صحابہ کرام ؓ کے بیانات
امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب ؓ کے بیانات
حضرت حُمید بن ہلال کہتے ہیں: ایک صاحب حضرت ابوبکر ؓ کی وفات کے موقع پر موجود تھے۔ انھوںنے ہمیں بتایا کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابوبکر کے دفن سے فارغ ہو کر قبر کی مٹی ہاتھوں سے جھاڑی، پھر اسی جگہ کھڑے ہو کر بیان کیا اور اس میں فرمایا:
اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ سے مجھے اور میرے ذریعہ سے تمھیں آزمائیں گے، اور اللہ نے مجھے میرے دو حضرات (رسول پاک ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ) کے بعد آپ لوگوں میں باقی رکھا ہے۔ اللہ کی قسم! ایسے نہیں ہو سکے گا کہ میرے پاس تمہارا کو ئی کام پیش ہو اور میرے علاوہ کو ئی اور اس کام کو کرے۔ اور نہ ہی ایسے ہو سکے گا کہ تمہارا کوئی کام میری غیر موجودگی سے تعلق رکھتا ہو اور میں اس کی کفایت کر نے اور اس کے بارے میں امانت داری اختیار کر نے میں کوتاہی کروں۔ اگر لوگ اچھے عمل کریں گے تو میں اُن کے ساتھ اچھا سلوک کروں گا، اور اگر برے عمل کریں گے تو میں انھیں عبرت ناک سزا دوں گا۔
وہ بتا نے والے صاحب کہتے ہیں: اللہ کی قسم! حضرت عمر نے دنیا سے جانے تک پہلے دن کے بیان کردہ اپنے اس اصول کے خلاف نہ کیا، ہمیشہ اسی پر قائم رہے۔2
حضرت شعبیکہتے ہیں: جب حضرت عمر بن خطابؓ خلیفہ بنے تو وہ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا:
اللہ تعالیٰ مجھے ایسا نہیں دیکھنا چاہتے کہ میں اپنے آپ کو منبر کی اس جگہ بیٹھنے کا اہل سمجھوں جہاں ابوبکر ؓ بیٹھا کر تے تھے۔
یہ کہہ کر حضرت عمر ایک سیڑھی نیچے ہو گئے۔ پھر اللہ کی حمد وثنا بیان کی، پھر فرمایا:
قرآن پڑھو، اس کے ذریعہ سے تم پہچانے جائو گے۔ اور قرآن پر عمل کرو، اس سے تم قرآن والوں میں سے ہوجائو گے۔ اور اعمال نامہ کے تو لے جانے سے پہلے پہلے تم خود اپنا موازنہ کر لو اور اس دن کی بڑی پیشی کے لیے اپنے آپ کو(نیک اعمال) سے آراستہ کرلو جس دن تم اللہ کے سامنے پیش کیے جائوگے اور تمہاری کوئی پوشیدہ سے پوشیدہ بات چھپی نہیں رہ سکے گی۔ اور کسی حق والے کا حق اتنا نہیں بنتا کہ اس کی بات مان کر اللہ کی نافرمانی کی جا ئے۔ غور سے سنو!میں اللہ کے مال یعنی بیت المال میں سے اتنا لوںگا جتنا یتیم کے والی کو یتیم کے مال میں سے ملتا ہے۔ اگر مجھے اس کی بھی ضرورت نہ ہوئی تو میں یہ بھی نہیں لوں گا، اور اگر ضرورت ہوئی تو کام کرنے والے کو عام طور سے جتنا ملتا ہے اس کے مطابق لوںگا۔1
حضرت عمر ؓ نے ایک بیان میں فرمایا:
اللہ تعالیٰ کے تم سے حساب لینے سے پہلے پہلے تم اپنا محا سبہ کر لو، اس سے اللہ کا حساب آسان ہو جائے گا۔ اور اعمال نامہ کے تو لے جانے سے پہلے پہلے تم اپنا موازنہ کرلو اور اس دن کی بڑی پیشی کے لیے اپنے آپ کو (نیک اعمال سے) آراستہ کرلو جس دن تم اللہ کے سامنے پیش کیے جائو گے اور تمہاری کوئی پوشیدہ سے پوشیدہ بات چھپی نہیں رہ سکے گی۔2
حضرت ابو فِراس کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے بیان فرمایا اور ارشاد فرمایا:
اے لوگو! غور سے سنو! پہلے ہمیں آپ لوگوں کے اندرونی حالات اس طرح معلوم ہوجاتے تھے کہ نبی کریمﷺ ہمارے درمیان تشریف فرماتھے اور وحی نازل ہوا کر تی تھی اور اللہ تعالیٰ ہمیں آپ لوگوں کے حالات بتادیا کرتے تھے (کہ کون مؤمن ہے کون منافق؟ اور کس مؤمن کا درجہ بڑاہے اور کس کا چھوٹا؟) غور سے سنو! حضورﷺ اب تشریف لے جاچکے اور وحی کا سلسلہ بھی بند ہوچکا، اس لیے اب ہمارے لیے آپ لوگوں کے حالات و درجات معلوم کرنے کا طریقہ وہ ہوگا جواَب ہم بتانے لگے ہیں۔ آپ میں سے جو خیر کو ظاہر کرے گا ہم اس کے بارے میں اچھا گمان رکھیں گے اور اسی وجہ سے اس سے محبت کریں گے، اور جو ہمارے سامنے شرظاہر کرے گا ہم اس کے بارے میں برا گمان رکھیں گے اور اسی وجہ سے اس سے بغض رکھیں گے۔ اور آپ لوگوں کے پوشیدہ اور اندرونی حالات آپ کے اور آپ کے ربّ کے درمیان ہوں گے، یعنی ہم تو ہر ایک کے ظاہر کے مطابق اس کے متعلق فیصلہ کریں گے۔
غور سے سنو! ایک وقت تو ایسا تھا کہ مجھے اس بات کا یقین تھا کہ ہر قرآن پڑھنے والا صرف اللہ کے لیے اور اللہ کے ہاں کی نعمتوں کے لینے کے ارادے سے پڑھ رہا ہے، لیکن اب آخر میں آکر کچھ ایسا اندازہ ہورہا ہے کہ کچھ لوگ جو کچھ انسانوںکے پاس ہے اسے لینے کے ارادے سے قرآن پڑھتے ہیں، تم قرآن کے پڑھنے سے اور اپنے اعمال سے اللہ کی رضامندی کا ہی ارادہ کرو۔ توجہ سے سنو! اللہ کی قسم! میں اپنے گورنر آپ لوگوں کے پاس اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ آپ لوگوں کی کھا لوں کی پٹائی کریں یا آپ لوگوں کے مال لے لیں، بلکہ اس لیے بھیجتا ہوں تا کہ وہ آپ لوگوں کو دین اور سنت سکھا ئیں۔ جو گورنر کسی کے ساتھ اس کے علاوہ کچھ اور کرے وہ اس گورنر کی بات میرے پاس لے کر آئے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے!میں اسے اس گورنر سے ضرور بدلہ لے کر دوں گا۔ غور سے سنو! مسلمانوں کی پٹائی نہ کرو ورنہ تم انھیں ذلیل کردوگے۔ اور اسلامی سرحد سے انھیں گھر واپس جانے سے نہ روکو ورنہ تم انھیں فتنہ میں ڈال دو گے۔ اور ان کے حقوق ان سے نہ رو کو (بلکہ ادا کرو) ورنہ تم انھیں ناشکری میں مبتلا کردوگے۔ اور گھنے درختوں والے جنگل میں انھیں لے کر مت پڑائوڈالنا ورنہ (بکھر جانے کی وجہ سے دشمن کا دائو چل جائے گا اور) وہ ضائع ہوجائیں گے۔1
حضرت ابوالعجفاء کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے بیان میں فرمایا:
غور سے سنو! عورتوں کے مہر بہت زیادہ مقررنہ کرو، کیوںکہ اگر مہر کا زیادہ ہونا دنیا میں عزت کی چیز ہوتی یا اللہ کے ہاں تقویٰ والاکام شمار ہوتا تو نبی کریم ﷺ تم سے زیادہ اس کے حق دار ہوتے۔ حضور ﷺ نے اپنی کسی بیوی یا بیٹی کا مہر بارہ اوقیّہ یعنی چار سو اَسّی درہم سے زیادہ مقرر نہیں فرمایا۔ تم لوگ مہر بہت زیادہ مقرر کر لیتے ہو، لیکن جب دینا پڑتاہے تو پھر دل میں اس عورت کی دشمنی محسوس کرتے ہو۔ تم مہر دیتے بھی ہو، لیکن اس عورت سے کہتے ہو کہ مجھے تیرے مہر کی وجہ سے مشک بھی اٹھانی پڑی اور بہت مشقت بھی۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ تمہارے غزوات میں جو آدمی قتل ہو جاتاہے تم اس کے بارے میں کہتے ہو: فلاں شہید ہو کر قتل ہوا، یا فلاں نے شہید ہوکر وفات پائی (بغیر تحقیق کے کسی کے شہید ہونے کا حتمی فیصلہ نہ کیا کرو)، کیوںکہ ہوسکتا ہے کہ وہ تجارت کے ارادے سے ساتھ آیا ہو، اور اس نے اپنی سواری کے آخری حصے پر اور کجاوے کی ایک جانب سونا چاندی لاد رکھا ہو (وہ تجارت والا اللہ کے راستے میں نہیں ہے)۔ اس لیے یہ بات نہ کہا کرو، بلکہ جیسے حضورﷺ نے فرمایا ویسے کہاکرو کہ جو آدمی اللہ کے راستہ میں قتل ہوا یا فوت ہوا وہ جنت میں جائے گا۔1
حضرت مسروق کہتے ہیں: ایک دن حضرت عمر بن خطابؓ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا:
اے لوگو! عورتوں کے مہر زیادہ کیوں مقرر کر تے ہو؟ حضورﷺ اور آپ کے صحابہ کے زمانے میں مہر چار سو درہم یا اس سے کم ہوا کر تا تھا۔اگر مہر بہت زیادہ مقرر کر نا اللہ کے ہاں تقویٰ کا یا عزت کا کام ہوتا تو آپ لوگ اس میں حضورﷺ اور صحابہ سے آگے نہ نکل سکتے۔2
نکاح کے باب میں اس بیان کی چند روایات ہم ذکر کر چکے ہیں۔
ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے جابیہ شہر میں بیان فرمایا پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا:
جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔
حضرت عمر ؓ کے سامنے ایک پادری بیٹھا ہوا تھا اس نے فارسی میں کچھ کہا۔ حضرت عمر نے اپنے ترجمان سے پوچھا:یہ کیا کہہ رہاہے؟ ترجمان نے بتایا: یہ کہہ رہاہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو گمراہ نہیں کرتے۔ حضرت عمر نے فرمایا:
او اللہ کے دشمن! تم غلط کہتے ہو، بلکہ اللہ نے تمھیں پیدا کیا اور اسی نے تمھیں گمراہ کیا اور ان شاء اللہ وہ تمھیں دوزخ کی آگ میں داخل کرے گا۔ اگر تمہارے (ذمی ہونے کے) عہد کا پاس نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن اڑا دیتا۔
پھرفرمایا:
اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم ؑ کو پیدا فرمایا تو اُن کی ساری اولاد ان کے سامنے بکھیر دی، اور جنت والوں کے نام اور ان کے اعمال (لوحِ محفوظ میں) اسی وقت لکھ دیے، اور اسی طرح دوزخ والوں کے نام اور اُن کے اعمال بھی اسی وقت لکھ دیے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ لوگ اس (جنت) کے لیے ہیں اور یہ لوگ اس (دوزخ) کے لیے ہیں۔
راوی کہتے ہیں: پھرلوگ بکھر گئے اور تقدیر کے بارے میں اختلاف کر نے لگے۔1
حضرت عبدالرحمن بن اَبزیٰ کہتے ہیں: کسی آدمی نے آکر حضرت عمر ؓ کو بتایا کہ کچھ لوگ تقدیر کے بارے میں غلط باتیں کر تے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے کھڑے ہو کر بیان فرمایا، ارشاد فرمایا:
اے لوگو! تم سے پہلی اُمتیں تقدیر کے بارے میں غلط باتیں کرکے ہی ہلاک ہوئی ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں عمر کی جان ہے! آیندہ جن دو آدمیوں کے بارے میں میں نے یہ سنا کہ یہ تقدیر کے بارے میں (اپنی عقل سے) باتیں کررہے ہیں تو میں دونوں کی گردن اُڑا دوں گا۔
راوی کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ کا یہ اعلان سن کر تمام لوگوں نے تقدیر کے بارے میں بات کرنی چھوڑدی۔ پھر حجاج کے زمانے میں شام میں ایک جماعت ظاہر ہوئی جس نے سب سے پہلے تقدیر کے بارے میں بات کرنی شروع کی۔2
حضرت باہلی کہتے ہیں: جب حضرت عمر ؓ ملکِ شام میں داخل ہو ئے تو انھوں نے جابیہ شہر میں کھڑے ہو کر بیان فرمایا۔ ارشاد فرمایا:
قرآن سیکھو اس سے تمہارا تعارف ہوگا اور قرآن پر عمل کرو اس سے تم قرآن والوں میں سے ہوجائوگے۔اور کسی حق دار کا درجہ اتنا بڑا نہیں ہوسکتا کہ اس کی بات مان کر اللہ کی نافرمانی کی جائے۔اور اس بات کا یقین رکھو کہ حق بات کہنے سے اور کسی بڑے کو نصیحت کرنے سے نہ تو موت قریب آتی ہے اور نہ اللہ کا رزق دورہوتاہے۔ اور اس بات کو جان لو کہ بندے اور اس کی روزی کے درمیان ایک پردہ پڑاہواہے۔ اگر بندہ صبر سے کام لیتا ہے تو اس کی روزی خود اس کے پاس آ جاتی ہے اور اگر بے سوچے سمجھے روزی کمانے میں گھس جاتا ہے (حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتا) تو وہ اس پردے کو تو پھاڑ لیتا ہے، لیکن اپنے مقدر کی روزی سے زیادہ نہیں پاسکتا۔
گھوڑوں کو سدھائو اور تیر چلانا سیکھو اور جوتی پہنا کرو اور مسواک کیا کرو اور موٹا جھوٹا استعمال کرو، اور عجمیوں کی عادتیں اختیار کرنے سے اور ظالم جابر لوگوں کے پڑوس سے بچو۔ اور اس سے بھی بچو کہ تمہارے درمیان صلیب بلند کی جائے یا تم اس دسترخوان پر بیٹھو جس پر شراب پی جائے۔ اور بغیر لنگی کے حمام میں داخل ہونے سے بھی بچو اور اس سے بھی بچو کہ تم عورتوں کو ایسے ہی چھوڑ دو کہ وہ حمام میں داخل ہوں، کیوںکہ حمام میں داخل ہونا عورتوں کے لیے جائز نہیں۔تم جب عجمیوں کے علاقہ میں پہنچ جائو اور ان سے معاہدہ کرلو تو پھر کمائی کے ایسے کام اختیار کر نے سے بچو جن کی وجہ سے تمھیں وہاں ہی رہنا پڑجائے اور ملکِ عرب میں واپس نہ آسکو،کیوںکہ تمھیں اپنے علاقہ میں عن قریب واپس آنا ہے۔ اور ذلت اور خواری کو اپنی گردن میں ڈالنے سے بچو۔ عرب کے مال مویشی کو لازم پکڑو۔ جہاں بھی جائو انھیں ساتھ لے جائو۔ اور یہ بات جان لو کہ شراب تین چیزوں سے بنائی جاتی ہے:کشمش، شہد اور کھجور۔ جو اس میں سے پرانی ہو جائے (اور اس میں نشہ پیدا ہوجائے) تو وہ شراب ہے جو کہ حلال نہیں ہے۔ اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تین آدمیوں کو پاک نہیں کریں گے اور انھیں (رحمت کی نگاہ سے) نہیں دیکھیں گے اور انھیں اپنے قریب نہیں کریں گے اور انھیں دردناک عذاب ہوگا۔ ایک وہ آدمی جو دنیا لینے کے ارادے سے امام سے بیعت ہو، پھر اگر اسے دنیا ملے تو وہ اس بیعت کو پورا کرے ورنہ نہ کرے۔ دوسرا وہ آدمی جو عصر کے بعد (بیچنے کے لیے) سامان لے کر جائے اور اللہ کی جھوٹی قسم کھا کر کہے: اس کی اتنی اور اتنی قیمت لگ چکی ہے۔ اور اس کی اس جھوٹی قسم کی وجہ سے وہ سامان بِک جائے۔
مؤمن کو گالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔ اور تمہارے لیے یہ حلال نہیں کہ تم اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھو۔اور جو شخص کسی جادوگر، کاہن یانجومی کے پاس جائے اور جو وہ کہے اسے سچا مانے تو اس نے محمد ﷺ پر نازل ہونے والے دین کا انکار کردیا۔1
حضرت موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ نے جابیہ میں یہ بیان فرمایا تھا:
امابعد! میں تمھیں اس اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتاہوں جو ہمیشہ رہے گا اور اس کے علاوہ ہر ایک فنا ہوجائے گا، جو فرماںبرداری کی وجہ سے اپنے دوستوں کا اکرام کرتاہے اور نافرمانی کی وجہ سے اپنے دشمنوں کو گمراہ کرتاہے۔ اب جو کسی گمراہی والے کام کو ہدایت والا سمجھ کر کرتاہے اور ہلاک ہوجاتاہے، یا کسی حق والے کام کو گمراہی والا سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے اور ہلاک ہوجاتاہے، تو اس ہلاک ہونے میں اس کے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ اور بادشاہ کو اپنی رعایا کے بارے میں سب سے زیادہ نگرانی اور دیکھ بھال اس بات کی کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جس دین کی ان کو ہدایت نصیب فرمائی اس دین والے اَحکامات ان لوگوں پرلازم ہیں، یہ لوگ ان اَحکامات کو صحیح طرح سے ادا کریں۔ اور ہم ذمہ دارانِ خلافت کے ذمہ یہ بھی ہے کہ ہم آپ لوگوں کو اللہ کی اس اطاعت کا حکم دیں جس کا اللہ نے آپ لوگوں کو حکم دیا اور اللہ کی اس نافرمانی سے روکیں جس سے اللہ نے آپ لوگوں کو روکا۔ اور قریب اور دور کے آپ تمام لوگوں میں اللہ کے اَحکام کو قائم کریں، اور جو حق کو جھکانا چاہتاہے ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں۔ اور مجھے معلوم ہے کہ بہت سے لوگ اپنے دین کے بارے میں بہت سی تمنائیں کرتے ہیں، کہتے ہیںـ: ہم نمازیوں کے ساتھ نماز پڑھیں گے اور مجاہدوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں گے اور ہم ہجرت کی نسبت حاصل کریں گے،وہ ان کاموں کو کرتے تو ہیں لیکن ان کا حق ادا نہیں کرتے اور ایمان صرف صورت بنا لینے سے نہیں ملتا۔
اور ہر نماز کا ایک وقت ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمایاہے، اس کے بغیر نماز ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ فجر کا وقت اس وقت شروع ہوتاہے جب رات ختم ہوجاتی ہے اور روزے دار کے لیے کھانا پینا حرام ہوجاتاہے۔ فجر میں خوب زیادہ قرآن پڑھا کرو۔ اور ظہر کا وقت سورج کے زوال سے شروع ہوجاتاہے، لیکن گرمیوں میں اس وقت پڑھو جب تمہارا سایہ تمہارے جتنا لمبا ہوجائے، اس وقت تک انسان کا دوپہر کا آرام پورا ہوجاتاہے، اور سردیوں میں اس وقت پڑھو جب کہ سورج تمہارے دائیں ابرو پر آجائے یعنی زوال کے تھوڑی دیر بعد پڑھ لو۔ اور وضو، رکوع اور سجدے میں اللہ نے جو پابندیاںلگارکھی ہیں وہ سب پوری کرو، اور یہ سب اس لیے ہے تاکہ سوتا نہ رہ جائے اور نماز قضا ہوجائے۔ اور عصر کا وقت یہ ہے کہ سورج زرد ہونے سے پہلے ایسے وقت میں پڑھی جائے کہ ابھی سورج سفید اور صاف ہو، اور نماز کے بعد آدمی سست رفتار اونٹ پر چھ میل کا فاصلہ غروب سے پہلے طے کر سکے۔ اور مغرب کی نماز سورج ڈوبتے ہی روزہ کھولنے کا وقت ہوتے ہی پڑھی جائے۔ اور عِشا کی نماز سرخی غائب ہوکر رات کا اندھیرا چھانے سے لے کر تہائی رات تک پڑھی جائے۔ جو اِس سے پہلے سوجائے اللہ اسے آرام وسکون والی نیند نہ دے۔ یہ نمازوں کے اوقات ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:
{اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْتًاآیت کا نشان}1
یقینًا نماز مسلمانوں پر فرض ہے اور وقت کے ساتھ محدودہے۔
اور ایک آدمی کہتا ہے: میں نے ہجرت کی ہے، حالاںکہ اس کی ہجرت کامل نہیں ہے۔ کامل ہجرت والے تو وہ لوگ ہیں جو تمام برائیاں چھوڑ دیں۔ اور بہت سے لوگ کہتے ہیں: ہم جہاد کررہے ہیں، حالاںکہ جہاد فی سبیل اللہ یہ ہے کہ آدمی دشمن کا مقابلہ بھی کرے اور حرام سے بھی بچے۔ بہت سے لوگ خوب اچھی طرح دشمن سے جنگ کرتے ہیں، لیکن نہ ان کاارادہ اجر لینے کا ہوتاہے اور نہ اللہ کو یاد کرنے کا۔ اور قتل ہوجانا بھی موت کی ایک صورت ہے، یعنی قتل ہونا شہادت اس وقت شمار ہوگا جب کہ صرف اللہ کے کلمہ کو بلندکر نے کی نیت سے جنگ کررہاہوں اور ہر آدمی اسی نیت پر شمار کیاجائے گاجس نیت سے اس نے جنگ کی ہے۔ ایک آدمی اس لیے جنگ کرتاہے کہ اس کی طبیعت میں بہادری ہے، اور جسے جانتا ہے اور جسے نہیں جانتا ہر ایک کو جنگ کرکے دشمن سے بچاتاہے۔ ایک آدمی طبعاً بزدل ہوتاہے، وہ تو اپنے ماںباپ کی مدد نہیں کرسکتا بلکہ انھیں دشمن کے حوالے کردیتاہے، حالاںکہ کتا بھی اپنے گھروالوں کے پیچھے سے بھونکتاہے، یعنی بزدل آدمی کتے سے بھی گیاگزراہوتاہے۔ اور جان لو کہ روزہ قابلِ احترام عمل ہے۔ آدمی روزہ رکھ کر جیسے کھانے،پینے اور عورتوں کی لذت سے بچتاہے، ایسے ہی اگر مسلمانوں کو تکلیف دینے سے بھی بچے تو پھر اس کا روزہ کامل درجہ کا ہوگا۔ اور زکوٰۃحضورﷺ نے (اللہ کے فرمانے سے)فرض کی ہے، اسے خوشی خوشی ادا کیاجائے اور زکوٰۃ لینے والے پر اپنا احسان نہ سمجھاجائے۔
تمھیں جو نصیحتیں کی جارہی ہیں انھیں اچھی طرح سمجھ لو۔ جس کا دین لٹ گیا اس کا سب کچھ لٹ گیا۔ خوش قسمت وہ ہے جو دوسرے کے حالات سے عبرت اور نصیحت حاصل کرلے۔ بدبخت وہ ہے جو کہ ماں کے پیٹ میں یعنی اَزل سے بدبخت ہوا ہو۔ اور سب سے برے کام وہ ہیں جو نئے گھڑے جائیں۔ اور سنت میں میانہ روی اختیار کرنا بدعت میں بہت زیادہ کوشش کرنے سے بہتر ہے۔ اور لوگوں کے دلوں میں اپنے بادشاہ سے نفرت ہوا کرتی ہے،میں اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتاہوں کہ مجھ میں اور تم میں طبعی کینہ پیدا ہوجائے، یا میں اور تم خواہشات کے پیچھے چلنے لگ جائیں یا دنیاکو آخرت پر تر جیح دینے لگ جائیں۔ اور مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ تم لوگ کہیں ظالموں کی طرف مائل نہ ہو جائو اور مال داروں پر تمھیں مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔تم اس قرآن کو لازم پکڑو، کیوںکہ اس میں نور اور شفا ہے، باقی سب کچھ تو بدبختی کا سامان ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہارے جن کا موں کا والی بنایاہے ان میں جو حق میرے ذمہ تھا وہ میں نے ادا کردیاہے اور تمہاری خیر خواہی کے جذبہ سے تمھیں وعظ ونصیحت بھی کرچکاہوں۔ ہم نے اس بات کا حکم دے دیاہے کہ تمھیں تمہارے حصے (بیت المال میںسے) دے دیے جائیں۔ اور تمہارے لشکروں کو ہم جمع کرچکے ہیں اور جہاں جاکر تم نے غزوہ کرناہے وہ جگہیں ہم مقررکرچکے ہیں اور تمہارے پڑائو کی جگہیں بھی مقرر کردی ہیں۔ اور تلواروں سے لڑکر جوتم نے مالِ غنیمت حاصل کیاہے اس میں ہم نے تمہارے لیے پوری طرح وسعت کی ہے، لہٰذااب تمہارے پاس اللہ کے حکم کے مقابلہ میں کوئی عذر نہیں ہے، بلکہ سارے وہ دلائل ہیں جن سے اللہ کا ہر حکم ماننا تم پر لازم آتاہے۔ میں اسی پر بات ختم کرتاہوں، اور اپنے لیے اور سب کے لیے اللہ سے اِستغفار کرتا ہوں۔1
سیف راوی نے اسی روایت کے ضمن میں بیان کیا کہ حضرت عمرؓ نے حضرت علی بن ابی طالبؓ کو مدینہ میں اپنی جگہ خلیفہ بنایا، پھر گھوڑے پر سوار ہوکر چلے تاکہ سفر تیزی سے پورا ہو۔ چلتے چلتے جابیہ شہر پہنچ گئے۔ وہاں قیام فرمایا، وہاں ایک زبردست مؤثر بیان فرمایا۔ اس میں فرمایا:
اے لوگو! اپنے باطن کی اصلاح کرلو تمہارا ظاہر خود بخود ٹھیک ہوجائے گا۔ تم اپنی آخرت کے لیے عمل کرو تمہاری دنیا کے کام من جانب اللہ خود ہی ہوجائیں گے۔ اور کسی آدمی کے اور حضرت آدم ؑ کے درمیان ایسا کوئی زندہ باپ نہیںہے جو موت کے وقت اس کے کام آسکے،اور نہ کسی آدمی کے اور اللہ کے درمیان نرمی کا کوئی معاہدہ ہے۔ اور جو آدمی اپنے لیے جنت کا راستہ واضح کرنا چاہتاہے اسے چاہیے کہ وہ جماعت کو لازم پکڑے رکھے،کیوںکہ شیطان اکیلے آدمی کے ساتھ ہوتاہے اور دو آدمیوں سے بہت دور ہوتاہے۔ اور کوئی آدمی ہرگز کسی اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کرے، ورنہ شیطان ان دو کے ساتھ تیسرا ہوگا۔ جسے اپنی نیکی سے خوشی ہو اور اپنی برائی سے رنج وصدمہ ہو وہ کامل ایمان والاہے۔
راوی کہتے ہیں:یہ بیان بہت لمباہے جسے ہم نے اختصار سے ذکر کیاہے۔1
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں: حضرت عمرؓ نے جابیہ میں بیان فرمایا، اس میں ارشاد فرمایا:
جیسے میں تم میں کھڑے ہو کر بیان کررہاہوں ایسے ہی ایک مرتبہ حضورﷺ نے ہم میں کھڑے ہو کر بیان فرمایا تھا۔ جس میں آپ نے فرمایاتھا کہ تم لوگ میرے صحابہؓ کے بارے میں اچھا معاملہ کرنے کی وصیت قبول کرو اور جو اِن کے بعد والے ہیں ان کے بارے میں بھی یہی وصیت قبول کرو اور پھر جو اِن کے بعد والے ہیں ان کے بارے میں بھی یہی وصیت قبول کرو، یعنی تابعین اور تبع تابعین کے بارے میں۔ ان تین طبقات کے بعد پھر جھوٹ پھیل جائے گا، یہاں تک کہ آدمی سے گواہی دینے کامطالبہ نہیں کیا جائے گا اور خودہی (جھوٹی) گواہی دینی شروع کردے گا۔ تم میں سے جو آدمی جنت کے عین بیچ میں جانا چاہتاہے اسے چاہیے کہ وہ جماعت کو لازم پکڑے رکھے،کیوںکہ شیطان اکیلے کے ساتھ ہوتاہے اور دو آدمیوں سے بہت دور ہوتاہے۔ اور تم میں سے کوئی آدمی کسی اجنبی عورت کے ساتھ ہر گز تنہائی اختیار نہ کرے، ورنہ شیطان ان دوکے ساتھ تیسرا ہوگا۔ جسے اپنی نیکی سے خوشی ہو اور اپنی برائی سے رنج وصدمہ ہو وہ ایمان والاہے۔2
حضرت سُوَید بن غَفَلہ کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ نے جابیہ شہر میں لوگوں میں بیان فرمایا۔ ارشاد فرمایا:
حضورﷺ نے (مردوں کو) ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے، صرف دو تین یا چار انگلی کے برابر ریشم پہننے کی اجازت دی ہے۔
اس موقع پر حضرت عمر ؓ نے سمجھا نے کے لیے ہاتھ سے اشارہ بھی فرمایا۔1
سیف راوی نے بیان کیا کہ طاعون عَمواس کے بعد ۱۷ھ کے آخر میں حضرت عمر ؓ ملکِ شام آئے۔ جب ذی الحجہ میں وہاں سے مدینہ واپس جانے کا ارادہ فرمالیا تو لوگوں میں بیان فرمایا۔ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی، پھر فرمایا:
غور سے سنو! مجھے تمہارا امیر بنایا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہارا والی بنایا ہے، اس کی وجہ سے جو ذمہ داریاں آتی ہیں میں نے ماشاء اللہ وہ سب ادا کردی ہیں، اور تمہارے حصہ کا مالِ غنیمت تم میں پھیلا دیاہے، اور پڑائو ڈالنے کی جگہیں اور غزوہ کرنے کی جگہیں سب تفصیل سے تمھیں بتادی ہیں، جو کچھ ہمارے پاس تھا وہ سب تمھیں پہنچادیا ہے۔ تمہارے لشکر جمع کردیے ہیں اور تمہارے لیے ترقی کی راہیں مہیا کر دی ہیں اور تمھیں ٹھکانے دے دیے ہیں اور ملکِ شام میں جنگ کر کے تم نے جو مالِ غنیمت حاصل کیا تھا وہ سب تم لوگوں میں وسعت سے تقسیم کردیاہے۔ تمہاری خوراک مقرر کردی ہے، اور تمھیں عطایا، روزینہ اور مالِ غنیمت دینے کا ہم نے حکم دے دیا ہے۔ کوئی آدمی ایسی چیز جانتا ہو جس پر عمل کر نا مناسب ہو وہ ہمیں بتائے ہم اس پر ان شاء اللہ ضرور عمل کریںگے۔ اور نیکی کرنے کی طاقت صرف اللہ سے ہی ملتی ہے۔2
حضرت عروہ بن زبیر اور دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ بیان فرمایا۔ پہلے اللہ کی حمدوثنا اس کی شان کے مناسب بیان کی، پھر لوگوں کو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن کے بارے میں یاد دہانی کرائی، پھر فرمایا:
اے لوگو! مجھے تمہارا والی اور امیر بنایا گیاہے۔ اگر مجھے یہ اُمید نہ ہوتی کہ میں تم میں سے تمہارے لیے سب سے بہتر، سب سے زیادہ قوی اور پیش آنے والے اہم امور میں سب سے زیادہ مضبوط رہوں گا تو ہر گز میں آپ لوگوں کا امیر نہ بنتا۔ اور عمر کے فکر مند اور غمگین ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ اسے حساب کے ٹھیک نکلنے کا انتظار ہے، اور حساب اس بات کا کہ تم سے حقوق لے کر کہاں رکھوں اور تم لوگوں کے ساتھ کیسے چلوں۔ میں اپنے ربّ سے ہی مدد چاہتاہوں۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت، مدد اور تائید سے عمر کا تدارک نہ فرما دیں تو عمر کو کسی طاقت اور تدبیر پر کوئی اعتماد نہیں۔1
حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ بیان فرمایا، اس میں ارشاد فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہارا امیر بنا دیا ہے۔ جتنی چیزیں تمہارے سامنے ہیں اُن میں سے جو چیز تمھیں سب سے زیادہ نفع دینے والی ہے میں اسے خوب اچھی طرح جانتاہوں، اور میںاللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ اس سب سے زیادہ نفع دینے والی چیز میں میری مدد کرے، اور جیسے اور چیزوں میں میری حفاظت کررہاہے ایسے ہی اس میں میری حفاظت فرمائے، اور جیسے کہ اللہ نے عدل کرنے کا حکم دیاہے وہ مجھے تم لوگوں کی تقسیم میں عدل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ میں ایک مسلمان آدمی اور کمزور بندہ ہوں، لیکن اگر اللہ میری مدد فرمائے تو پھر کوئی کمزوری نہیں ہے۔ یہ امارت و خلافت جو مجھے دی گئی ہے یہ ان شاء اللہ میرے اچھے اخلاق کو نہیں بدل سکے گی، اور عظمت اور بڑائی تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور بندوں کے لیے اس میں سے کچھ بھی نہیں۔ لہٰذا تم میں سے کوئی آدمی ہر گز یہ نہ کہے کہ جب سے عمر امیر بنا ہے بدل گیا ہے۔ میں اپنے نفس کے حق کو خوب سمجھتا ہوں (یا میں اپنے بارے میں حق بات کو خوب سمجھتاہوں)۔ میں خود آگے بڑھ کر اپنی بات بیان کرتا ہوں، لہٰذا جس آدمی کو کوئی ضرورت ہے یا اس پر کسی نے ظلم کیا ہے اور یاہماری بد خلقی کی وجہ سے اسے ہم پر غصہ آیا ہواہے، تو وہ مجھے بتادے، کیوںکہ میں بھی تم میں کا ایک آدمی ہوں۔
اور تم لوگ اپنے ظاہر اور باطن میں، اور اپنی قابلِ احترام چیزوں اور آبرو میں اللہ سے ڈرتے رہو، اور جو حقوق تمہارے اوپر ہیں تم انھیں ادا کرو۔ اور تم ایک دوسرے کو اپنے مقدمات میرے پاس لے کر آنے پر آمادہ نہ کرو، کیوںکہ میرے اور لوگوں میں سے کسی کے درمیان نرمی یا طرف داری کا کوئی معاہدہ نہیں۔ تم لوگوں کی درستگی مجھے محبوب ہے اور تمہاری ناراضگی مجھ پر بہت گراں ہے۔ تم میں سے اکثر لوگ شہروں میں مقیم ہیں، اور تمہارے علاقہ میں نہ کوئی خاص کھیتی باڑی ہے اور نہ دودھ والے جانور زیادہ ہیں۔ بس وہی غلّے اور جانور یہاں ملتے ہیں جو اللہ تعالیٰ باہر سے لے آتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت زیادہ اکرام کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ اور میں اپنی امانت کا ذمہ دار ہوں، امانت کے بارے میں مجھ سے پوچھا جائے گا، لیکن امانت کا جو حصہ میرے سامنے ہے اس کی دیکھ بھال تو میں خود کروں گا یہ کسی کے سپرد نہیں کروں گا، لیکن امانت کا جو حصہ مجھ سے دور ہے میں اس کی دیکھ بھال خود نہیں کرسکتا،اسے سنبھالنے کے لیے میں تم میں سے ایسے لوگ استعمال کروں گا جو امانت دار ہیں، اور عام لوگوں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ رکھنے والے ہیں۔ اور ان شاء اللہ اپنی امانت ایسے لوگوں کے علاوہ اور کسی کے سپرد نہیں کروں گا۔1
ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے بیان فرمایا۔ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی، پھر نبی کریمﷺ پر درود بھیجا، پھر فرمایا:
اے لوگو! لالچ کی بعض صورتیں ایسی ہیں جن سے انسان فقیر اور محتاج ہو جاتاہے، اور (لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے) نااُمیدی کی بعض صورتیں ایسی ہیں جن سے انسان غنی اور بے نیاز ہوجاتاہے۔ تم وہ چیز جمع کر تے ہو جس کو کھا نہیں سکتے اور ان باتوں کی اُمید لگاتے ہو جنھیں پا نہیں سکتے۔ تم دھو کے والے گھر یعنی دنیا میں ہو اور تمھیں موت تک کی مہلت ملی ہوئی ہے۔ حضور ﷺ کے زمانے میں تو تم لوگ وحی کے ذریعہ سے پکڑے جاتے تھے، جو اپنے باطن میں کوئی چیز چھپاتا تھا اس کی اس چیز پر پکڑ ہو جاتی تھی (اُس کے اندر کی اس چیز کا پتا وحی سے چل جاتاتھا) اور جو کسی چیز کو ظاہر کرتاتھا اُس کی اس چیز پر گرفت ہوجاتی تھی، لہٰذا اب تم لوگ ہمارے سامنے اپنے سب سے اچھے اخلاق ظاہر کرو۔ باقی رہے تمہارے اندرونی حالات اور باطن کی نیتیں تو انھیں اللہ خوب جانتا ہے۔ اب جو ہمارے سامنے کسی بری چیز کو ظاہر کرے گا اور یہ دعویٰ کرے گا کہ اس کی اندرونی حالت بہت اچھی ہے ہم اس کی تصدیق نہیں کریں گے، اور جو ہمارے سامنے کسی اچھی چیز کو ظاہر کرے گا ہم اس کے بارے میں اچھا گمان رکھیں گے۔ اور یہ بات جان لو کہ کنجوسی کی بعض صورتیں نفاق کا شعبہ ہیں، لہٰذا تم خرچ کرو جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَاَنْفِقُوْا خَیْرًا لِاَنْفُسِکُمْط وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَآیت کا نشان}2
اور (بالخصوص مواقع حکم میں) خرچ (بھی) کیا کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا، اور جو شخص نفسانی حرص سے محفوظ رہا ایسے ہی لوگ (آخرت میں) فلاح پانے والے ہیں۔
اے لوگو! اپنے ٹھکانے پاک صاف رکھو اور اپنے تمام امور کو درست کرو اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا ربّ ہے۔ اور اپنی عورتوں کو قبطی(مصری) کپڑے نہ پہنائو،کیوںکہ ان سے اندر جسم نظر تو نہیں آتا، لیکن اس کی نوعیت معلوم ہو جاتی ہے۔ اے لوگو! میری تمنا یہ ہے کہ میں برابر سرابر نجات پاجائوں نہ مجھے انعام ملے اور نہ سزا، اور مجھے اس بات کی اُمید ہے کہ آیندہ مجھے تھوڑی یا زیادہ جتنی عمر ملے گی میں اس میں ان شاء اللہ حق پر عمل کروں گا۔ اور ہر مسلمان کا اللہ کے مال میں جتنا حصہ ہے وہ خود اس کے پاس اس کے گھر پہنچے گا، اور اسے اس حصہ کے لینے کے لیے نہ کچھ کرنا پڑے گا اور نہ کبھی تھکنا پڑے گا۔ اور جو مال اللہ نے تمھیں دے رکھے ہیں انھیں درست کرتے رہو۔ اور سہولت کی تھوڑی کمائی اس زیادہ کمائی سے بہتر ہے جس کے لیے بڑی مشقت اٹھانی پڑے۔اور قتل ہوجانا مرنے کی ایک صورت ہے جو نیک اور بد ہر آدمی کو حاصل ہوجاتی ہے، لیکن ہر قتل ہونے والا اللہ کے ہاں شہید نہیں ہوتا، بلکہ شہید وہ ہے جس کی نیت اجر وثواب لینے کی ہو۔ اور جب تم کوئی اونٹ خرید نا چاہو تو لمبا اور بڑا اونٹ دیکھو، اور اسے اپنی لاٹھی مارو، اگر تم اسے چوکنّے دل والا پائو تو اسے خریدلو۔1
حضرت عروہ ؓ اور دوسرے حضرات فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے بیان فرمایا، اس میں ارشاد فرمایا:
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے تم لوگوں پر شکر واجب کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے بغیر مانگے اور بغیر طلب کے جو دنیا اور آخرت کی شرافت تمھیں عطا فرمائی ہے، اس کے بارے میں تمہارے اوپر کئی دلیلیں بنادی ہیں۔ تم لوگ کچھ نہیں تھے، لیکن اس نے تمھیں پیدا کیا، اور پیدا بھی اپنے لیے اور اپنی عبادت کے لیے کیا، حالاںکہ وہ تمھیں (انسان نہ بناتا بلکہ) اپنی سب سے بے قیمت مخلوق بنا سکتا تھا۔اور اپنی ساری مخلوق تمہارے فائدہ اور خدمت کے لیے بنائی، اور تمھیں اپنے علاوہ اور کسی مخلوق کے لیے نہیں بنایا۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
{سَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاَسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّبَاطِنَۃً}2
اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو تمہارے کام میں لگا رکھاہے جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں ہیں، اور اس نے تم پر اپنی نعمتیں ظاہری اور باطنی پوری کررکھی ہیں۔
اوراس نے تمھیں خشکی اور سمندر کی سواریاں دیں اور پاکیزہ نعمتیں عطافرمائیں تاکہ تم شکر گذار بنو، پھر تمہارے کان اور آنکھیں بنائیں۔ پھر اللہ کی کچھ نعمتیں ایسی ہیں جو تمام بنی آدم کو ملی ہیں اور کچھ نعمتیں ایسی ہیں جو صرف تم دینِ اسلام والوں کو ملی ہیں۔ پھر یہ تمام خاص اور عام نعمتیں تمہاری حکومت میں، تمہارے زمانہ میں، تمہارے طبقہ میں خوب فراوانی سے ہیں۔ اور ان نعمتوں میں سے ہر نعمت تم میں سے ہر آدمی کو اتنی زیادہ مقدار میں ملی ہے کہ اگر وہ نعمت تمام لوگوں میں تقسیم کردی جائے تو وہ اس کا شکر ادا کرتے کرتے تھک جائیں اور اس کا حق ادا کرنا ان پر بھاری ہوجائے۔ ہاں اگر وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں اور اللہ ان کی مدد کرے تو پھر وہ اس نعمت کا شکر اور اُس کا حق ادا کرسکتے ہیں۔
اور اللہ نے تمام روئے زمین پر تمھیں اپنا خلیفہ بنایا ہواہے اور زمین والوں پر تم غالب آئے ہوئے ہو اور اللہ نے تمہارے دین کی خوب مدد کی ہے۔ اور جن لوگوں نے تمہارا دین اختیار نہیں کیا ان کے دو حصے ہوگئے ہیں: کچھ لوگ تو اسلام اور اسلام والوں کے غلام بن گئے ہیں(اس سے مراد ذمی لوگ ہیں) جو تمھیں جزیہ دیتے ہیں، خون پسینہ ایک کر کے کما تے ہیں اور طلبِ معاش میں ہر طرح کی مشقت اٹھاتے ہیں، مشقت ساری ان کے ذمہ ہے اور ان کی کمائی سے جزیہ کا فائدہ آپ لوگوں کو ملتاہے۔ اور کچھ لوگ وہ ہیں جو دن رات ہر وقت اللہ کے لشکروں کے حملوں کے منتظر ہیں (اس سے مراد وہ کافر ہیں جن کے پاس صحابۂ کرامؓکے لشکر جانے والے تھے) اللہ نے اُن کے دلوں کو رعب سے بھر دیاہے، اب ان کے پاس کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں انھیں پناہ مل جائے یا بھاگ کر وہاں چلے جائیں اور اسلامی لشکروں سے کسی طرح بچ جا ئیں۔ اللہ کے لشکران پر چھاگئے ہیں اور ان کے علاقے میں داخل ہو گئے ہیں، اور اللہ کے حکم سے ان لشکروں کو زندگی کی وسعت، مال کی بہتات، لشکروں کا تسلسل اور اسلامی سرحدوں کی حفاظت جیسی نعمتوں کے ساتھ عافیت و امن وامان جیسی بڑی نعمت بھی حاصل ہے، اور جب سے اسلام شروع ہواہے کبھی اس امت کے ظاہری حالات اس سے زیادہ اچھے نہیں رہے۔اور ہر شہر میں مسلمانوں کو جو بڑی بڑی فتوحات ہورہی ہیں ان پر اللہ ہی کی تعریف ہونی چاہیے۔
اور یہ جو بے حساب نعمتیں حاصل ہیں جن کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، ان کے مقابلہ میں مسلمان کتناہی اللہ کا شکر اور ذکر کرلیں اور دین کے لیے کتنی ہی محنت کر لیں، وہ ان نعمتوں کے شکر کا حق ادا نہیں کرسکتے۔ ہاں! اللہ اگر ان کی مدد فرمائے اور ان کے ساتھ رحم اور مہر بانی کا معاملہ فرمائے تو اور بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اسی نے ہم پر یہ اتنے انعام واحسان فرمائے ہیں،ہم اس سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی اطاعت والے عمل کرنے کی اور اپنی رضاکی طرف جلدی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اے اللہ! کے بندو! اللہ کی جو نعمتیں تمہارے پاس ہیں انھیں اپنی مجلسوں میں دودو ایک ایک ہو کر یاد کرو اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو پورا کرلو، کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑکو فرمایا ہے:
{اَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ لا۵ وَذَکِّرْہُمْ بِاَیّٰمِ اللّٰہِ}1
اپنی قوم کو (کفر کی) تاریکیوں سے (ایمان کی) روشنی کی طرف لائو اور ان کو اللہ کے معاملات (نعمت اور نقمت کے) یاد دلائو۔
اور حضرت محمد ﷺ کو فرمایا ہے:
{وَاذْکُرُوْا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ}2
اور اس حالت کو یاد کرو جب کہ تم قلیل تھے سرزمین میں کمزور شمار کیے جاتے تھے۔
جب تم لوگ اسلام سے پہلے کمزور شمار کیے جاتے تھے اور دنیا کی خیر سے محروم تھے، اگر اس وقت تم حق کے کسی شعبہ پر ہوتے، اس شعبہ پر ایمان لاتے اور اس سے آرام پاتے، اور اللہ اور اس کے دین کی معرفت تمھیں حاصل ہوتی، اور اس شعبہ سے مرنے کے بعد کی زندگی میں تم لوگ خیر کی اُمید رکھتے تو یہ کوئی بات ہو تی، لیکن تم تو زمانۂ جاہلیت میں لوگوں میں سب سے زیادہ سخت زندگی والے اور اللہ کی ذات وصفات سے سب سے زیادہ جاہل تھے، پھر اللہ نے اسلام کے ذریعہ تمھیں ہلاکت سے بچایا، اب اچھا یہ تھا کہ صرف اسلام ہوتا اس کے ساتھ تمہاری دنیا کا کوئی حصہ نہ ہوتا اور آخرت میں جہاں تم نے لوٹ کر جاناہے وہاں یہ اسلام تمہارے لیے بھروسہ کی چیز ہوتی۔ اور تم جس مشقت والی زندگی پر تھے اس زندگی میں تم اس بات کے قابل تھے کہ اسلام میں سے اپنے حصہ پر کنجوسی کرو، اسی سے چمٹے رہو اور اسے دوسروں پر ظاہر کرو، لہٰذا تم میں سے جو آدمی یہ چاہتا ہے کہ اسے دنیا کی فضیلت اور آخرت کی شرافت دونوں باتیں حاصل ہو جا ئیں، تو اسے اس کے حال پر چھوڑو، جو وہ چاہتا ہے اسے چاہنے دو۔ میں تمھیں اس اللہ کی یاد دہانی کراتا ہوں جو تمہارے اور تمہارے دلوں کے درمیان حائل ہے۔ تم اللہ کا حق پہچانو اور اس حق والے عمل کرو اور اپنے نفسوں کو اللہ کی اطاعت پر مجبور کرو۔ تمھیں نعمتوں پر خوش بھی ہوناچاہیے،لیکن یہ ڈر بھی ہوناچاہیے کہ نہ معلوم کب یہ نعمتیں تم سے چھن جائیں اور دوسروں کو مل جا ئیں،کیوںکہ کوئی چیز ناشکری سے زیادہ نعمت سے محروم کرانے والی نہیں ہے، اور شکر کر نے سے نعمت بدل جانے سے محفوظ ہو جاتی ہے اور اس سے نعمت میں اضافہ ہوتاہے۔ اور یہ کام اللہ کی طرف سے میرے ذمہ واجب ہے کہ میں تمھیں مفید کاموں کا حکم دوں اور نقصان دہ کاموں سے روکوں۔ 1
حضرت کُلَیب کہتے ہیں:ایک دفعہ حضرت عمر ؓ نے جمعہ کے دن بیان کیا اور اس میں سورئہ آلِ عمران کی آیتیں پڑھیں۔ جب اس آیت پر پہنچے:
{اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ}2
یقینًا تم میں جن لوگوں نے پشت پھیر دی تھی جس روز کہ دونوں جماعتیں باہم مقابل ہوئیں۔
حضرت عمر ؓ نے فرمایا:
جنگ ِاُحُد میں ہمیں شکست ہوگئی۔ میں بھاگ کر پہاڑ پر چڑھ گیا۔ میں نے دیکھا کہ میں پہاڑی بکرے کی طرح چھلانگیں لگا کر بھاگ رہاہوں اور لوگ کہہ رہے تھے کہ حضرت محمد ﷺ قتل کردیے گئے۔ میں نے کہا: جو یہ کہے گا حضرت محمد ﷺ قتل کردیے گئے ہیں میں اسے قتل کردوں گا۔ پھر ہم سب پہاڑ پر جمع ہوگئے، اس پر یہ آیت {اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ} نازل ہوئی۔3
حضرت کُلَیب کہتے ہیں:ایک دفعہ حضرت عمر ؓ نے ہم لوگوں میں بیان فرمایا اور منبر پر سورۂ آلِ عمران پڑھی، پھر فرمایا:
اس سورت کا جنگ ِاُحُد سے بہت تعلق ہے۔ ہم جنگ ِاُحُد کے دن حضورﷺ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر بکھرگئے تھے۔ میں ایک پہاڑ پر چڑھ گیا۔ میں نے ایک یہودی کو سنا وہ کہہ رہا تھا: حضرت محمد قتل کردیے گئے۔ میں نے کہا:میں جسے بھی یہ کہتے ہوئے سنوں گا کہ حضرت محمدﷺ قتل کردیے گئے میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ پھر میں نے دیکھا تو مجھے ایک جگہ حضور ﷺ نظر آئے اور لوگ آپ کے پاس لوٹ کر آرہے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
{وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ}۔1
اور محمد نِرے رسول ہی تو ہیں۔ آپ سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ سو اگر آپ کا انتقال ہوجائے یا آپ شہید ہی ہوجاویں تو کیا تم لوگ اُلٹے پھر جائو گے۔2
حضرت عبداللہ بن عدی بن خیار کہتے ہیں: میں نے منبر پر حضرت عمر بن خطاب ؓ کو فرماتے ہوئے سنا:
جب بندہ اللہ کی وجہ سے تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی قدر و منزلت بڑھادیتے ہیں اور فرماتے ہیں: بلند ہوجا! اللہ تجھے بلند کرے۔یہ اپنے آپ کو حقیر سمجھتاہے، لیکن لوگوں کی نگاہ میں بڑا ہوتاہے۔ اور جب بندہ تکبر کرتا ہے اور اپنی حد سے آگے بڑھتاہے تو اللہ تعالیٰ اسے توڑ کر نیچے زمین پر گرادیتے ہیں اور فرماتے ہیں: دُور ہو جا! اللہ تجھے دور کرے۔ اور یہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتاہے، لیکن لوگوں کی نگاہ میں حقیر ہوتاہے، یہاں تک کہ وہ ان کے نزدیک سُؤر سے بھی زیادہ حقیر ہوجاتا ہے۔3
حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے ہم میں بیان فرمایا جس میں ارشاد فرمایا:
ہوسکتا ہے کہ میں آپ لوگوں کو ایسی چیزوں سے روک دیتاہوں جن میں آپ لوگوں کا فائدہ ہو، اور ایسی چیزوں کا حکم دے دیتا ہوں جن میں آپ لوگوں کا فائدہ نہ ہو۔ اور قرآن میں سب سے آخرمیں سود کے حرام ہونے کی آیت نازل ہوئی۔ اور حضورﷺ ہمارے لیے ابھی سود کی اس آیت کی (موٹی موٹی) اور بنیادی باتیں تو بیان فرماپائے تھے،لیکن اس کی تفصیلی اور باریک باریک باتیں بیان نہ کر پائے تھے کہ آپ کی وفات ہوگئی، (کیوںکہ حضورﷺ اس سے زیادہ اہم کاموں میں مشغول تھے) اس لیے جس صورت میں تمھیں سود کا کچھ کھٹکا ہو اُسے چھوڑ دیا کرو اور جس میں کوئی کھٹکا نہ ہو وہ اختیار کرلیا کرو۔1
حضرت اَسود بن یزید کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّابؓ نے لوگوں میں بیان فرمایااور ارشاد فرمایا:
تم میں سے جو بھی حج کا ارادہ کرے تو وہ صرف میقات سے ہی احرام باندھے اور احرام باندھنے کے لیے حضورﷺ نے جو میقات مقرر فرمائے ہیں وہ یہ ہیں: مدینہ والوں کے لیے اور دوسری جگہ کے رہنے والے مدینہ سے گزریں تو ان کے لیے ذُوالحُلیفہ میقات ہے۔ اور شام والوں کے لیے اور دوسری جگہ کے رہنے والے شام سے گزریں تو ان کے لیے جُحفَہ میقات ہے۔ اورنجد والوں کے لیے اور جو نجد سے گزریں تو ان کے لیے قرن میقات ہے۔ اور یمن والوں کے لیے یَلَمْلَم، اور عراق والوں اور باقی تمام لوگوں کے لیے ذاتِ عرق میقات ہے۔2
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے بیان فرمایا اور اس میں رجم کا یعنی زنا کرنے والے کو سنگسار کر نے کی سزا کا ذکر کیا اور فرمایا:
رجم کے بارے میں دھوکہ نہ کھالینا، کیوںکہ (اگرچہ اس کا قرآن میں ذکر نہیں ہے لیکن) یہ بھی اللہ کی مقرر کردہ سزائوں میں سے ایک سزاہے۔ غور سے سنو! حضورﷺ نے خود رجم کیا ہے اور آپ کے بعد ہم نے رجم کیا ہے۔ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ لوگ یوں کہیں گے کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں وہ چیز بڑھا دی جو اس میں نہیں تھی، تو میں قرآن کے کنارے پر یہ لکھ دیتا کہ عمر بن خطّاب، حضرت عبدالرحمن بن عوف، فلاں اور فلاں صحابی اس بات کے گواہ ہیں کہ حضورﷺ نے رجم کیا ہے، اور آپ کے بعد ہم نے رجم کیا ہے۔ غور سے سنو! تمہارے بعد عن قریب ایسے لوگ آئیںگے جو رجم کو، دجال کو، شفاعت کو، عذابِ قبر کو اور ان لوگوں کو جو جل جانے کے بعد جہنم سے نکلیں گے ان سب چیزوں کو جھٹلائیںگے۔3
حضرت سعید بن مسیّب کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ جب منیٰ سے واپس ہو ئے تو انھوں نے پتھریلے میدان میں اپنی سواری بٹھائی، پھر کنکریوں کی ایک ڈھیری بناکر اپنے کپڑے کا ایک کنارا اس ڈھیری پر ڈالا اور اس پر لیٹ گئے اور آسمان کی طرف دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی: اے اللہ! میری عمر زیادہ ہوگئی ہے اور میری قوت کمزور ہوگئی ہے اور میری رعایابہت پھیل گئی ہے، اس لیے اب مجھے اپنی طرف اس طرح اٹھالے کہ میں تیرے اَحکام کو نہ ضائع کرنے والابنوں اور نہ ان میں کمی کرنے والا۔ پھر جب حضرت عمر مدینہ پہنچے تو لوگوں میں بیان فرمایا، جس میں ارشاد فرمایا:
اے لوگو! کچھ اعمال تم پر فرض کیے گئے ہیں، اور سنتیں تمہارے لیے صاف بیان کردی گئی ہیں، اور تمھیں ایک واضح اور صاف ملت پر چھوڑاگیا ہے۔
پھر دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر مار کر فرمایا:
اس کے بعد بھی تم دائیں بائیں ہوکر لوگوں کو گمراہ کر تے پھرو تو یہ الگ بات ہے۔ پھر تم اس بات سے بچو کہ رجم کی آیت کی وجہ سے ہلاک ہوجائو اور تم میں سے کوئی یوں کہے کہ ہمیں کتاب اللہ میں زناکے بارے میں دو سزائیں نہیں ملتیں (ایک رجم کی اور دوسری کوڑے مارنے کی بلکہ ہمیں تو صرف ایک سزا ملتی ہے یعنی کوڑے مارنے کی)۔ میں نے خود دیکھا کہ حضورﷺ نے رجم کیا ہے اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیاہے۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے عمر نے اللہ کی کتاب میں نئی چیز بڑھادی تو میں یہ عبارت قرآن میں لکھ دیتا: اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ اِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوْھُمَا اَلْبَتَّۃَ۔
شادی شدہ مرد اور عورت جب زنا کریں تو دونوں کو ضرور رجم کرو۔
کیوںکہ (پہلے یہ آیت قرآن میں نازل ہوئی تھی اور) ہم قرآن میں اس کی تلاوت کیا کرتے تھے (بعد میں یہ الفاظ منسوخ ہوگئے لیکن ان کا حکم اب بھی باقی ہے)۔
حضرت سعید کہتے ہیں:ابھی ذوالحجہ کا مہینہ ختم نہیں ہوا تھا کہ حضرت عمر ؓ کو نیزہ مار کر زخمی کردیاگیا(اور اسی میں ان کا انتقال ہوگیا)۔ 1
حضرت مَعدان بن ابی طلحہ یَعْمُری کہتے ہیں: ایک دفعہ جمعہ کے دن حضرت عمر بن خطاب ؓ منبر پر کھڑے ہوئے۔ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی، پھر حضورﷺ اور حضرت ابوبکرؓ کا ذکر کیا، پھر فرمایا:
میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس سے میں یہی سمجھا ہوں کہ میرے دنیا سے جانے کا وقت قریب آگیا ہے۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک سرخ مرغے نے مجھے دودفعہ چونچ ماری ہے۔ میں نے اس خواب کا ذکر(اپنی بیوی) اَسماء بنتِ عمیس سے کیا۔ اس نے کہا: اس کی تعبیر یہ ہے کہ عجم کا ایک آدمی آپ کو قتل کرے گا۔ لوگ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں کسی کو اپنا خلیفہ مقرر کردوں(خلیفہ مقرر کرنا ٹھیک تو ہے، لیکن ضروری نہیں ہے)۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اپنا دین اور خلافت دے کر اپنے نبی کریمﷺ کو بھیجا ہے اسے ہر گز ضائع نہیں ہو نے دیں گے۔ اگر (دنیا سے جانے کا) میرا معاملہ جلدی ہوگیا تو یہ چھ آدمی جن سے دنیا سے جاتے وقت حضورﷺ راضی تھے، آپس کے مشورے سے اپنے میں سے کسی ایک کو خلیفہ بنالیں: حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ۔ تم ان میں سے جس سے بھی بیعت کرو اس کی بات سنو اور مانو۔ اور مجھے معلوم ہے کہ کچھ لوگ اس امرِ خلافت میں اعتراض کریں گے، حالاںکہ یہ وہ لوگ ہیں جن سے میںنے اپنے اس ہاتھ سے اسلام پر جنگ کی ہے۔ اگر وہ لوگ ایسا کریں تو وہ اللہ کے دشمن کافر اور گمراہ ہوں گے (اگر وہ اس اعتراض کو جائز سمجھتے ہیں پھر تو واقعی وہ کافر ہوجائیں گے، ورنہ ان کا یہ عمل کافروں کے عمل کے مشابہ ہوجائے گا)۔
میں کوئی ایسی چیز چھوڑ کر نہیں جارہاہوںجو میرے نزدیک کَلالہ کے معاملہ سے زیادہ اہم ہو(کَلالہ وہ آدمی ہے جس کے نہ اولادہو اور نہ ماں باپ ہوں)۔ اللہ کی قسم! جب سے میں حضورﷺ کے ساتھ رہاہوں حضورﷺ نے کسی بھی چیز کے بارے میں میرے ساتھ اتنی سختی نہیں کی جتنی سختی میرے ساتھ اس کَلالہ کے بارے میں کی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے اپنی انگلی میرے سینہ پر مار کر فرمایا: سورۂ نساء کے آخر میں گرمیوں میں جو آیت {یَسْتَفْتُوْنَکَط قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلٰلَۃِ} نازل ہوئی ہے وہ تمہارے لیے کافی ہے۔اگر میں زندہ رہاتو کَلالہ کے بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا کہ ہرپڑھے لکھے اور اَن پڑھ کو اس کے بارے میں سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔ اور میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں شہروں کے گورنروں کو اس لیے بھیجتا ہوں تاکہ وہ لوگوں کو دین اور ان کے نبی کریم ﷺ کی سنت سکھائیں، اور جو کوئی نیا یا پیچیدہ معاملہ ایسا پیش آجائے جس کا انھیں حل سمجھ میں نہ آئے تو وہ اسے میرے پاس بھیج دیں۔
پھر اے لوگو! تم یہ دوسبزیاں کھاتے ہو، میں تو انھیں برا ہی سمجھتا ہوں۔ وہ لہسن اور پیاز ہیں۔ اللہ کی قسم! میں نے اللہ کے نبیﷺ کو دیکھا ہے کہ انھیں (مسجدمیں) جس آدمی سے لہسن یا پیاز کی بو آجاتی تھی تو اسے حضورﷺ کے فرمانے پر ہاتھ سے پکڑ کر مسجد سے باہر نکال کر جنت البقیع پہنچادیا جاتا تھا۔ لہٰذا جو شخص لہسن یا پیاز ضرور ہی کھانا چاہتاہے وہ انھیں پکا کر (ان کی بو) ماردے۔
حضرت عمر ؓ نے یہ بیان جمعہ کے دن فرمایا اور اس کے بعد بدھ کے دن انھیں حملہ کر کے زخمی کردیاگیا جب کہ ذی الحجہ کے ختم ہونے میں چار دن باقی تھے۔1
حضرت یساربن معرور ؓ کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے ہم لوگوں میں بیان فرمایا جس میں ارشاد فرمایا:
اے لوگو! حضورﷺ نے یہ مسجد بنائی، اور مسجد بنانے میں ہم مہاجرین اور انصار بھی آپ کے ساتھ تھے۔ جب مسجد میں مجمع زیادہ ہوجائے تو تم میں سے ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آگے والے بھائی کی پشت پر سجدہ کرلے۔
اور حضرت عمر ؓ نے کچھ لوگوں کو راستہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: مسجد میں نماز پڑھو۔2
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: جب حضرت عمر ؓ خلیفہ بنے تو انھوں نے لوگوں میں بیان فرمایا جس میں ارشاد فرمایا:
حضور ﷺ نے ہمیںمُتعہ کی تین دن کے لیے اجازت دی تھی پھر اس کے بعد آپ نے ہمیشہ کے لیے متعہ کو حرام فرما دیا تھا۔ (متعہ یہ ہے کہ آدمی ایک مقرر وقت تک کے لیے شادی کرے۔ خیبر سے پہلے مُتعہ والانکاح حلال تھا، خیبر کے بعد حضورﷺ نے حرام قرار دے دیا تھا۔ پھر فتحِ مکہ کے موقع پر حضور ﷺ نے متعہ کی صحابہ کو اجازت دی تھی پھر تین دن کے بعد اسے ہمیشہ کے لیے حرام قرار دے دیاتھا) اللہ کی قسم! اب مجھے جس کے بارے میں پتا چلا کہ وہ شادی شدہ ہے اور اس نے متعہ والانکاح کیاہے تو میں اسے سنگسار کردوںگا یا وہ میرے پاس چارایسے گواہ لے کر آئے جو اس بات کی گواہی دیں کہ حضورﷺ نے مُتعہ کو حرام کرنے کے بعد پھر حلال کردیاتھا۔اور جو غیر شادی شدہ آدمی مجھے ایسا ملا جو مُتعہ والا نکاح کرے تو میں اسے سو کوڑے ماروں گا یا وہ میرے پاس ایسے چار گواہ لے کر آئے جو اس بات کی گواہی دیں کہ حضور ﷺ نے متعہ حرام کرنے کے بعد پھر حلال کر دیا تھا۔1
حضرت عبداللہ بن سعید کے دادا کہتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطّابؓ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا:
اے مسلمانوں کی جماعت! اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو عجمی ملکوں میں سے اُن کی عورتیں اور بچے مالِ غنیمت میں (باندی اور غلام بناکر)اتنے دے دیے ہیں کہ نہ تو اتنے حضورﷺ کو دیے تھے اور نہ حضرت ابوبکرؓ کو۔ اور مجھے پتا چلا ہے کہ بہت سے مرد ان عورتوں سے صحبت کرتے ہیں (کیوںکہ یہ باندیاں ہیںاور باندیوں سے صحبت کرنا مالک کے لیے جائزہے)۔ اب جس عجمی باندی سے تمہارا بچہ پیدا ہو جائے تو تم اُسے نہ بیچنا، کیوںکہ اگر تم ایساکروگے تو ہوسکتاہے کہ آدمی کو پتا بھی نہ چلے اور وہ اپنی کسی محرم عورت سے صحبت کرلے(ہوسکتاہے کہ آدمی باندی کو بیچ دے اور باندی سے جو لڑکا پیدا ہواتھا وہ اسی آدمی کا بیٹا تھا وہ اُسی کے پاس رہ گیا، بعد میں اس لڑکے نے اسی باندی کو خرید لیا اور اسے پتا نہیں ہے کہ یہ اُس کی ماںہے)۔2
حضرت مَعرور یا ابن مَعرور تمیمی کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ منبر پر چڑھے اور حضور ﷺ والی جگہ سے دوسیڑھی نیچے بیٹھ گئے۔ وہاں میںنے ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
میںتمھیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتاہوں، اور جسے اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کا والی و حاکم بنادیں اس کی بات سنو اور مانو۔3
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ اپنے بیان میں فرمایا کرتے تھے:
تم میں سے وہ آدمی کامیاب رہا جو خواہش پر چلنے سے، غصہ میں آنے اور لالچ میں پڑ نے سے محفوظ رہا، اور جسے گفتگو میں سچ بولنے کی تو فیق دی گئی، کیوںکہ سچ اسے خیر کی طرف لے جائے گا۔ اور جو شخص جھوٹ بولے گا وہ گناہ کے کام کرے گا اور جو گناہ کے کام کرے گا وہ ہلاک ہوگا۔ اور گناہ کے کاموں سے بچو، اور اس شخص کا کیا گناہ کرنا جومٹی سے پیدا ہوا اور مٹی کی طرف لوٹ جائے گا۔ آج وہ زندہ ہے کل مردہ ہوگا۔ روزانہ کا کام روزانہ کرو اور مظلوم کی بددعا سے بچو اور اپنے آپ کومُردوں میں شمار کرو۔1
حضرت قَبِیصہ کہتے ہیں: میں نے حضرت عمر ؓ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا:
جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیاجاتا۔ جو معاف نہیں کرتا اسے معاف نہیں کیاجاتا۔ جو توبہ نہیں کرتا اس کی توبہ قبول نہیں کی جاتی۔ جو (برے کاموں سے) نہیں بچتا اسے (عذاب سے) نہیں بچایا جاتا۔2
حضرت عروہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ نے اپنے بیان میں فرمایا:
یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ لالچ فقر کی نشانی ہے اور نااُمیدی سے انسان غنی ہوجاتا ہے۔ آدمی جب کسی چیز سے نااُمید ہو جاتاہے تو آدمی کو اس کی ضرورت نہیں رہتی۔3
حضرت عبداللہ بن خراش کے چچا کہتے ہیں:میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو بیان میں یہ فرماتے ہوئے سنا:
اے اللہ!اپنی امان کے ذریعہ ہماری حفاظت فرما اور ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔4
اپنے فضل سے ہمیں رزق عطافرما۔5
حضرت ابوسعید کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے لوگوں میں بیان فرمایا جس میں ارشاد فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو جس چیز کی چاہی اجازت دے دی (چناںچہ حضورﷺ نے پہلے صرف حج کا احرام باندھا تھا بعد میں اللہ تعالیٰ کی اجازت سے اسی احرام میں عمرہ کی نیت بھی کرلی اب ایسا کرنے کی اُمّت کو اجازت نہیں ہے) اور اب اللہ کے نبی اپنے راستہ پر (دنیاسے) تشریف لے جاچکے ہیں۔ لہٰذا حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے ایسے پورا کرو جیسے تمھیں اللہ نے حکم دیا ہے، اور ان عورتوں کی شرم گاہوں کی حفاظت کرو۔1
حضرت ابنِ زبیر ؓ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطّابؓ کو بیان میں فرماتے ہوئے سنا کہ
میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو مرد دنیامیں ریشم پہنے گا اسے آخرت میں ریشم نہیں پہنایا جائے گا۔2
حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کے غلام حضرت ابوعبید کہتے ہیں:میں نے ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ عید کی نماز پڑھی۔ انھوں نے اذان اور اِقامت کے بغیر خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا اور فرمایا:
اے لوگو! حضورﷺ نے ان دو دنوں کے روزے سے منع فرمایا ہے۔ ایک تو عید الفطر کا دن جس دن تم رمضان کے روزوں سے افطارکرتے ہواور عید مناتے ہو، اور دوسرا وہ دن جس دن تم لوگ اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو۔3
حضرت علقمہ بن وقاص لیثی کہتے ہیںـ: میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو لوگوں میں بیان کرتے ہوئے سنا، وہ فرما رہے تھے:
میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ عمل کا دار و مدار نیت پر ہے اور آدمی کو عمل پر وہی ملے گا جس کی وہ نیت کرے گا۔ لہٰذا جس کی ہجرت اللہ ورسول کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ ورسول کی طرف ہی شمار ہوگی، اور جس کی ہجرت دنیاحاصل کرنے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی چیزکے لیے شمار ہوگی جس کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہوگی۔4
حضرت سلیمان بن یسار کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ نے رَمادَہ کی قحط سالی کے زمانے میں بیان فرمایا جس میں ارشاد فرمایا:
اے لوگو! اپنے بارے میں اللہ سے ڈرو اور تمہارے جو کام لوگوں سے چھپے ہوئے ہیں اُن میں بھی اللہ سے ڈرو۔ مجھے تمہارے ذریعہ سے آزمایاجارہاہے اور تمھیں میرے ذریعہ سے۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ اللہ نے ناراض ہو کر جو یہ قحط سالی بھیجی ہے وہ کس سے ناراض ہے؟وہ مجھ سے ناراض ہے اور تم سے نہیں یا تم سے ناراض ہے مجھ سے نہیں یا مجھ سے اور تم سے دونوں سے ہی ناراض ہے۔ آئو ہم اللہ سے دعاکریں کہ وہ ہمارے دلوں کو ٹھیک کردے اور ہم پر رحم فرمائے اور یہ قحط ہم سے دور کر دے۔
راوی کہتے ہیں:اُس دن دیکھا گیا کہ حضرت عمر ؓ دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ سے دعا کر رہے ہیں اور لوگ بھی دعا کررہے ہیں، پھر حضرت عمر ؓ اور لوگ تھوڑی دیر روتے رہے، پھر حضرت عمر ؓ منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔1
حضرت ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ لوگوں میں بیان کررہے تھے میں ان کے منبر کے نیچے بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے بیان میں فرمایا:
میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: مجھے اس اُمّت پر سب سے زیادہ ڈر اُس منافق کاہے جو زبان کا خوب جاننے والاہو، یعنی جسے باتیں بنانی خوب آتی ہوں۔2
حضرت عمر ؓ کے بیانات صحابۂ کرام ؓکے باہمی اتحاد اور اتفاق رائے کے باب میں گزرچکے ہیں۔