ہی ملتی ہے۔ اﷲ کا ذکر کثرت سے کرو اور آج کے بعد والی زندگی یعنی آخرت کے لیے عمل کرو۔ جو اپنے اور اﷲکے تعلق کو ٹھیک کر لے گا اﷲ تعالیٰ اس کے اور لوگوں کے درمیان کے معاملات کو خود ٹھیک کر دیں گے،کیوںکہ اﷲ کا فیصلہ لوگوں پر چلتاہے اور لوگوں کا فیصلہ اﷲ پر نہیں چلتا۔ اﷲلوگوں کی ہر چیز کے مالک ہیںاور لوگ اﷲ کے ہاں کچھ اختیار نہیں رکھتے۔اﷲ سب سے بڑے ہیںاور اﷲ عظیم سے ہی نیکی کر نے کی طاقت ملتی ہے۔1