صحابہ کرام ؓ کے بیانات
امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عَفَّان ؓ کے بیانات
حضرت ابراہیم بن عبدالرحمن مخزومی کہتے ہیں: جب لوگ حضرت عثمان ؓ سے بیعت کرچکے تو آپ نے باہر آکر لوگوں میں بیان فرمایا۔ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی، پھر فرمایا:
اے لوگو! پہلی مرتبہ سوار ہونا مشکل ہوتاہے۔ آج کے بعد اور بھی دن ہیں، اگر میں زندہ رہا تو تم ایسا بیان سنو گے جو صحیح ترتیب سے ہوگا۔ ہم تو بیان کرنے والے نہیں ہیں، اللہ ہمیں بیان کا صحیح طریقہ سکھادیںگے۔1
حضرت بدر بن عثمان کے چچا بیان کرتے ہیں: جب اہلِ شوریٰ حضرت عثمان ؓ سے بیعت ہوگئے تو اس وقت وہ بہت غمگین تھے، ان کی طبیعت پر بڑا بوجھ تھا۔ وہ حضور ﷺ کے منبر پر تشریف لائے اور لوگوں میں بیان فرمایا۔ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی، پھر نبی کریم ﷺ پر درود بھیجا، اس کے بعد فرمایا:
تم ایسے گھر میں ہو جہاں سے تمھیں کوچ کرجاناہے اور تمہاری عمر تھوڑی باقی رہ گئی ہے۔ لہٰذا تم جو خیر کے کام کرسکتے ہو موت سے پہلے کرلو۔ صبح اور شام موت تمھیں آنے ہی والی ہے۔ غور سے سنو! دنیا سراسر دھوکہ ہی دھوکہ ہے۔(اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:)
{فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاوقف وَلَا یَغُرَّنَّـکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُآیت کا نشان}2
سوتم کو دنیوی زندگانی دھوکہ میں نہ ڈالے اور نہ وہ دھوکہ باز (شیطان) اللہ سے دھوکہ میں ڈالے۔
اور جو لوگ جاچکے ان سے عبرت حاصل کرو۔اور خوب محنت کرو اور غفلت سے کام نہ لو، کیوں کہ موت کا فرشتہ تم سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔
کہاںہیں دنیا کے وہ بھائی اور بیٹے جنھوں نے دنیا میں کھیتی باڑی کی، اور اسے خوب آباد کیا، اور لمبی مدت تک اس سے فائدہ اٹھایا؟ کیادنیا نے انھیں پھینک نہیں دیا؟ چوںکہ اللہ نے دنیا کو پھینکا ہوا ہے، اس لیے تم بھی اسے پھینک دو اور آخرت کو طلب کرو، کیوںکہ اللہ نے دنیا کی اور آخرت کی جو کہ دنیا سے بہتر ہے دونوں کی مثال اس آیت میں بیان کی:
{وَاضْرِبْ لَھُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَآئٍ اَنْزَلْنٰـہُ مِنَ السَّمَآئِ} سے لے کر {اَمَلاً آیت کا نشان} تک۔3
اور آپ ان لوگوں سے دنیاوی زندگی کی حالت بیان فرمائیے کہ وہ ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایاہو، پھر اس کے ذریعہ سے زمین کی نباتات خوب گنجان ہوگئی ہوں، پھر وہ ریزہ ریزہ ہوجاوے کہ اس کو ہوا اُڑائے لیے پھرتی ہو، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔ مال اور اولاد حیاتِ دنیا کی ایک رونق ہے، اور جو اَعمالِ صالحہ باقی رہنے والے ہیں وہ آپ کے ربّ کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی ہزار درجہ بہتر ہیں اور اُمید کے اعتبار سے بھی۔
بیان کے بعد لوگ حضرت عثمان ؓ سے بیعت ہونے لگے۔1
حضرت عتبہ کہتے ہیں: حضرت عثمان ؓ نے بیعت کرنے کے بعد لوگوں میں بیان کیا جس میں ارشاد فرمایا:
اما بعد! مجھ پر خلافت کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے جسے میں نے قبول کرلیاہے۔ غور سے سنو! میں (حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کے) پیچھے چلوں گا اور اپنے پاس سے گھڑ کر نئی باتیں نہیں لائوںگا۔ توجہ سے سنو! اللہ کی کتاب اور اس کے نبی ﷺ کی سنت کے بعد میرے اوپر تمہارے تین حق ہیں: پہلا حق یہ ہے کہ جس چیز میں آپ لوگ متفق ہیں اور اس کا ایک راستہ مقرر کرلیا ہے، اس میں میں اپنے سے پہلوں کے طریقہ پر چلوں۔ اور دوسرا حق یہ ہے کہ جس چیز میں آپ سب لوگوں نے مل کر کوئی راستہ مقرر نہیں کیا ہے، اس میں میں خیر والوں کے راستے پر چلوں۔ اور تیسرا حق یہ ہے کہ میں آپ لوگوں سے اپنے ہاتھ رو کے رکھوں، آپ لوگوں کو کسی قسم کی سزا نہ دوں۔ہاں! آپ لوگ ہی خود کوئی ایساکام کر بیٹھیں جس پر سزادینا میرے ذمہ واجب ہو تو یہ الگ بات ہے۔غور سے سنو! دنیا سرسبز وشاداب ہے اور تمام لوگوں کے دلوں میں اس کی رغبت رکھی ہوئی ہے اور بہت لوگ اس کی طرف مائل ہوچکے ہیں، لہٰذا تم دنیا کی طرف مت جھکو اور اس پر بھروسہ نہ کرو، یہ بھروسے کے قابل نہیں۔اور یہ اچھی طرح سمجھ لو کہ یہ دنیا صرف اسے چھوڑتی ہے جو اسے چھوڑدے۔2
حضرت مجاہد کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عثمان بن عفانؓ نے بیان فرمایا اور ارشاد فرمایا:
اے ابنِ آدم! یہ بات جان لوکہ موت کا فرشتہ تمہارے لیے مقرر کیا گیاہے۔جب سے تم دنیا میں آئے ہو وہ تمھیں چھوڑ کر دوسروں کے پاس جارہاتھا، لیکن اب اس نے دوسروں کو چھوڑ کر تمہارے پاس آنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ اس لیے اپنے بچائو کا سامان لے لو اور موت کی تیاری کر لو اور غفلت سے کام نہ لو، کیوںکہ موت کا فرشتہ تم سے بالکل غافل نہیں ہے۔ اور اے ابنِ آدم! جان لو کہ اگر تم اپنے بارے میں غفلت میں پڑگئے اور تم نے موت کی تیاری نہ کی تو تمہارے علاوہ کوئی اور یہ تیاری نہیں کرے گا۔ اور اللہ سے ملاقات ضرور ہونی ہے،اس لیے اپنے لیے نیک اعمال لے لو اور یہ کام دوسروں پر نہ چھوڑو۔ فقط والسلام۔1
حضرت حسن کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عثمان بن عفّان ؓ نے لوگوں میں بیان فرمایا۔ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی، پھر فرمایا:
اللہ کا تقویٰ اختیار کرو،کیوںکہ اللہ کا تقویٰ غنیمت ہے۔ سب سے زیادہ عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس پر قابو پالے اور موت کے بعد والی زندگی کے لیے عمل کرے اور قبر کے اندھیرے کے لیے اللہ کے نور میں سے نور حاصل کرے۔ اور بندے کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اسے حشر کے دن اندھا بناکرنہ اٹھائیں حالاںکہ وہ دنیا میں آنکھوں والا تھا۔اور سمجھ دار آدمی کو تو چند جامع کلمات کافی ہو جاتے ہیں جن کے الفاظ کم اور معنی زیادہ ہوں، اور بہرے آدمی کو تو دور سے پکارنا پڑتاہے۔ اور یقین رکھو کہ جس کے ساتھ اللہ ہوگا وہ کسی چیز سے نہیں ڈرے گا، اور اللہ جس کے خلاف ہوگا وہ اللہ کے علاوہ اور کس سے مدد کی اُمید کرسکتاہے؟2
حضرت حسن کہتے ہیں: میں نے حضرت عثمانؓ کو منبر پردیکھا، وہ فرما رہے تھے:
اے لوگو! تم چھپ کر جو عمل کرتے ہو ان میں اللہ سے ڈرو، کیوںکہ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے! جو بھی کوئی عمل چھپ کرکرتاہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس عمل کی چادر علی الاعلان ضرور پہنائیں گے۔اگر خیر کا عمل کیا ہوگا تو اسے خیر کی چادر پہنائیں گے اور بُراعمل کیا ہوگا تو اسے بُری چادر پہنائیں گے۔
پھر حضرت عثمانؓ نے یہ آیت پڑھی:
وَرِیَاشًا ط وَلِبَاسُ التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرٌ۔3
اس میں حضرت عثمان ؓ نے وَرِیَاشًا پڑھا اور {وَرِیْشًا} نہ پڑھا (جوکہ مشہور قرأت ہے)۔
اور زینت اور تقویٰ کا لباس یہ اس سے بڑھ کر ہے۔
راوی کہتے ہیں:’’زینت اور تقویٰ والے لباس‘‘ سے مراد اچھی عادتیں ہیں۔1
حضرت عبادبن زاہر کہتے ہیں: میں نے حضرت عثمان ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا، انھوں نے فرمایا:
اللہ کی قسم! ہم لوگ سفر وحضر میں حضورﷺ کے ساتھ رہے، آپ ہمارے بیماروں کی عیادت فرماتے تھے اور ہمارے جنازوں کے ساتھ تشریف لے جاتے تھے اور ہمارے ساتھ غزوہ میں جاتے تھے اور آپ کے پاس کم یا زیادہ جتنا ہوتا اسی سے ہم سے غم خواری فرماتے۔اور اب کچھ لوگ مجھے حضورﷺ کے بارے میں کچھ بتارہے ہیں، حالاںکہ ان لوگوں نے تو شاید حضورﷺ کو دیکھا بھی نہیں ہوگا۔2
احمد اور ابو یعلیٰ کی روایت میں اس کے بعد یہ ہے: اس پر اَعین بن اِمرأۃ الفرزدق نے حضرت عثمان ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:اے نعثَل! (مصر کے ایک آدمی کا نام نعثل تھا، اس کی ڈاڑھی لمبی تھی حضرت عثمان ؓ کی ڈاڑھی بھی لمبی تھی۔ معترضین کو حضرت عثمان میں اس کے علاوہ اور کوئی کمی ملتی نہیں تھی، اس لیے اس سے تشبیہ دیتے ہوئے اس کے نام سے پکارا کرتے تھے) آپ نے تو سب کچھ بدل دیاہے۔ حضرت عثمان نے پوچھا:یہ کون ہے؟لوگوں نے بتایا: یہ اَعین ہے۔ تو فرمایا: نہیں، اے غلام! تُونے بدلاہے۔ اس پر لوگ اَعین پر جھپٹے۔ بنولیث کا ایک آدمی لوگوں کو اَعین سے ہٹانے لگا اور وہاں سے بچاکر اَعین کو اپنے گھر لے گیا۔3
حضرت مالک کہتے ہیں: میں نے حضرت عثمان بن عفَّان ؓ کو بیان میں فرماتے ہوئے سنا کہ
چھوٹی عمر کے غلام کو کما کر لانے کا مکلّف نہ بنائو،کیوںکہ اگر تم اسے کما نے کا مکلّف بنائوگے تووہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے کما نہیں سکے گا اِس لیے چوری شروع کردے گا۔ایسے ہی جو باندی کوئی کام یاہنر نہ جانتی ہو اسے بھی کماکر لانے کا مکلف نہ بناؤ، کیوںکہ اگر تم اُسے کماکر لانے کا مکلف بناؤگے تو اُسے کوئی کام اور ہنر تو آتا نہیں، اس لیے وہ اپنی شرم گاہ کے ذریعہ یعنی زنا کے ذریعہ کمانے لگ جائے گی۔ اور پاک دامنی اختیار کیے رہو، کیوںکہ اللہ نے تمھیں پاک دامنی عطافرمارکھی ہے۔ اور کھانے کی صرف وہ چیزیں استعمال کرو جو حلال اور پاکیزہ ہیں۔1
حضرت زُبَید بن صَلت کہتے ہیں: میں نے حضرت عثمان ؓ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا:
اے لوگو! جُواکھیلنے سے بچو یعنی نَردنہ کھیلا کرو، کیوںکہ مجھے بتایا گیا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگوں کے گھروں میں نرد کھیل کے آلات ہیں، اس لیے جس کے گھر میں یہ آلات موجود ہیں وہ یا تو انھیں جلادے یا توڑ دے۔
اور دوسری مرتبہ حضرت عثمان ؓ نے منبر پر فرمایا:
اے لوگو! میںنے اس نَرد کھیل کے بارے میں بات کی تھی، لیکن ایسا نظر آرہاہے کہ تم لوگوں نے اس کھیل کے آلات کو گھروں سے ابھی نہیں نکالاہے، اس لیے میں نے ارادہ کرلیاہے کہ حکم دے کر لکڑیوں کے گٹھڑجمع کرائوں اور جن گھروں میں یہ آلات ہیں ان سب کو آگ لگادوں۔2
حضرت عبدالرحمن بن حُمید کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم کہتے ہیں: حضرت عثمان ؓ نے منیٰ میں نماز پوری پڑھائی (حضورﷺ اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ حج کے موقع پر منیٰ کے دنوں میں ظہر، عصر، عِشا تینوں نمازوں میں دو رکعت نماز پڑھاتے رہے۔ شروع میں حضرت عثمانؓ بھی دو رکعت پڑھاتے رہے، لیکن پھر چار رکعت پڑھانے لگے تھے)۔ پھر لوگوں میں بیان کیا جس میں فرمایا:
اے لوگو! اصل سنت تو وہ ہے جو حضورﷺ اور آپ کے دوساتھیوں (حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ) نے کیا، لیکن اس سال لوگ حج پر بہت آئے ہیں۔ اس لیے مجھے ڈر ہوا کہ لوگ دو رکعت پڑھنے کو مستقل سنت نہ بنالیں (اس لیے میں نے چار پڑھائیں)۔1
حضرت قُتیبہ بن مسلم کہتے ہیں: حجاج بن یوسف نے ہم میں بیان کیا اور اس نے قبر کا تذکرہ کیا اور مسلسل کہتارہا کہ یہ قبر تنہائی کا گھر ہے اور اَجنبیت اور بیگانگی کا گھر ہے، یہاں تک کہ خود بھی رونے لگااور آس پاس والوں کو بھی رُلادیا، پھر کہا:
میں نے امیرالمؤمنین عبدالملک بن مردان کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے مروان کو بیان میں کہتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان بن عفان ؓ نے ہم میں بیان کیا جس میں فرمایا: حضورﷺ نے جب بھی کسی قبر کو دیکھا یا اس کا تذکرہ کیا تو آپ ضرور روئے۔2
حضرت سعید بن مسیّب کہتے ہیں: میں نے حضرت عثمان ؓ کو منبر پر بیان میں فرماتے ہوئے سنا کہ
میں بنو قینقاع کے ایک یہودی خاندان سے کھجوریں خریدتاتھا اور آگے نفع پر بیچتاتھا۔ حضور ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو فرمایا: اے عثمان! جب خریداکرو تو پیمانہ سے ناپ کر لیا کرو اور جب بیچا کرو تو دوبارہ پھر پیمانہ سے ناپ کردیا کرو۔3
حضرت حسن کہتے ہیں: میں ایک مرتبہ حضرت عثمان ؓ کی خدمت میں حاضر تھا، آپ بیان میں تکلیف دہ کتوں کو مار نے کا اور کھیل کے طور پر اُڑائے جانے والے کبوتروں کو ذبح کردینے کا حکم دے رہے تھے (جودوسرے کبوتروں کو لے آتے ہوں)۔4
حضرت بدر بن عثمان کے چچا کہتے ہیں کہ مجمع میں حضرت عثمان ؓ نے آخری بیان میں یہ فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمھیں دنیا اس لیے دی ہے تا کہ تم اس کے ذریعہ سے آخرت حاصل کرو اور اس لیے نہیں دی کہ تم اسی کے ہو جائو۔دنیا فنا ہونے والی ہے اور آخرت ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ نہ تو فانی دنیا کی وجہ سے اِترانے لگواور نہ اس کی وجہ سے آخرت سے غافل ہوجائو۔ فانی دنیا پر ہمیشہ رہنے والی آخرت کو ترجیح دو، کیوںکہ دنیا ختم ہوجائے گی اور ہم سب نے لوٹ کر اللہ ہی کے پاس جاناہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو، کیوںکہ اللہ سے ڈرناہی اس کے عذاب سے ڈھال اور اس کی بارگاہ میں پہنچنے کا وسیلہ ہے۔ اور احتیاط سے چلو، کہیں اللہ تمہارے حالات نہ بدل دے۔ اور اپنی جماعت سے چمٹے رہو اور مختلف گروہ نہ بن جائو:
{وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ اِخْوَانًا}1
اور تم پر جو اللہ تعالیٰ کا انعام ہے اس کو یاد کرو جب کہ تم دشمن تھے پس اللہ تعالیٰ نے تمہارے قلوب میں الفت ڈال دی، سو تم خداتعالیٰ کے انعام سے آپس میں بھائی بھائی ہوگئے۔2
اور جہاد کے باب میں اللہ تعالیٰ کے راستہ میں پہرہ دینے کی فضیلت میں حضرت عثمان ؓ کا بیان گزرچکا ہے۔