صحابہ کرام ؓ کی بیعت
اسلام پر بیعت ہونا
حضرت جریر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ہم سے ان باتوں پر بیعت لی جن باتوں پر آپ نے عورتوں سے بیعت لی تھی،ا ور آپ نے فرمایاکہ تم میں سے جو اس حال میں مرے کہ اس نے ان ممنوعہ کاموں میں سے کوئی کام نہ کیا ہو تو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں۔اور تم میں سے جو اس حال میں مرے کہ اس نے ان ممنوعہ کاموں میں سے کوئی کام کرلیا اور اس کواس کی شرعی سزا مل گئی تو یہ سزا اس کے لیے کفّارہ ہے۔اور جس نے ان ممنوعہ کاموں میں سے کوئی کام کیا اور اس پر پردہ پڑا رہا (کسی کو پتہ نہ چلا اور اس کی شرعی سزا اسے نہ ملی) تو اس کاحساب کتاب، اللہ کے ذمہ ہے (وہ جو چاہے کرے)۔ 1
حضرت اَسود ؓ نے حضور ﷺ کو فتحِ مکہ کے دن لوگوںکو بیعت کرتے ہوئے دیکھا ۔ کہتے ہیںکہ حضور ﷺ قرنِ مَصْقَلہ مقام کے پاس بیٹھ کر لوگوں کو اِسلام اور شہادت پر بیعت کررہے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے استاد عبداللہ بن عثمان سے) پوچھا کہ شہادت سے کیا مراد ہے؟ انھوںنے کہاکہ مجھے (میرے اُستاد) محمدبن اَسود بن خَلف نے بتایا تھا کہ حضورﷺ اُن کو اللہ پر ایمان لانے اور کلمۂ شہادت أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ پر بیعت کررہے تھے۔1
بیہقی کی روایت میں یہ ہے کہ چھوٹے بڑے مرد اور عورت، تمام لوگ حضور ﷺ کے پاس آئے آپ نے اُن کو اِسلام اور شہادت پر بیعت کیا ۔ 2
حضرت مجاشع بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں اور میرا بھائی ہم دونوں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کیا:آپ ہمیں ہجرت پر بیعت فرمالیں۔ آپ نے کہا کہ (مدینہ کی طرف ) ہجرت تو اہلِ ہجرت کے ساتھ ختم ہوگئی (اب اس ہجرت کا حکم نہیں رہا)۔ میں نے پوچھا: پھر آپ ہمیں کس چیز پر بیعت کریں گے؟ آپ نے فرمایا: اِسلام اور جہاد پر۔3
حضرت زِیاد بن علاقہ کہتے ہیںکہ جس دن حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کا انتقال ہوا اس دن حضرت جریر بن عبداللہ ؓ نے لوگوںمیں بیان فرمایا۔ تو میں نے اُن کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ (اے لوگو!) میں تمہیں اللہ وحدہٗ لا شریک لہٗ سے ڈرنے کی اور وقار اور اطمینان سے رہنے کی تاکید کرتا ہوں۔ میںنے اپنے ان ہاتھوں سے حضور ﷺ سے اِسلام پر بیعت کی ہے۔ آپ نے ہر مسلمان کی خیر خواہی کو میرے لیے ضروری قرار دیا۔ ربّ ِکعبہ کی قسم! میں تم سب کا خیر خواہ ہوں۔ پھر اِستغفار پڑھ کر (منبر سے) نیچے اُتر آئے ۔4
بیہقی وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت زیاد بن حارث صُدائیؓ کہتے ہیں کہ میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اِسلام پر آپ سے بیعت ہوا ۔ آگے لمبی حدیث ہے جیسے کہ اسی دعوت کے باب صفحہ ۲۷۹پر گزر چکی ہے۔