صحابہ کرام ؓ کی نصیحتیں

حضرت ابوامامہ ؓ کی نصیحتیں

حضرت عامربن سُلَیم کہتے ہیں: ہم ایک جنازے کے ساتھ بابِ دِمَشق میں گئے۔ ہمارے ساتھ حضرت ابو اُمامہ باہلیؓبھی تھے۔ جب وہ نمازِ جنازہ پڑھاچکے اور لوگ جنازے کو دفن کرنے لگے تو انھوں نے فرمایا: اے لوگو! تم اب تو صبح وشام ایسی جگہ کررہے ہو جہاں تم لوگ اپنے اپنے حصہ کی نیکیاں اور برائیاں جمع کررہے ہو۔ پھر حضرت ابواُمامہ نے قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عن قریب یہاں سے کوچ کرکے اس (قبر والی) جگہ آجائوگے۔یہ قبر تنہائی کا گھر ہے، اندھیرے کا گھر ہے، کیڑوں کا گھر ہے اور تنگی کا گھر ہے، لیکن جس کے لیے اللہ قبر کو کشادہ کردیں تو یہ الگ بات ہے۔ پھر قیامت کے دن تم لوگ یہاں سے منتقل ہو کر میدانِ حشر میں پہنچ جائوگے، اور وہاں اللہ کا ایک حکم آئے گا جس سے بہت سے چہرے سفید اور بہت سے سیاہ ہوجائیں گے، پھر وہاں سے دوسری جگہ چلے جائوگے۔ اس جگہ سب لوگوں پر سخت اندھیرا چھاجائے گا۔ پھر نور تقسیم کیاجائے گا۔ مؤمن لوگوں کو تو نور مل جائے گا،لیکن کافروں اور منافقوں کو ایسے ہی چھوڑ دیاجائے گا انھیں کچھ بھی نور نہیں ملے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس مثال کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: {اَوْ کَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰہُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ سَحَابٌط ظُلُمٰتٌم بَعْضُھَا فَوْقَ بَعْضٍط اِذَا اَخْرَجَ یَدَہٗ لَمْ یَکَدْ یَرٰھَا ط وَمَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہُ لَہٗ نُوْرًا فَمَا لَہٗ مِنْ نُّوْرٍآیت کا نشان} 1 یا وہ ایسے ہیں جیسے بڑے گہرے سمندر کے اندرونی اندھیرے کہ اس کو ایک بڑی لہر نے ڈھانک لیا ہو، اس (لہر) کے اوپر دوسری لہر، اس کے اوپر بادل (ہے، غرض) اوپر تلے بہت سے اندھیرے (ہی اندھیرے) ہیں کہ اگر (کوئی ایسی حالت میں) اپنا ہاتھ نکا لے (اور دیکھناچاہے) تو دیکھنے کا احتمال بھی نہیں، اور جس کو اللہ ہی نور (ہدایت) نہ دے اس کو (کہیں سے بھی) نور نہیں میسر ہوسکتا۔ اور کافر و منافق مؤمن کے نورسے روشنی حاصل نہیں کرسکیں گے، جیسے اندھا بینا کی دیکھنے کی طاقت سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتا۔ منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے (پلِ صراط پر) کہیں گے: {اُنْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ ج قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآئَ کُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا}2 (ذرا) ہمارا انتظار کرلو ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرلیں۔ ان کو جواب دیاجائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جائو،پھر (وہاں سے) روشنی تلاش کرو۔ اس طرح اللہ تعالیٰ منافقوں کو ان کی چال بازی کی سزا دیں گے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ}3 چال بازی کرتے ہیں اللہ سے حالاںکہ اللہ تعالیٰ اس چال کی سزا ان کو دینے والے ہیں۔ پھر کفار اور منافقین اسی جگہ واپس آئیںگے جہاں نور تقسیم ہوا تھا، لیکن انھیں وہاں کچھ نہیں ملے گا۔ پھر وہ دوبارہ مسلمانوں کے پاس آئیں گے،پھر اُن کے اور مسلمانوں کے درمیان ایک دیوار قائم کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ (بھی) ہوگا: {بَاطِنُہٗ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ وَظَاھِرُہٗ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابآیت کا نشان}1 (جس کی کیفیت یہ ہے کہ) اس کے اندرونی جانب میں رحمت ہوگی اور بیرونی جانب کی طرف عذاب ہوگا۔ حضرت سُلَیم بن عامرکہتے ہیں: یوں منافق دھوکے میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ نور تقسیم ہوجائے گا، اور اللہ تعالیٰ منافق اور مؤمنوں کو الگ الگ کریں گے۔ 2 حضرت سلیمان بن حبیبکہتے ہیں: میں ایک جماعت کے ساتھ حضرت ابو اُمامہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہ تو دبلے پتلے عمر رسیدہ بڑے میاں ہیں، اور ان کاظاہری منظر جو نظر آرہاتھا ان کی عقل اور ان کی گفتگو اس سے کہیں زیادہ اچھی تھی۔ انھوں نے سب سے پہلے ہم سے یہ بات کی کہ اس مجلس میں بیٹھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنے اَحکام تم تک پہنچارہے ہیں اور مجلس تم پر اللہ کی حجت ہے،کیوںکہ حضورﷺ کو جو کچھ دے کر بھیجا گیاتھا آپ نے وہ سب کچھ اپنے صحابہ کو پہنچادیاتھا اور آپ کے صحابہ نے جو کچھ حضورﷺ سے سناتھا وہ سب آگے پہنچادیا، لہٰذا تم جو کچھ سن رہے ہو اسے آگے پہنچادینا۔تین آدمی ایسے ہیں جو اللہ کی ذمہ داری میں ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ یا تو انھیں جنت میں داخل کریں گے یا اجر وثواب اور غنیمت دے کر انھیں واپس کریں گے: ایک تو وہ آدمی جو اللہ کے راستہ میں نکلا، یہ بھی اللہ کی ذمہ داری میں ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ یاتو اسے (شہادت کا مرتبہ دے کر) جنت میں داخل کریں گے یا اجر وثواب اور مالِ غنیمت دے کر واپس کریں گے۔ دوسرا وہ آدمی جس نے وضو کیا پھر مسجد گیا، وہ بھی اللہ کی ذمہ داری میں ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ یا تو اسے (موت دے کر) جنت میں داخل کریں گے یا اجر وثواب اور مالِ غنیمت دے کر واپس کریں گے۔ تیسرا وہ آدمی جو اپنے گھر میں سلام کر کے داخل ہو۔ پھر فرمایا: جہنم پر ایک بڑا پل ہے جس سے پہلے سات چھوٹے پل ہیں۔ ان میں سے درمیان والے پل پرحقوق العباد کا فیصلہ ہوگا۔ چناںچہ ایک بندے کو لایاجائے گا، جب وہ درمیان والے پل پہنچ جائے گا تو اس سے پوچھاجائے گا: تم پر قرضہ کتناتھا؟ وہ اپنے قرضہ کا حساب لگانے لگے گا۔ پھر حضرت ابواُمامہ ؓ نے یہ آیت پڑھی: {وَلَا یَکْتُمُوْنَ اللّٰہَ حَدِیْثًاآیت کا نشان}1 اور اللہ تعالیٰ سے کسی بات کا اِخفا نہ کرسکیں گے۔ پھر وہ بندہ کہے گا:اے میرے ربّ! مجھ پر اتنا اتنا قرضہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: اپنا قرضہ اداکرو۔وہ کہے گا: میرے پاس تو کوئی چیز نہیں ہے اور مجھے معلوم بھی نہیں کہ میں کس چیز سے قرضہ اتار سکتا ہوں۔ پھر فرشتوں سے کہا جائے گا: اس کی نیکیاں لے لو (اور اس کے قرض خواہوںکودے دو)۔ چناںچہ اس کی نیکیاں لے کر قرض خواہوں کو دی جاتی رہیں گی یہاں تک کہ اس کے پاس ایک بھی نیکی باقی نہیں رہے گی۔ جب اس کی تمام نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو کہا جائے گا: اس سے مطالبہ کرنے والوں کے گناہ لے کر اس پر ڈال دو۔ چناںچہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ بہت سے لوگ پہاڑوں کے برابر نیکیاں لے کر آئیں گے اور اپنے حقوق کا ان سے مطالبہ کرنے والوں کو ان سے نیکیاں لے کر دی جاتی رہیں گی یہاں تک کہ ان کی ایک بھی نیکی باقی نہیں رہے گی۔پھر مطالبہ کرنے والوں کے گناہ ان پر ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ گناہ پہاڑوں کے برابر ہوجائیں گے۔ پھر حضرت ابواُمامہ ؓ نے فرمایا: جھوٹ سے بچو، کیوںکہ جھوٹ فسق وفجور کی رہبری کرتاہے، اور فسق وفجور جہنم کا راستہ دکھاتے ہیں۔ اور سچ بولنے کو لازم پکڑو، کیوںکہ سچ نیکی کا راستہ دکھاتاہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے۔پھر فرمایا: اے لوگو! تم تو زمانۂ جاہلیت والوںسے زیادہ گمراہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں درہم و دینار اس لیے دیے ہیں کہ تم ایک درہم اور ایک دینار اللہ کے راستے میں خرچ کرکے سات سودرہم اور سات سو دینار کاثواب حاصل کرو، اور پھر تم لوگ تھیلیوں میں درہم و دینار بند کرکے رکھتے ہواور اللہ کے راستہ میں خرچ نہیں کرتے ہو۔ غور سے سنو! اللہ کی قسم یہ تمام فتوحات ایسی تلواروں کے ذریعہ سے ہوئی ہیں جن میں زینت کے لیے سونا چاندی لگاہوا نہیں تھا، بلکہ کچا پٹھا، سیسہ اور لوہا لگا ہواتھا۔ 1