صحابہ کرام ؓ کے بیانات

غزوات میں حضورﷺکے بیانات

نبی کریم ﷺ کے صحا بی حضرت جدار ؓ فر ماتے ہیں: ہم لوگ حضورﷺ ساتھ ایک غزوہ میں گئے۔ جب ہمارا د شمن سے سا منا ہوا تو آپ نے کھڑے ہوکر اﷲ کی حمد وثنا بیان کی، پھر فر مایا: اے لوگو! تم سبز، زرد او ر سرخ رنگ کی مختلف نعمتوں والے ہوگئے ہو،اور تمہارے گھروں اور قیام گاہوں میں بہت قسم کی نعمتیں ہیں۔جب تم دشمن سے لڑو تو قدم قدم آگے بڑھو، کیوںکہ جب بھی کوئی آدمی اﷲکے راستے میں دشمن پر حملہ کرتاہے تو دو حوریں اس کی طرف جھپٹتی ہیں اور جب وہ شہید ہوتا ہے تو اس کے خون کے پہلے قطرے کے زمین پر گر تے ہی اﷲتعالیٰ اس کے ہر گناہ کو معاف کردیتے ہیںاور یہ دونوں حوریں اس کے منہ سے غبار کو صاف کرتی ہیںاور کہتی ہیں: تمہارا وقت آگیا ہے۔ وہ ان سے کہتا ہے: تم دونوں کا وقت بھی آگیاہے۔1 حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺغزوۂ تبوک کے سفر میں حِجَر مقام میں ٹھہرے۔ وہاں آپ نے کھڑے ہو کر لوگوںمیں بیان فر مایا اور فرمایا : اے لوگو!تم اپنے نبی سے معجزوں کا مطالبہ نہ کرو۔ یہ حضرت صالح ؑ کی قوم کی جگہ ہے،انھوں نے اپنے نبی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے لیے(معجزے کے طور پر)ایک اونٹنی بھیجیں۔ حضرت صالح ؑ نے ان کا یہ مطالبہ پورا کر دیا، چناںچہ وہ اونٹنی اس وسیع اور کشادہ راستہ سے پا نی پینے آتی تھی، اور اپنی با ری کے دن وہ اُن کا سارا پانی پی جا تی تھی اور جتنا دودھ پانی کے نا غہ والے دن دیتی تھی اتنا ہی پا نی کی باری والے دن بھی دیتی تھی، پھر اس وسیع راستے سے واپس چلی جا تی تھی۔پھر انھوں نے اس کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں۔ اﷲنے انھیں تین دن کی مہلت دی اور اﷲ کا وعدہ جھو ٹا نہیں ہوتا۔ پھر اُن پر ایک (فرشتے کی) چیخ آئی اور اس قوم کے جتنے آدمی آسمان اور زمین کے درمیان تھے ان سب کو اﷲ تعالیٰ نے اس چیخ سے ہلاک کر دیا، صر ف ایک آدمی بچا جواس وقت اﷲ کے حَرم میں تھا۔ وہ اﷲکے حرم کی وجہ سے اﷲکے عذاب سے بچ گیا۔ کسی نے پو چھا:یا رسول اﷲ!وہ کون تھا؟آپ نے فر مایا:ابو رِغَال۔ 1 حضر ت حسن بن علیؓ فر ماتے ہیں: حضورﷺ غزوئہ تبوک کے دن منبر پر تشریف فرماہوئے اور اﷲکی حمد و ثنا بیان کی، پھر فر مایا: اے لوگو!میں تمھیں اسی با ت کا حکم دیتاہوں جس کا اﷲ تمھیں حکم دیتے ہیں اور اسی چیز سے تمھیں روکتاہوںجس سے اﷲ تمھیں روکتے ہیں، لہٰذا روزی کی تلاش میں درمیانہ راستہ اختیار کرو۔اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں ابو القاسم کی جان ہے! تم میں سے ہر آدمی کو اس کی روزی ایسے ڈھونڈتی ہے جیسے اسے اس کی موت ڈھونڈتی ہے۔اگر تمھیں روزی میںکچھ مشکل پیش آئے تو اﷲکی اطاعت والے اَعمال (تلاوت،دعا،ذکر،تو بہ، اِستغفار وغیرہ) کے ذریعہ آسانی طلب کرو۔2 حضرت عبداﷲبن عمروؓفرماتے ہیں: جب حضورﷺنے مکہ فتح کرلیا تو آپ نے فرمایا: اب تم ہر ایک سے اپنے ہتھیا ر روک لو اور کسی پر ہتھیا ر نہ چلائو، البتہ قبیلہ خُزاعہ والے قبیلہ بنوبکر پر ہتھیار اٹھا سکتے ہیں۔چناںچہ آپ نے بنو خُزاعَہ کو ہتھیار اٹھانے کی اجازت دے دی، لیکن جب عصر کی نماز پڑھ لی تو قبیلہ خزاعَہ سے فرمایا: اب تم بھی ہتھیارروک لو۔اگلے دن مُزْدَلِفہ میں خزاعہ کے ایک آدمی کو بنو بکر کا ایک آدمی ملا اس نے بنو بکر کا وہ آدمی قتل کردیا۔ حضور ﷺ کو جب یہ خبر ملی تو آپ بیان کے لیے کھڑے ہوئے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ اپنی کمرسے بیتُ اﷲکے ساتھ سہارا لگائے کھڑ ے ہیں۔آپ نے فرمایا: لوگوں میں سے اﷲکاسب سے زیادہ دشمن وہ ہے جو حرم میں کسی کو قتل کرے یا اپنے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کرے یا زمانۂ جاہلیت کے قتل کے بدلے میں قتل کرے۔ ایک آدمی نے کھڑے ہوکر کہا: بے شک فلاں آدمی میرابیٹا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: کسی کو اپنا بیٹا بنا لینا اسلام میں (جائز)نہیں ہے۔ جاہلیت کی تمام باتیں اب ختم ہو چکی ہیں۔ اولاد عورت کے خاوند کی ہوگی (اگر وہ عورت باندی ہے تو اس کی اولاد باندی کے آقا کی ہوگی)اور زنا کرنے والے مرد کے لیے اَثْلَبْ ہے۔ صحابہ ؓ نے پوچھا:اَثْلَبْ کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: پتھر (یعنی زناکارکو پتھر مارمار کر مار دیا جائے گا)۔ اور فرمایا: فجر کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہیے اورایسے ہی عصر کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئی نماز نہیں پڑھنی چا ہیے۔کسی عورت کی خالہ یا پھوپھی نکاح میں ہو تو اب اس عورت سے نکاح کرناجائز نہیں ہے۔1 حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فتحِ مکہ کے دن بیتُ اﷲکی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر بیان فرمایا۔ پہلے اﷲ کی حمد و ثناکی پھر فرمایا: تمام تعریفیں اس اﷲکے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور اپنے بند ے کی مدد کی اور اکیلے ہی تمام لشکروں کو شکست دی۔ غور سے سنو! خطأً مقتول وہ ہو گا جو کوڑے یا لاٹھی سے قتل ہو ا ہو، اس کا خون بَہَا سو اُونٹ ہیں جن میں چا لیس گابھن اونٹنیاں بھی ہوں۔توجہ سے سنو! جا ہلیت کی ہر فخر کی چیز اور جاہلیت کے زمانہ کا ہر خون میرے ان دو قدموں کے نیچے رکھا ہو ا ہے، البتہ بیتُ اﷲکی خدمت اور حاجیو ں کو پانی پلانے کا کام جا ہلیت میں جن کے پاس تھا میں نے اب بھی انھیں کے پاس باقی رہنے دیا ہے۔ 2 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فتحِ مکہ کے دن اپنی قصواء اونٹنی پر طواف کیا۔ آپ کے دستِ مبارک میں ایک چھڑی تھی جس کا سِرا مڑا ہو ا تھا۔آپ اس سے بیتُ اﷲ کے کو نوں کا بوسہ لے رہے تھے۔مسجد ِحرام میں اونٹنی کے لیے بیٹھنے کی جگہ آپ کو نہ ملی،اس لیے آپ اونٹنی سے اترے تو لوگوں نے آپ کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ پھر آپ اونٹنی کو پانی بہنے کی جگہ کے درمیان لے گئے اور اسے وہاں بٹھا دیا۔ پھر اپنی سواری پر سوارہو کر لوگوں میں بیان فرمایا۔پہلے اﷲکی شان کے مطابق حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: اے لوگو! جاہلیت کے زمانے میں لوگ کبرو نخوت میں مبتلا تھے اور اپنے آباء واَجداد کے کارناموں کی بنا پر خود کو بڑا سمجھتے تھے،اب اﷲ نے یہ تمام باتیں ختم کردی ہیں۔ لو گ دو طرح کے ہیں: ایک نیک متقی اورپر ہیز گار جو کہ اﷲکے ہاںعزت وشرافت والے ہیں، دوسرے بدکا ر بدبخت جن کی اﷲکے ہاں کوئی وقعت نہیں ہوتی۔اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں : {یٰٓـاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰـکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰـکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَئِلَ لِتَعَارَفُوْا ط اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰـکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌآیت کا نشان}1 اے لو گو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے، اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنا یا تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو۔ اﷲکے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہی ہے جو سب سے زیادہ پر ہیز گار ہو۔ اﷲ خوب جاننے والا پورا خبر دار ہے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: میں اپنی یہ بات کہتا ہوں، اور میں اپنے لیے اور تمہارے لیے اﷲسے مغفرت طلب کرتا ہوں۔1