صحابہ کرام ؓ کے بیانات

نمازِ جمعہ کی تاکید کے بارے میں حضورﷺ کا بیان

حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے ہم میں بیان فرمایا۔ اس میں ارشاد فرمایا: اے لوگو! مرنے سے پہلے توبہ کرلو۔مشغول ہونے سے پہلے اعمال صالحہ میں جلدی لگ جائو۔ تمہارا اﷲسے جو تعلق ہے اس کو اﷲکے زیادہ ذکر کرنے سے، اور چھپ کر اور برملا خوب صدقہ دینے سے جوڑے رکھو، اس طرح تمھیں رزق دیا جائے گا اور تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہاری کمی پوری کی جاتی رہے گی۔ جان لو کہ اﷲتعالیٰ نے میرے اس کھڑے ہونے کی جگہ، میرے اس مہینہ کے اس دن میں اس سال سے قیامت تک جمعہ کی نماز کو تم پر فرض کردیا ہے۔ لہٰذا جس کا کو ئی عا دل یا ظالم امام ہو اور وہ میری زندگی میں یا میرے بعد جمعہ کو ہلکا سمجھ کر یا اس کا انکار کر کے اسے چھوڑ دے، اﷲاس کے بکھرے ہوئے کا موں کو جمع نہ فرمائے اور اس کے حالات ٹھیک نہ کرے اور اس کے کسی کام میں برکت نہ فرمائے۔ اور غور سے سنو!اور جب تک وہ اپنے اس گناہ سے توبہ نہیں کرے گا اس کی نہ نماز قبول ہوگی، نہ زکوٰۃ، نہ حج، نہ روزہ اور نہ کوئی اور نیکی۔ جو توبہ کرے گا اﷲاس کی توبہ قبول کرے گا۔توجہ سے سنو! کوئی عورت ہر گز کسی مرد کی امامت نہ کرے اور نہ کوئی بدوی کسی مہاجر کا امام بنے اور نہ کوئی فاجر بدکار کسی مؤمن کا امام بنے۔ہاں اگر وہ فاجر طاقت سے اسے دباکر مجبور کردے، اور اسے اس کی تلوار اور کوڑے کا ڈر ہو۔1 حضرت جابر بن عبداﷲؓ فرماتے ہیں: جمعہ کے دن حضورﷺ نے کھڑے ہوکر بیان فرمایا اور ارشاد فرمایا: جو آدمی مدینہ سے ایک میل دور رہتا ہے اور جمعہ کا دن آجاتا ہے اور وہ جمعہ پڑھنے نہیں آتا تو اﷲ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔ پھر دوسری مرتبہ میں ارشاد فرمایا:جو آدمی مدینہ سے دو میل دور رہتا ہے اور جمعہ کا دن آجاتا ہے اور وہ جمعہ پڑھنے نہیں آتا اﷲاس کے دل پر مہر لگا دے گا۔ پھر تیسری مرتبہ میں ارشاد فرمایا: جو آدمی مدینہ سے تین میل دور رہتا ہے اور جمعہ کا دن آجاتا ہے اور وہ جمعہ پڑھنے نہیں آتا اﷲاس کے دل پر مہرلگا دے گا۔ 2