صحابہ کرام ؓ کے بیانات
کبیرہ گناہوں سے بچا نے کے بارے میں حضورﷺ کا بیان
حضرت اَیْمن بن خُریم ؓ فرماتے ہیں: ایک دن حضورﷺنے کھڑے ہوکر بیان فرمایا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو!جھوٹی گواہی اﷲکے ہاں شرک کے برابرشمارہوتی ہے۔ یہ بات تین دفعہ ارشاد فرمائی، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
{فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِآیت کا نشان}1
تو تم لوگ گند گی سے یعنی بتوں سے (بالکل) کنارہ کش رہو اور جھوٹی بات سے کنارہ کش رہو۔ 4
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ نے ہم میں بیان فرمایا اور سود کا ذکر فرمایا اورا سے بہت بڑا گناہ بتایا اور فرمایا: آدمی سود میں جوایک درہم لیتا ہے اﷲکے ہاں اس کا گناہ چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ ہے اور سب سے بدترین سود مسلمان کی آبروریزی ہے۔1
حضرت ابو موسی اَشعری ؓ فرماتے ہیں: ایک دن حضورﷺ نے ہم لوگوں میں بیان فرمایا۔ ارشاد فرمایا:
اے لوگو!شرک سے بچو،کیوںکہ شرک چیو نٹی کی چال سے بھی زیا دہ پو شیدہ ہے۔ اور ہوسکتا ہے کہ یہ با ت سن کر کوئی یوں کہے: یا ر سول اﷲ! جب شرک چیو نٹی کی چال سے بھی زیادہ پو شیدہ ہے تو ہم اس سے کیسے بچیں؟فرما یا:تم یہ دعا پڑھا کرو:
اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَعُوْذُ بِکَ أَنْ نُشْرِکَ بِکَ وَنَحْنُ نَعْلَمُہٗ، وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا نَعْلَمُہٗ۔
اے اﷲ! ہم اس بات سے تیری پناہ چا ہتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہو کہ یہ شرک ہے اور ہم پھر تیرے ساتھ وہ شرک کریں اور جس شرک کا ہمیں پتا ہی نہیں اس کی ہم معا فی چا ہتے ہیں۔2