صحابہ کرام ؓ کے بیانات

برے اَخلاق سے بچا نے کے با رے میں حضورﷺکا بیان

حضرت عبدا ﷲ بن عمرؓ فر ماتے ہیں: ایک مرتبہ حضورﷺ نے ہم لوگوں میںبیان فرمایا۔ اس میں ارشاد فرمایا: ظلم سے بچو،کیوںکہ قیامت کے دن یہ ظلم بہت سے اندھیرے ہو ں گے۔ اور بد کلامی اور بتکلُّف بد کلامی سے بچو، اور لا لچ سے بچو، کیوںکہ کہ تم سے پہلے لوگ لالچ کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور لالچ کی وجہ سے رشتے توڑ دیے اور کنجوسی سے کام لیا اور لالچ میں آکر بد کاری کے مُرْ تکب ہوئے۔ پھر ایک آدمی نے کھڑے ہوکر عرض کیا: یا رسول اﷲ! اسلام کا کون سا عمل سب سے اَفضل ہے؟ آپ نے فرما یا: یہ کہ مسلمان تمہاری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہے۔ اسی آدمی نے یا دوسرے نے پو چھا: یا رسول اﷲ! ہجرت کی کون سی صورت سب سے اَفضل ہے؟ فر مایا: یہ کہ تم اُن کاموں کو چھو ڑدو جو تمہارے ربّ کو ناپسند ہیں۔ ہجرت دو طرح کی ہے: ایک شہر والوں کی ہجرت اور ایک دیہات والوں کی۔ دیہات والوں کی ہجرت یہ ہے کہ (رہے تو اپنے دیہات میں لیکن) جب اسے (تقا ضے کے لیے) بلایا جائے تو فوراً ہاں کہے، اور جب اسے حکم دیا جائے تو اسے فوراً پورا کرے۔ شہر والوں کی ہجرت میں آزمایش بھی زیادہ ہے اور اجر بھی زیادہ (کیوںکہ اپنا وطن ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر مدینہ آکر رہے گا اور دعوت کے تقاضوں میں ہر وقت چلے گا)۔1 طبرانی میں حضرت ہِرماس بن زیاد ؓ سے یہی حد یث مختصر طور سے منقول ہے، لیکن اس کے شروع میں یہ ہے کہ خیا نت سے بچو، کیوںکہ یہ بہت بُری اندرونی صفت ہے۔ 2