صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
فرشتوں کا صحابۂ کرام ؓکو سلام کرنا اور ان سے مصافحہ کرنا
حضرت مُطَرِّف بن عبداللہ کہتے ہیں: حضرت عمران بن حُصَینؓنے مجھ سے فرمایا: اے مُطَرِّف! یہ بات جان لو کہ فرشتے میرے سر کے پاس اور میرے کمرے کے پاس اور حطیمِ کعبہ کے پاس آکر مجھے سلام کیا کرتے تھے،اور اب میں نے اپنے آپ کو (علاج کے لیے) لوہے سے داغ دیاتو یہ بات جاتی رہی۔ چناںچہ جب ان کے زخم ٹھیک ہوگئے تو مجھ سے فرمایا: اے مُطَرِّف! جان لو کہ جو بات جاتی رہی تھی وہ اب پھر دوبارہ شروع ہوگئی ہے، لیکن اے مُطَرِّف! میرے مرنے تک میرا یہ راز چھپائے رکھنا۔ 2
حضرت مُطَرِّف کہتے ہیں: حضرت عمران بن حُصَینؓ نے مجھ سے فرمایا: کیا تمھیں پتا چلا کہ فرشتے مجھے سلام کیا کرتے تھے؟ لیکن جب میں نے اپنے آپ کو داغ دیا تو پھر سلام کا یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ میں نے کہا: وہ فرشتے آپ کے سر کی طرف سے آتے تھے یا پیروں کی طرف سے؟انھوں نے فرمایا: نہیں،وہ تو سر کی طرف سے آتے تھے۔ میں نے کہا: میرا خیال یہ ہے کہ آپ کے مرنے سے پہلے یہ سلسلہ پھرشروع ہوجائے گا۔ کچھ عرصہ کے بعد مجھ سے انھوں نے فرمایا: کیا تمھیں پتا چلا کہ سلام کا سلسلہ پھر شروع ہوگیاہے؟ اس کے چنددن بعد ہی ان کا انتقال ہوگیا۔1
حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں: فرشتے حضرت عمران بن حُصَینؓ سے مصافحہ کیا کرتے تھے، لیکن جب انھوں نے اپنے آپ کو داغ دیا تو فرشتے ہٹ گئے۔2