صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

صحابۂ کرام ؓ کا فرشتوں کو دیکھنا

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: ایک مرتبہ حضورﷺ نے کسی شخص کی آواز سنی تو آپ جلدی سے اٹھے اور گھر کے باہر اس کے پاس گئے۔ میں بھی دیکھنے کے لیے آپ کے پیچھے گئی تو میں نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے ترکی گھوڑے کی گردن کے بالوں پر سہارالگائے کھڑاہے۔ جب میں نے ذراغور سے دیکھا تو ایسے لگا کہ یہ حضرت دِحْیَہ کلبی ؓہیں اور وہ پگڑی باندھے ہوئے ہیں جس کا شملہ ان کے کندھوںکے درمیان لٹکا ہوا ہے۔ جب حضورﷺ میرے پاس اندر تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ آپ بہت تیزی سے اٹھ کر باہر گئے تھے، میں نے بھی باہر جاکر دیکھا تو وہ تو حضرت دِحیہ کلبی ؓ تھے (ان کی وجہ سے آپ کو اتنی جلدی کرنے کی ضرورت نہیں تھی)۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم نے انھیں دیکھاہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: یہ حضرت جبرائیل ؑ تھے۔ انھوں نے مجھے کہا ہے کہ میں بنو قریظہ پر حملہ کرنے کے لیے چلوں۔ 1 حضرت سعید بن مسیّب بنوقریظہ کے بارے میں لمبی حدیث بیان کرتے ہیں جس میں یہ مضمون بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ بنوقریظہ تشریف لے چلے تو راستہ میں نبی کریم ﷺ کا صحابۂ کرام ؓ کی کئی مجلسوں پر گزرہوا۔ حضورﷺ نے ان سے پوچھا:کیا ابھی تمہارے پاس سے کوئی گزراہے؟ ان سب نے کہا:جی ہاں! ابھی حضرت دِحیہ کلبی ؓ گزرے تھے جو سفید خچر پر سوار تھے ان کے نیچے ایک ریشمی چادر بھی تھی۔ حضورﷺ نے فرمایا: وہ حضرت دِحیہ نہیں تھے بلکہ حضرت جبرئیل ؑ تھے جنھیں بنوقُریظہ اس لیے بھیجا ہے تاکہ وہ ان کے قلعوں کو ہلا کر ان کے دلوں میں رعب ڈال دیں۔ 2 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ ایک مرتبہ ایک انصاری کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ جب حضورﷺ ان کے گھر کے قریب پہنچے تو حضورﷺ نے سنا کہ وہ انصاری گھر کے اندر کسی سے بات کررہے ہیں۔جب حضورﷺ اجازت لے کر اندر تشریف لے گئے تو آپ کو وہاں کوئی نظر نہ آیا۔ آپ نے ان سے پوچھا: ابھی میں سن رہاتھا کہ تم کسی سے باتیں کررہے تھے۔ انھوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! لوگوں نے میرے بخار کی وجہ سے جوباتیں کیں ان سے مجھے بہت غم و صدمہ ہوا، اس وجہ سے میں اندر آگیا۔ پھر میرے پاس اندر ایک آدمی آیا آپ کے بعد میں نے ایسا کوئی آدمی نہیں دیکھا جو اس سے زیادہ عمدہ مجلس والا اور زیادہ اچھی بات والا ہو۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ حضرت جبرائیل ؑ تھے اور تم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم کھالیں تو اللہ ان کی قسم ضرور پوری کردے۔ 1 حضرت ابنِ عباسؓفرماتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ کے پاس ایک آدمی تھا جو آپ کے کان میں چپکے چپکے باتیں کررہاتھا جس کی وجہ سے آپ نے میرے والد سے اِعراض کیے رکھا۔ جب ہم حضورﷺ کے پاس سے باہر آئے تو میرے والد نے کہا: اے میرے بیٹے! کیا تم نے اپنے چچا زاد بھائی کو نہیں دیکھا کہ انھوں نے مجھ سے اِعراض کیے رکھا۔ میں نے کہا: ان کے پاس تو ایک آدمی تھا جو ان کے کان میں چپکے چپکے باتیں کررہاتھا۔ ہم پھر دوبارہ حضورﷺ کی خدمت میں گئے، میرے والد نے عرض کیا: یارسول اللہ! میں نے اپنے بیٹے عبداللہ سے یہ اور یہ بات کہی، اس نے مجھے بتایا کہ آپ کے پاس ایک آدمی تھا جو آپ سے چپکے چپکے باتیں کررہاتھا تو کیا آپ کے پاس کوئی تھا؟ حضور ﷺ نے فرمایا:اے عبداللہ! کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: یہ حضرت جبرائیل ؑ تھے ان ہی کی وجہ سے میں آپ کی طرف متوجہ نہ ہوسکا۔ 2 حضرت ابنِ عباس ؓ نے فرمایا: حضرت عباس ؓ نے مجھے کسی کام سے حضورﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ حضورﷺ کے پاس کوئی آدمی بیٹھا ہوا تھا اس لیے میں نے حضورﷺ سے کوئی بات نہ کی بلکہ ویسے ہی واپس آگیا۔ بعد میں حضورﷺ نے پوچھا: کیا تم نے اس آدمی کو دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: یہ حضرت جبرائیل ؑ تھے۔ اس کے بعد حضورﷺ نے میرے بارے میں فرمایا: انھیں علم خوب دیاجائے گا، لیکن مرنے سے پہلے ان کی بینائی جاتی رہے گی (چناںچہ بعد میں اللہ نے ایسے ہی کیا)۔ 3 حضرت عروہ بن رُوَیم کہتے ہیں: حضرت عرباض بن ساریہ ؓ حضورﷺ کے صحابہ ؓ میں سے تھے۔ بہت بوڑھے ہوگئے تھے اور چاہتے تھے کہ انھیں موت آجائے۔ اس لیے یہ دعاکیاکرتے تھے: اے اللہ!! میری عمر بڑی ہوگئی، اور میری ہڈیاں پتلی اور کمزور ہوگئیں، لہٰذا مجھے اپنے پاس اٹھا لے۔ حضرت عرباض فرماتے ہیں: ایک دن میں دِمشق کی مسجد میں تھا وہاں مجھے ایک نوجوان نظر آیا جو بہت حسین وجمیل تھا، اس نے سبز جوڑا پہناہواتھا۔ اس نے کہا: آپ یہ کیا دعا کرتے ہیں؟ میں نے اس سے کہا:اے میرے بھتیجے! پھر میں کیا دعاکیاکروں؟ اس نے کہا: یہ دعا کریں: اے اللہ! میرے عمل اچھے کردے اور مجھے موت تک پہنچادے۔ میں نے کہا: اللہ تم پر رحم کرے تم کون ہو؟ اس نے کہا:میں ریبائیل (وہ فرشتہ) ہوں جو مؤمنوں کے دلوں سے تمام غم نکالتا ہوں۔ 1