صحابہ کرام ؓ کے بیانات
حج میں حضورﷺ کے بیا نات و خطبا ت
حضرت ابنِ عباس ؓ فر ماتے ہیں: حضورﷺ نے حجۃ الوداع میں لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا:
شیطان اس بات سے تو نا اُمید ہو گیا ہے کہ تمہاری زمین میں اس کی عبا دت کی جا ئے (یعنی بتوں کی پر ستش ہو نے لگے)، لیکن وہ اس بات پر راضی ہے کہ کفر و شر ک کے علا وہ دوسرے ایسے گناہوں میں اس کی مانی جائے جن کو تم لو گ چھو ٹا سمجھتے ہو (چوںکہ کا فر تو کفر و شر ک کے بڑے گنا ہ میں مبتلا ہیں اس لیے شیطان انھیں چھوٹے گناہوں میں لگا نے پر زور نہیں لگاتا، اور مسلمان چوںکہ بڑے گناہ سے بچے ہوئے ہیں اس وجہ سے شیطان انھیں کفر و شر ک سے کم درجے کے گناہ قتل، جھوٹ، خیا نت وغیرہ میںلگا نے پر سارا زور لگا تا ہے)، لہٰذ ا چو کنّے ہو جا ؤ۔ اے لوگو! میں تمہارے پا س ایسی چیز چھوڑ کر جا رہا ہوںکہ اگر تم اسے مضبو طی سے پکڑ و گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے:اﷲ کی کتا ب اور اس کے نبی ﷺ کی سنت۔ ہر مسلمان دوسر ے مسلمان کا بھا ئی ہے اور سارے مسلمان آپس میں بھا ئی بھائی ہیں اور کسی آ دمی کے لیے اپنے مسلمان بھا ئی کے مال کو اس کی رضا مندی کے بغیر لینا حلال نہیں۔ اور ظلم نہ کرنا اور میرے بعد کا فر نہ بن جا نا (یا نا شکرے نہ بن جانا) کہ تم ایک دسرے کی گردن اڑانے لگ جا ئو۔ 1
حضرت ابنِ عباسؓفرماتے ہیں: حضورﷺنے ہم لوگوں میںمسجد ِخِیْف میں(جوکہ منیٰ میں ہے) بیان فرمایا۔ اللہ کی شان کے مطابق حمدوثنابیان کی، پھرفرمایا:
جوآخرت کی فکر کرتاہے اور اسے مقصدبناتاہے اللہ تعالیٰ اس کے بکھرے ہوئے کاموںکو جمع کردے گا اور غِنا کو اس کی آنکھوں کے سامنے کردے گا اور دُنیا ذلیل ہوکر اُس کے پاس آئے گی، اور جو دنیا کومقصد بناکر اس کی فکر کرتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے جمع شدہ کاموںکو بکھیر دے گا اور محتاجی کو اس کی آنکھوںکے سامنے کر دے گا اور دنیا تو اسے اتنی ہی ملے گی جو مقد ر میں ہے۔2
حضر ت ابنِ عمر ؓ فر ماتے ہیں: حضورﷺنے منیٰ کی مسجد ِخِیْف میں ہم لو گوں میں بیان فرمایا۔ ارشاد فر مایا:
اﷲ تعا لیٰ اس بندے کو ترو تازہ رکھے جس نے میر ی بات کو سنا اور کو شش کر کے وہ بات اپنے بھا ئی سے بیا ن کی۔تین چیزیں ایسی ہیں جن میں کسی مسلمان کا دل کمی اور خیا نت نہیں کرے گا: ایک عمل کو خالص اﷲ کے لیے کر نا، اور دو سرے حا کم اور اُمرا کی خیر خواہی کر نا ، تیسرے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ چمٹے رہنا کیوںکہ مسلمانوں کی دعا ان کو ہر طرف سے گھیرلیتی ہے (اور شیطان کے مکروفریب سے ان کی حفا ظت کر تی ہے)۔3
حضرت جابر ؓ نے حضورﷺ کے حج کے بارے میں ایک لمبی حدیث ذکر کی ہے جس میں یہ ہے کہ حضورﷺ منیٰ سے چلے اور مُزْدَلِفہ سے گزرتے ہوئے عرفات پہنچ گئے۔ وہاں جاکر آپ نے دیکھا کہ آپ کا خیمہ وادیٔ نِمرہ میں لگا ہواہے۔ آپ اس میں ٹھہر گئے۔ جب زوال کا وقت ہوگیا تو آپ نے حکم فرمایا: تو قصواء اونٹنی پر کجاوہ رکھا گیا۔ پھر آپ وادی کے درمیانی حصہ میں تشریف لے گئے اورلوگوں میں مشہور خطبہ بیان فرمایا۔جس میں آپ نے فرمایا:
تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر ایسے قابلِ احترام ہیں جیسے کہ تمہارا یہ دِن، تمہارا یہ مہینہ اور تمہارا یہ شہرقابلِ احترام ہے۔ غور سے سنو! جاہلیت کاہرغلط کام اور طور طریقہ میرے ان دوقدموں کے نیچے رکھاہوا ہے یعنی اسے ختم کردیا گیاہے۔ جاہلیت کے تمام خون بھی آج سے ختم ہیں اور میں اپنے خونوں میں سے سب سے پہلا ربیعہ بن حارث کے بیٹے کاخون ختم کرتاہوں جوکہ بنوسعد کے ہاں دودھ پی رہاتھا اور قبیلۂ ہُذیل نے اسے قتل کردیاتھا۔جاہلیت کے سود بھی ختم کردیے گئے ہیں اورمیں اپنے سودوں میں سب سے پہلے حضرت عباس بن عبدالمطلب کا سود معاف کرتاہوں اب یہ سارا معاف کردیا ہے۔ اورعورتوں کے بارے میں اﷲ سے ڈرو، کیوںکہ تم نے اﷲ کی امانت سے ان کو لیا ہے(تم ان کے مالک نہیں بلکہ امین ہو) اور اﷲ کے مقر کردہ طریقۂ نکاح کے ذریعہ تمہارے لیے وہ عورتیں حلال ہوئی ہیں۔ تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ جس کا آنا تمھیں پسند نہ ہو تو اسے وہ تمہارے گھر میں آنے نہ دیں، اگر وہ ایسا کر یں تو تم انھیں مارلولیکن یہ مار سخت نہ ہو۔ اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ دستور کے مطا بق انھیں کھانا اور کپڑا دو۔ اور میں تم میںایسی چیز چھو ڑ کر جا رہا ہوںکہ اگر تم اس کو مضبوطی سے پکڑ لو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے اور وہ ہے اﷲ کی کتا ب۔ تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو کیا کہو گے؟
صحابہ ؓ نے عرض کیا:ہم گو اہی دیتے ہیں کہ آپ نے(اﷲکا دین سارا) پہنچا دیا اور اُمّت کی خیر خواہی کی اور خدا کی امانت پہنچا دی۔ پھر آپ نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر لوگوں کی طرف نیچے جھکا ئی اور فر مایا: اے اﷲ!تو گواہ ہو جا، اے اﷲ!تو گواہ ہوجا! اور تین دفعہ ایسے فر مایا۔1
حضرت ابنِ عبا س ؓ فر ماتے ہیں: نحر کے دن یعنی دس ذی الحجہ کو حضورﷺ نے لو گو ں میں بیا ن فر مایا، ارشاد فر مایا: اے لو گو!یہ کو ن سا دن ہے؟ لو گوں نے کہا: یہ قابلِ احترام دن ہے۔ آپ نے پو چھا: یہ کو ن سا شہر ہے؟ لو گوں نے کہا: یہ قابلِ احترام شہر ہے۔
آپ نے پوچھا: یہ کو ن سا مہینہ ہے؟ لو گوں نے کہا: یہ قابلِ احترام مہینہ ہے۔ آپ نے فرمایا: تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایسے ہی قابلِ احترام ہیں جیسے کہ تمہارا یہ دن، تمہارا یہ شہر اور تمہارا یہ مہینہ قابلِ احترام ہے اور اس با ت کو کئی مر تبہ فر مایا۔ پھر سر اٹھا کر فر مایا: اے اﷲ! میں نے پہنچا دیا ہے۔ اے اللہ! میں نے پہنچا دیا ہے۔
حضر ت ابنِ عبا س ؓ فر ماتے ہیں: اس ذات کے قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اس کے بعد حضورﷺ نے اپنی اُمّت کو زبر دست وصیت فر مائی کہ حا ضرین (میرا سارا دین تمام) غائب انسانوں تک پہنچا ئیں۔ میرے بعد کا فر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن اُڑانے لگو۔1
حضر ت جریر ؓ فر ماتے ہیں: حضورﷺ نے فر مایاـ: لوگوں کو چپ کراؤ۔ پھر آپ نے فرمایا: اب تو میں تمہارے حالات اچھے دیکھ رہا ہو ں، لیکن اس کے بعد میرے علم میں یہ بات نہ آئے کہ تم لوگ کا فر بن کر ایک دوسرے کی گر دن اُڑانے لگے ہو۔
دوسری روایت میں ہے کہ حضورﷺ نے حجۃ الوداع میں فر مایا: اے جریر!لوگو ں کو چپ کراؤ۔ پھر پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔ 2
حضرت اُمُّ الحصین ؓ فر ماتی ہیں: میں نے حضور ﷺ کے ہمراہ حجۃ الوادع کیا۔میں نے دیکھا کہ حضرت اُسامہ اور حضرت بلال ؓ میں سے ایک نے حضورﷺ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ رکھی ہے اور دوسرا حضورﷺ کو گر می سے بچا نے کے لیے آپ پر اپنے کپڑے سے سایہ کیے ہوئے ہے۔ یہاں تک کہ حضورﷺنے جمرۃُ العقبہ (بڑے شیطان) کو کنکریاں ماریں، پھر حضورﷺ نے بہت سی با تیں ارشاد فر مائیں۔ پھر میں نے آپ کو فر ماتے ہو ئے سنا کہ اگر تم پر ناک کان کٹا ہو ا غلام امیر بنا دیا جائے جو کالا ہو، مگر وہ تمھیں اﷲ کی کتا ب کے مطا بق لے کر چلے تو تم اس کی ہر بات سنو اور مانو۔ 1
حضرت ابواُمامہؓفر ماتے ہیں: حجۃ الوداع کے سال میں نے حضورﷺ کو خطبہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا:
اﷲ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق خود دے دیا ہے، لہٰذا اب وارث کے لیے وصیت نہیں ہو سکتی۔ اور بچہ بستر کے مالک کا ہوگا اور زانی کو پتھر ملے گا اور سب کاحساب اللہ کے ہاں ہوگا۔ اور جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے بیٹے ہونے کی نسبت کی یا جس غلام نے اپنے آقائوں کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے غلام ہونے کی نسبت کی، اس پر قیا مت کے دن تک مسلسل اﷲ کی لعنت ہوگی۔ کو ئی عورت اپنے گھر سے خا و ند کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے۔
کسی نے پو چھا: یا رسول اﷲ!کھا نا بھی نہیں دے سکتی؟ آپ نے فر مایا: کھا نا تو ہمارے گھر کی چیزوں میں سے سب سے اَفضل چیز ہے۔ پھر آپ نے فر مایا: عاریتًا مانگی ہوئی چیز واپس دینی ہوگی اور جو جانور دودھ پینے کے لیے کسی کو دیا تھا وہ و اپس کر نا ہو گا۔ قرض ادا کرنا ہوگا اور کفیل تاوان کا ذمہ دار ہوگا۔2
ابو داود کی روایت میں ہے کہ حضر ت ابو اُمامہ ؓ نے فر مایا کہ میں نے منیٰ میں حضور ﷺ کا بیان سنا۔
حضرت ابو اُمامہ ؓ فر ماتے ہیں: حضورﷺ جَدعاء نا می اونٹی پر سوار تھے اور اس کی رِکاب میں پائوں رکھ کر آپ بلند ہو رہے تھے تا کہ لوگ آپ کی آواز سن لیں۔میں نے سنا کہ آپ نے اونچی آواز میں فر مایا: کیا تمھیں میری آواز سنا ئی نہیں دے رہی ہے؟ تو مجمع میں سے ایک آدمی نے کہا:آپ ہمیںکیا نصیحت فرمانا چاہتے ہیں؟آپ نے فر مایا: اپنے ربّ کی عبادت کرو اور پانچ نمازیں پڑھو اور ایک ماہ کے روزے رکھو اور اپنے امیر کی اطاعت کرو، اس طرح تم اپنے ربّ کی جنت میں داخل ہو جا ؤ گے۔1
حضرت عبدالرحمن بن معاذ تیمیؓ فر ماتے ہیں: ہم لوگ منیٰ میں تھے وہاں ہم میں حضور ﷺ نے بیان فرمایا۔ ا ﷲ نے ہمارے سننے کی طاقت بہت بڑھادی یہاں تک کہ ہم میں سے جو لوگ اپنی قیام گاہوں میں تھے وہ بھی حضورﷺکا بیان سن رہے تھے۔ چناںچہ حضور ﷺ انھیں حج کے اَحکام سکھانے لگے۔ جب آپ جمرے کے پاس پہنچے تو آپ نے دونوں کانوں میں شہادت کی انگلیاں ڈال کر اونچی آوازسے فرمایا: چھو ٹی کنکریاںمارو۔ پھر آپ نے حکم دیا تو مہا جرین مسجد (خِیْف) کے سامنے اور اَنصار مسجد کے پیچھے ٹھہرے۔ پھر باقی عام لوگ اپنی اپنی جگہوں میں ٹھہرے۔ 2
حضرت رافع بن عمرو مزنی ؓ فرماتے ہیں: جب سورج بلندہوگیا تو میں نے حضورﷺ کو منیٰ میں خاکستری رنگ کے خچر پر لوگوںمیں بیان کرتے ہوئے سنا اور حضرت علیؓ آپ کی بات لوگوں کو آگے پہنچا رہے تھے، اور لوگ کچھ کھڑے تھے اور کچھ بیٹھے۔3
حضرت ابو حُر ّہ رقاشی اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ میں ایامِ تشریق کے درمیانی دنوں میں حضورﷺ کی اونٹنی کی نکیل پکڑے ہو ئے تھا اور لوگوں کو آپ سے ہٹا رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: اے لوگو!کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا مہینہ ہے، کو ن سا دن ہے اورکون سا شہر ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: دن بھی قا بلِ احترام ہے اور مہینہ بھی قا بلِ احترام ہے اور شہر بھی۔ آپ نے فرمایا:
بے شک تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عز تیں تمہارے لیے ایسے ہی قابلِ احترام ہیں جیسے یہ دن، یہ مہینہ اور شہر قابلِ احترام ہے، اور یہ حکم اﷲ سے ملا قات تک کے لیے ہے یعنی زندگی بھر کے لیے ہے۔
پھر آپ نے فرمایا:
میری بات سنو تو زندہ رہوگے۔ خبردار! ظلم نہ کرنا۔ خبردار! ظلم نہ کرنا۔ خبردار! ظلم نہ کرنا۔ کسی مسلمان کا مال اس کی رضامندی کے بغیر لینا جائز نہیں ہے۔ غور سے سنو! زمانۂ جا ہلیت کا ہر خون،ہر مال اور قابلِ فخر کام میرے اس قدم کے نیچے قیامت تک کے لیے رکھا ہو ا ہے، یعنی ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے، اور سب سے پہلے ربیعہ بن حارث بن عبد المطّلب کا خون ختم کیا جاتا ہے جو بنو سعد میں دودھ پی رہا تھا اور قبیلہ ٔہذ یل نے اسے قتل کر دیا تھا۔ غور سے سنو! زمانہ ٔجا ہلیت کا ہر سود ختم کیا جاتا ہے اور اﷲ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سب سے پہلے حضرت عباس بن عبدالمطّلب کا سود ختم کیا جائے۔ تمھیں تمہا را اصل سرما یہ مل جا ئے گا نہ تم کسی پر ظلم کرو گے، نہ کو ئی تم پر ظلم کرے گا۔ غور سے سنو! جس دن اﷲ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا تھا اس دن والی حالت پر زمانہ گھوم کر پھر آگیا ہے۔
آپ نے یہ آیت پڑھی:
{اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْہَا اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ط ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ۵لا فَلاَ تَظْلِمُوْا فِیْہِنَّ اَنْفُسَکُمْ}1
یقینا شمار مہینوںکا (جو کتابِ الٰہی میں) اﷲ کے نزدیک (معتبر ہیں) بارہ مہینے (قمری) ہیں جس روز اﷲ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کیے تھے (اسی روزسے، اور) ان میں چا رخاص مہینے ادب کے ہیں یہی (امرِمذکور) دینِ مستقیم ہے، سو تم ان سب مہینوں کے با رے میں (دین کے خلا ف کر کے) اپنا نقصان مت کرنا۔
توجہ سے سنو! میرے بعد تم کافر نہ ہو جا نا کہ تم ایک دوسرے کی گردن اُڑانے لگو۔غور سے سنو! شیطان اس بات سے نا اُمید ہو گیا ہے کہ نما زی لوگ یعنی مسلمان اس کی عبا دت کریں۔ البتہ وہ تمھیں آپس میں لڑانے کی کو شش میں لگا رہتا ہے۔ اور عورتوں کے بارے میں اﷲ سے ڈرو، کیوںکہ وہ عورتیں تمہا رے پاس قید ی ہیں کیوںکہ انھیں اپنی ذات کے با رے میں کو ئی اختیا ر نہیں ہے۔اُن کے بھی تمہارے اوپر حق ہیں اور تمہارے بھی اُن کے اوپرحق ہیں۔اور ان میں سے ایک حق یہ ہے کہ وہ تمہارے علاوہ کسی کو بھی تمہارے بستر پر آنے نہ دیں اور جس کا آنا تمھیں برا لگے اسے گھر میں آنے کی اجازت نہ دیں۔ اگر تمھیں ان کی نا فرمانی کا ڈر ہو تو انھیں سمجھاؤ، وعظ نصیحت کرو اور بستروں پر انھیں تنہا چھوڑ دو اور انھیں اس طرح مارو کہ زیادہ تکلیف نہ ہو، اور دستور کے مطا بق کھا نا، کپڑا ان کا حق ہے۔ اﷲ کی امانت سے تم نے انھیں لیا ہے یعنی تم ان کے امین ہو مالک نہیں، اور اﷲ کے مقرر کردہ طریقہ سے یعنی نکا ح کے ایجاب و قبول سے وہ تمھا رے لیے حلال ہو ئی ہیں۔ غور سے سنو!جس کے پا س کو ئی امانت ہے تو وہ اسے اس آدمی کو واپس کر دے جس نے اس کے پا س امانت رکھوائی تھی۔
پھر آپ نے ہا تھ پھیلا کر فر مایا:
غور سے سنو! میںنے(اﷲ کا سارا دین)پہنچا دیا ہے۔غور سے سنو!میں نے پہنچا دیا ہے۔غور سے سنو!میں نے پہنچا دیا ہے۔ اور حا ضر ین اب غیر حاضر لوگوں تک پہنچائیں،کیوںکہ بعض دفعہ جسے بات پہنچا ئی جا تی ہے وہ برا ہِ راست سننے والے سے زیادہ نیک بخت ہوتا ہے۔
حضرت حمید کہتے ہیں: حضرت حسن بصری جب حدیث کے اس مضمون پر پہنچے تو فرمایا: اﷲ کی قسم! صحابۂ کرام ؓ نے دین ایسے لوگوں کو پہنچایا جو دین کی وجہ سے بہت زیادہ نیک بخت ہوگئے۔1
بزار میں حضرت ابنِ عمرؓ سے اسی کے ہم معنی حدیث منقول ہے۔ اس کے شروع میں یہ بھی ہے: حجۃ الوداع کے سفر ایامِ تشریق کے درمیانی دنو ںمیں منیٰ میں حضورﷺ پر یہ سورت نازل ہوئی:
{اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُآیت کا نشان}2
(اے محمد!) جب خدا کی مدد اور (مکہ کی) فتح(مع اپنے آثار کے)آپہنچے۔
اس سورت سے آپ سمجھ گئے کہ اب آپ کے دنیا سے جا نے کا وقت آگیا ہے، اس لیے آپ کے فرمانے پر آپ کی قصواء اونٹنی پر کجاوہ رکھا گیا۔ آپ اس پر سوار ہو کر گھا ٹی پر آکر لوگوں کے لیے کھڑے ہو گئے جس پر بے شمار مسلمان وہاں جمع ہو گئے۔ آپ نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا:
امابعد! اے لوگو! جاہلیت کا ہر خون ختم کردیا ہے۔
اس حدیث میں آگے یہ بھی ہے: اے لوگو! شیطان اس بات سے تو نااُمید ہو گیا ہے کہ تمہارے علاقے میں آخری وقت تک اس کی عبا دت کی جائے، لیکن وہ تم سے اس با ت پر راضی ہو جا ئے گا کہ تم چھو ٹے مو ٹے گنا ہ کرو۔ اس لیے تم شیطان سے چوکنے ہوکر رہو، اپنے دین پر پکے رہو اور چھوٹے موٹے گناہ کرکے اسے خو ش نہ کرو۔
اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ
اے لوگو!میں تم میںایسی چیز چھوڑکر جا رہا ہوںکہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے اور وہ ہے اﷲ کی کتاب لہٰذا تم اس پر عمل کرو۔
اور اس روایت کے آخر میں یہ ہے کہ
تو جہ سے سنو! تمہارے حاضرین غائبین تک پہنچا ئیں، میرے بعد کو ئی نبی نہیںہے اور تمہارے بعد کوئی اُمّت نہیں ہے۔
پھر آ پ نے ہا تھ اٹھا کر فرمایا: اے اﷲ! تو گواہ ہو جا۔ 1
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں: ایامِ تشریق کے درمیانی دنوں میں حضورﷺ نے ہم لوگوں میں الوداعی بیان فرمایا۔ ارشاد فرمایا:
اے لوگو! تمہارا ربّ ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، یعنی آدم ؑ۔ غور سے سنو!کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں۔اور کسی سرخ انسان کو کالے پر اور کسی کالے کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں۔ایک انسان کو دوسرے انسان پرصرف تقو یٰ سے فضیلت ہو سکتی ہے۔تم میں سے اﷲکے ہاں سب سے زیادہ شرافت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ تقو یٰ والا ہے۔تو جہ سے سنو!کیا میں نے (اﷲ کا دین سارا) پہنچا دیا ہے؟
صحابہ نے کہا:با لکل یارسول اﷲ!آپ نے فر مایا:اب حاضرین غا ئبین تک پہنچائیں۔2
حضرت عبد اﷲ بن مسعود ؓ فر ماتے ہیں: حضور ﷺ عر فات میں اپنی کان کٹی ہوئی اونٹنی پر کھڑے ہو ئے اور فر مایا: کیا تم لوگ جانتے ہو یہ کو ن سا دن ہے، یہ کو ن سا مہینہ ہے، یہ کو ن سا شہر ہے؟ صحا بہ کرام نے کہا:یہ قا بلِ احترام شہر ہے اور قا بلِ احترام مہینہ ہے اور قا بلِ احترام دن ہے۔ آپ نے فر مایا:
غور سے سنو! تمہارے مال اور تمہارے خون تمہارے لیے اسی طر ح قابلِ احترام ہیں جیسے تمہارا یہ مہینہ، تمہارا یہ شہر اور تمہارا یہ دن قا بلِ احترام ہے۔ میں تمہا ری ضرورتوں کے لیے تم سے پہلے آگے جارہا ہوں اور حوضِ(کو ثر) پر تمھیں ملو ں گا اور میں تمہاری تعداد کے زیادہ ہونے کی وجہ سے دوسری اُمتوں پرفخر کروں گا، لہٰذا (برے اعمال کر کے کل قیامت کے دن) میرا منہ کا لا نہ کرنا۔ غور سے سنو! (کل قیامت کے دن) میں بہت سے لوگوں کو (شفاعت کر کے دوزخ سے) چھڑالوں گا، لیکن کچھ لوگوں کو مجھ سے چھڑالیا جائے گا (فر شتے چھڑا کر دور لے جا ئیں گے)۔ میں کہوںگا: اے میرے ربّ!یہ تو میرے سا تھی ہیں۔اﷲتعالیٰ فر مائیں گے: تمھیں معلو م نہیں انھوں نے تمہارے بعد کیا کرتو ت کیے تھے (اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو حضورﷺکے زما نے میںمسلمان تھے،لیکن حضورﷺ کی وفا ت پر مر تد ہو گئے)۔1