صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

فرشتوں کے ذریعے مدد

حضرت سہل بن سعد ؓکہتے ہیں: حضرت ابواُسید ؓ نے بینائی جانے کے بعد فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں اور تم اگر میدانِ بدر میں ہوتے اور اللہ تعالیٰ میری بینائی واپس کردیتے تو میں تمھیں وہ گھاٹی دکھاتا جہاں سے فرشتے نکل کر ہمارے لشکر میں آئے تھے اور اس بات میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے۔ 1 حضرت عروہ نے فرمایا: حضرت جبرائیل ؑ جنگِ بدر کے دن حضرت زبیر ؓ کی شکل وصورت پر اُترے تھے۔ انھوں نے سرپر زرد رنگ کی پگڑی باندھی ہوئی تھی جس کا کچھ کپڑا ان کے چہرے پر بھی تھا۔ 2 حضرت عَبّاد بن عبداللہ بن زبیر نے فرمایا: حضرت زبیر بن عوام ؓ کے سر پر غزوۂ بدر کے دن زرد پگڑی تھی جس کا کچھ کپڑا ان کے چہرے پر تھا۔ چناںچہ فرشتے آسمان سے اترے تو ان کے سروں پر زردپگڑیاں تھیں۔3 حضرت ابنِ عباس ؓ نے فرمایا: غزوۂ بدر کے دن فرشتوں کی نشانی سفید پگڑیاں تھیں جن کے شملے پشت پر لٹکے ہوئے تھے (بعض فرشتوں کی پگڑیاں سفید تھیں اور بعض کی زرد) اور غزوۂ حنین کے دن ان کی نشانی سبز پگڑیاں تھیں۔ اور غزوۂ بدر کے دن تو فرشتوں نے جنگ کی تھی باقی کسی غزوے کے دن جنگ نہیں کی تھی، البتہ شریک ہوکر مسلمانوںکی تعداد بڑھاتے تھے اور ان کی مدد کرتے تھے، کسی کافر پر حملہ نہیںکرتے تھے۔ 1 حضرت عِکرِمہ کہتے ہیں: حضورﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع ؓ نے فرمایا: میں حضرت عباس بن عبدالمطّلب ؓ کاغلام تھا اور اسلام ہمارے گھر میں داخل ہوچکا تھا۔ چناںچہ حضرت عباس، ان کی اہلیہ حضرت اُمِ فضل ؓ اور میں، ہم سب مسلمان ہوچکے تھے، لیکن حضرت عباس اپنی قوم سے ڈرتے تھے اور ان کے خلاف کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے اور اپنے اسلام کو چھپاتے تھے اور بہت زیادہ مال دارتھے۔ ان کا بہت سا مال ان کی قوم میں بکھرا ہوا تھا۔ ابولہب بھی جنگِ بدر میں نہیں گیا تھا اور اس نے اپنی جگہ عاص بن ہشام بن مغیرہ کو بھیجا تھا۔ باقی تمام کافروں نے بھی یہی کیاتھا، جو خود اس جنگ میں نہیں گیاتھا اس نے اپنی جگہ کسی نہ کسی کو بھیجاتھا۔ جب اسے جنگِ بدر میں کفارِ قریش کے شکست کھانے کی خبر ملی تو اللہ نے اسے خوب رسوا اور ذلیل کیا، اور ہمیں اس خبر سے اپنے اندر بہت قوت اور غلبہ محسوس ہوا۔ حضرت ابو رافع ؓ کہتے ہیں:میں ایک کمزور آدمی تھا اور زمزم کے خیمے میں تیر بنایا کرتا تھا انھیں چھیلا کرتاتھا۔ اللہ کی قسم! میں خیمے میں بیٹھا ہوا تیر چھیل رہاتھا اور حضرت اُمِ فضل ؓ میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں اور یہ جو خبر آئی تھی اس سے ہم بہت خوش تھے کہ اتنے میں ابولہب بری طرح پائوں گھسیٹتاہوا آیا اور خیمے کی رسی پر آکر بیٹھ گیا۔ اس کی پشت میری پشت کی طرف تھی۔ وہ یوں بیٹھاہوا تھا کہ اتنے میں لوگوں نے کہا: یہ ابوسفیان ہے جو جنگِ بدرسے واپس آیا۔ اس ابوسفیان کانام مغیرہ بن حارث بن عبدالمطّلب ہے۔ (یہ ابوسفیان اور ہیں، اور جو ابوسفیان قریش کے سردار اور ہر جنگ کے سپہ سالارتھے وہ اور ہیں ان کا نام صخر بن حرب بن اُمیہ ہے) ابولہب نے ابوسفیان سے کہا: میرے پاس آئو، کیوںکہ میری زندگی کی قسم! صحیح خبر تو تمہارے پاس ہے۔ وہ ابولہب کے پاس آکر بیٹھ گیا اور لوگ بھی پاس آکر کھڑے ہوگئے۔ ابولہب نے کہا: اے میرے بھتیجے! ذرا یہ تو بتائو کہ لوگوں کو کیا ہوا؟ کیسے شکست ہوگئی؟ اس نے کہا:اللہ کی قسم! ہم لڑنے کے لیے مسلمانوں کے سامنے کھڑے ہی ہوئے تھے کہ مسلمان ہم پر چھاگئے، اور جسے چاہتے تھے قتل کردیتے تھے اور جسے چاہتے تھے قید کرلیتے تھے اور اللہ کی قسم! میں اس میں اپنے لشکر کا کوئی قصور نہیں سمجھتا، کیوںکہ ہمارا مقابلہ تو مسلمانوں سے ہوا ہی نہیں بلکہ ہمارے مقابلہ میں تو ایسے لوگ آگئے تھے جن کا رنگ سفید تھا اور وہ زمین وآسمان کے درمیان چتکبرے گھوڑوں پر سوار تھے اور وہ لوگ تو کسی چیز کو چھوڑتے نہیں تھے، ان کے سامنے کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی تھی۔ حضرت ابورافع کہتے ہیں:میں نے خیمہ کی رسی ہاتھ میں اٹھائی اور کہا: اللہ کی قسم! یہ تو فرشتے تھے (چوںکہ کفارِ قریش فرشتوں کو مانتے نہیں تھے اس وجہ سے) ابولہب نے ہاتھ اٹھاکر مجھے زور سے مارا، میں اس سے گتھ گیا۔ اس نے مجھے اٹھاکر زمین پر پٹخااور پھر میرے سینے پر بیٹھ کر مجھے مارنے لگا۔ میں کمزور آدمی تھا، اس پر حضرت اُمِ فضل نے کھڑے ہوکر خیمہ کا ایک کھونٹا لیا اور زور سے ابولہب کے سرپر مارا، جس سے اس کے سرمیں بڑا زخم ہوگیا اور یوں کہا: چوںکہ اس غلام کا آقا موجود نہیں ہے اس لیے تُو نے اسے کمزور سمجھ رکھا ہے۔ ابولہب اٹھا اور رسوا ہو کر پشت پھیر کر چلاگیا (کہ مکہ کے اس سردار نے آج ایک غلام اور ایک عورت سے مار کھائی)۔ اللہ کی قسم! وہ اس کے بعد صرف سات دن ہی زندہ رہا، پھر اللہ نے اسے چیچک میں مبتلا کردیا جس سے وہ مرگیا۔ یونس کی روایت میں مزید یہ بھی ہے: ابولہب کے دوبیٹے تھے، انھوں نے اس کی لاش کو مرنے کے بعد تین دن ویسے ہی پڑارہنے دیااسے دفن نہیں کیا یہاں تک کہ وہ سڑگیا اور اس میں بدبوپیداہوگئی۔ اور قریش کے لوگ طاعون کی طرح چیچک سے بھی بہت ڈرتے تھے اور اس سے بچتے تھے۔ آخر قریش کے ایک آدمی نے ان دونوں سے کہا:تم دونوں کا ناس ہو! کیا تمھیں شرم نہیں آتی تمہارا باپ گھر میں پڑاسڑرہاہے تم اسے دفن نہیں کرتے؟ دونوں نے کہا: یہ چیچک اور اس کے زخم ایک متعدی بیماری ہے، اس لیے ہمیں ڈرہے کہ کہیں ہمیں نہ ہوجائے۔ اس نے کہا:چلو میں تمہاری مدد کرتاہوں۔ چناںچہ تینوں نے دور سے اس پر پانی پھینک کر غسل دیا، اس کے قریب نہ گئے۔ پھر اسے اٹھا کر مکہ کے بالائی حصہ میں لے گئے اور ایک دیوار کے سہارے اسے لٹا کر اس پر پتھر ڈال دیے۔1 حضرت اُمِ بُرثُن رحمۃ اللہ علیہا کے غلام حضرت عبدالرحمن ان صحابی سے نقل کرتے ہیں جو غزوۂ حنین میں حالتِ کفر میں شریک ہوئے تھے اور بعد میں مسلمان ہوئے تھے۔ وہ فرماتے ہیں: جب میدانِ جنگ میں ہمارا اور حضورﷺ کا آمناسامنا ہوا تو مسلمان ہمارے سامنے اتنی دیر بھی نہیں ٹھہر سکے جتنی دیر میں ایک بکری کا دودھ نکالاجاتاہے۔ ان کے پائوں اکھڑ گئے اور انھیں شکست ہوگئی اور ہم تلواریں ہلاتے ہوئے حضورﷺ کے سامنے پہنچ گئے۔ جب ہم حضور ﷺ پر چھا گئے تو ایک دم ہمارے اور حضورﷺ کے درمیان ایسے لوگ آگئے جن کے چہرے بڑے خوب صورت تھے۔ انھوں نے کہا: (تمہارے) چہرے بگڑ جائیں! لہٰذا تم واپس چلے جاؤ۔ بس ان لوگوں کی اتنی سی بات سے ہمیں شکست ہوگئی۔ 2 حضرت ابنِ بُرثُن کے آزاد کردہ غلام حضرت عبدالرحمنکہتے ہیں: ایک صاحب جوغزوۂ حنین کے دن مشرکوں کے ساتھ تھے انھوں نے مجھے واقعہ یوں بتایا کہ جب غزوۂ حنین کے دن ہمارا اور حضورﷺ کے صحابہ ؓ کا آمناسامنا ہوا تو صحابہ ہمارے سامنے اتنی دیر بھی نہیں ٹھہر سکے جتنی دیر میں ایک بکری کا دودھ نکالاجاتاہے۔ جب ہم نے انھیں شکست دے دی تو ہم ان کا پیچھا کررہے تھے، یہاں تک کہ ہم لوگ سفید خچروالے سوار تک پہنچ گئے۔ ہم نے دیکھا تو وہ حضورﷺ تھے۔حضورﷺ کے پاس ہمیں گورے چٹے خوب صورت چہرے والے لوگ ملے۔ انھوں نے ہم سے کہا:(تمہارے) چہرے بگڑ جائیں! تم واپس چلے جاؤ۔بس اس پر ہمیں شکست ہوگئی اور صحابہ ہمارے اوپر سوار ہوگئے اور وہ جیت گئے۔ یہ تھا ہماری شکست کا قصہ۔1 حضرت جبیر بن مطعم ؓ فرماتے ہیں: غزوۂ حنین کے دن ہم لوگ حضورﷺ کے ساتھ تھے اور لوگ لڑرہے تھے۔ میری آسمان پر اچانک نظرپڑی تو مجھے ایک کالی چادر آسمان سے اترتی ہوئی نظرآئی جو ہمارے اور کافروں کے درمیان آکر گر پڑی۔ وہ چیونٹیاں تھیں جو بکھر گئیں اور ساری وادی میں پھیل گئیں۔ اس کے بعد کافروں کو ایک دم شکست ہوگئی۔ ہمیں ان چیونٹیوں کے فرشتے ہونے میں کوئی شک نہیں تھا۔ 2 حضرت عبداللہ بن فضل کہتے ہیں: حضورﷺ نے جنگِ اُحُد کے دن حضرت مصعب بن عمیر ؓ کو جھنڈا دیا۔ جب حضرت مصعب شہید ہوگئے تو ایک فرشتے نے اس جھنڈے کو پکڑلیا جو کہ حضرت مصعب کی شکل میں تھا۔دن کے آخری حصہ میں حضورﷺ اسے فرمانے لگے: اے مصعب! آگے بڑھو۔ اس فرشتے نے حضور ﷺکی طرف متوجہ ہو کر کہا: میں مصعب نہیں ہوں۔ تب حضورﷺ کو پتا چلا کہ یہ فرشتہ ہے جو حضرت مصعب کی مدد و نصرت کے لیے آیاہے۔ 3 حضرت انس ؓ فرمایا: جب حضورﷺ قبیلہ بنو قُریظہ کی طرف تشریف لے گئے، اس وقت حضرت جبرائیل ؑ اپنی سواری پر سوار ہو کر قبیلہ بنی غَنَم کی گلی میں گزرے تھے جس سے اس گلی میں غباراڑاتھا۔ وہ غبار اب بھی گویا کہ مجھے نظرآرہاہے۔ 4 حضرت حُمید بن ہلال نے بنو قریظہ کے غزوے کے بارے میں پوری حدیث بیان کی ہے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ حضورﷺ اور آپ کے صحابہ نے (غزوۂ خندق سے فارغ ہوکر) ہتھیاررکھ دیے تو حضرت جبرائیل ؑ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضورﷺ حضرت جبرائیل ؑ کے پاس باہر تشریف لائے۔ حضرت جبرائیل ؑ اپنے گھوڑے کے سینے پر سہارالے کر کھڑے ہوئے تھے اور ان کی پلکوں پر خوب غبار پڑاہواتھا۔ حضورﷺ نیچے تشریف لائے تو حضرت جبرائیل ؑ نے عرض کیا: ہم نے تو ابھی تک ہتھیار نہیں رکھے، بنوقریظہ کی طرف تشریف لے چلیں (ان سے جنگ کرنی ہے)۔ حضورﷺ نے فرمایا: میرے ساتھی تھکے ہوئے ہیں آپ انھیں چند دن کی مہلت دے دیں تو اچھا ہے۔ حضرت جبرائیل ؑ نے عرض کیا: نہیں، آپ ابھی وہاں تشریف لے چلیں۔میں اپنے اس گھوڑے کو ان کے قلعوں میں گھسادوں گا اور ان کے سارے قلعے گرا کر زمین کے برابر کردوں گا۔ چناںچہ حضرت جبرائیل ؑ اور ان کے ساتھ جتنے فرشتے تھے یہ سب وہاں سے پشت پھیر کر چلے تو انصار کے قبیلہ بنی غَنَم کی گلیوں میں غبار اڑنے لگا۔ 1