صحابہ کرام ؓ کی بیعت
اعمالِ اسلام پر بیعت ہونا
ضرت بشیر بن خصاصِیّہ ؓ کہتے ہیںکہ میں حضور ﷺ سے بیعت ہونے کے لیے آپ کی خدمت میںحاضر ہوا۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ مجھے کن چیزوں پر بیعت کرتے ہیں؟ آپ نے اپنا ہاتھ بڑھا کر فرمایا: تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ وحدہٗ لا شریک لہٗ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اور پانچوںنمازیں وقت پر پڑھو، فرض زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرواور اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ میںنے کہا: یا رسول اللہ! باقی تو تمام کام کروں گا لیکن دو کام نہیں کر سکتا ہوں: ایک زکوٰۃ کیوں کہ میرے پاس دس اونٹ ہیں ان کے دودھ پر ہی میرے گھر والوں کا گزارا ہوتا ہے اور وہی ان کے بار برداری کے کام آتے ہیں،اور دوسرے جہاد کیوں کہ میں بز دل آدمی ہوں اور لوگ یوں کہتے ہیں کہ جو (میدانِ جنگ سے ) پشت پھیرے گا وہ اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹے گا۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر دشمن سے لڑنا پڑگیا اور میں گھبرا کر (میدانِ جنگ سے) بھاگ گیا تو میں اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹوں گا۔ حضور ﷺ نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اور ہاتھ ہلاتے ہوئے فرمایا: اے بشیر! جب تم نہ زکوٰۃ دوگے اور نہ جہاد کروگے تو کس عمل کے ذریعہ جنت میں داخل ہوگے؟ میں نے کہا:یا رسول اللہ! آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں میں آپ سے بیعت ہوتا ہوں۔ چناںچہ آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور میں ان تمام اعمال پر حضور ﷺ سے بیعت ہوگیا۔1
حضرت جریر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نماز قائم کرنے، زکوٰۃدینے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر حضورﷺسے بیعت ہوا ۔ 2
اِمام احمد نے ہی اسی روایت کو اس طرح بھی نقل کیاہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ (بیعت ہونے کے لیے ) مجھے بتائیں کہ بیعت ہونے کے بعد کون سے اعمال کرنے پڑیں گے؟ کیوں کہ جن اعمال کی پابندی کرنی ہوگی اُن کو آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اس بات پر بیعت کرتا ہوں کہ تم اللہ وحدہٗ لا شریک لہٗ کی عبادت کروگے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے، نماز قائم کروگے اور زکوٰۃ دوگے اورمسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرو گے اور شرک سے بالکل بچ کر رہو گے۔1
ابنِ جریر نے بھی ایسی ہی روایت نقل کی ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ تمام مسلمانوں سے خیر خواہی کا معاملہ کروگے اور شرک کو چھوڑ دوگے ۔ 2
طبرانی کی روایت میں ہے کہ حضرت جریر ؓحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور ﷺ نے فرمایا: اے جریر! اپنا ہاتھ(بیعت ہونے کے لیے) بڑھائو۔ حضرت جریرنے کہا:کن اعمال پر ؟ حضور ﷺ نے فرمایا: اس پر کہ تم اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جھکا دو گے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرو گے۔ (یہ سن کر ) حضرت جریر (بیعت کے لیے) راضی ہوگئے۔حضرت جریر انتہائی سمجھ دار آدمی تھے اس لیے انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں ان اعمال کی اتنی پابندی کروں گاجتنی میرے بس میں ہے، چناںچہ اس کے بعد تمام لوگوں کو یہ رعایت مل گئی۔3
حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ فرماتے ہیں کہ ہم سات یا آٹھ یا نو آدمی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ نے فرمایا:کیا تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں ہوتے؟ اور اس جملہ کو تین مرتبہ دہرایا۔ تو ہم حضور ﷺ سے بیعت ہونے کے لیے آگے بڑھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم تو آپ سے بیعت ہوچکے ہیں، اب ہم آپ سے کس چیز پر بیعت ہوں؟ آپ نے فرمایا: اس پر بیعت ہوجاؤ کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کروگے، پانچ نمازیں پڑھوگے۔ اور ایک جملہ آہستہ سے فرمایا کہ لوگوں سے کوئی چیز نہ مانگوگے۔ حضرت عوف ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ان لوگوں کودیکھا ہے کہ اُن میں سے کسی کا کوڑا گر جاتا تو وہ کسی سے نہ کہتا کہ کوڑا اسے پکڑ ا دے۔ 1
حضرت ابو اُمامہؓکہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: کون بیعت ہونے کے لیے تیار ہے؟ حضور ﷺ کے غلام حضرت ثوبان ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں بیعت فرمالیں۔ آپ نے فرمایا:ہاں! اس شرط پر (بیعت کرتا ہوں )کہ کسی سے کوئی چیز نہ مانگوگے۔ حضرت ثوبان نے کہا: (جو ایسا کرے گا) پھراسے کیا ملے گا؟آپ نے فرمایا:جنت۔ چناںچہ حضرت ثوبان حضور ﷺ سے بیعت ہوگئے۔ حضرت ابو اُمامہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ثوبان کو مکہ میں بھرے مجمع میں دیکھا کہ وہ سواری پر سوار ہوتے تھے اُن کا کوڑا گر جاتا اور بعض دفعہ وہ کوڑا کسی کے کندھے پر گرجاتا اور وہ آدمی وہ کوڑا اُن کو پکڑانا چاہتا تو وہ اس سے کوڑا نہ لیتے، بلکہ خود سواری سے نیچے اتر کر اس کوڑے کو اٹھاتے ۔ 2
حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے پانچ مرتبہ مجھے بیعت فرمایااور سات مرتبہ مجھ سے عہد لیااور سات ہی مرتبہ آپ نے اللہ تعالیٰ کو میرے اوپر گواہ بنا کر فرمایاکہ میں اللہ کے بارے میں کسی کی ملامت سے نہ ڈروں۔ حضرت ابو المثنّٰی کہتے ہیںکہ حضرت ابو ذر ؓ نے کہا کہ مجھے حضور ﷺ نے بلایا اور کہا:کیا تمہیں بیعت ہونے کا شوق ہے کہ تمہیں (اس کے بدلہ میں) جنت ملے ؟ میں نے کہا:جی ہاں۔اور میں نے اپنا ہاتھ بڑھادیا۔ اور جو اعمال مجھے بیعت ہونے کے بعد کرنے ہوں گے وہ اعمال بتاتے ہوئے حضور ﷺ نے فرمایاکہ میں لوگوں سے کوئی چیز نہ مانگوں۔ میں نے کہا:بہت اچھا۔ اور آپ نے فرمایاکہ اگر تمہارا کوڑا (سواری سے) نیچے گرجائے تو وہ بھی (کسی سے) نہ مانگنا ،بلکہ خود (سواری سے) نیچے اُتر کر اُٹھانا۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ حضور ﷺ نے چھ دن فرمایا کہ جو بات تمہیں بعد میں بتائی جائے گی اسے اچھی طرح سمجھ لینا۔ ساتویں دن آپ نے فرمایا:میں تم کو ہر معاملہ میں اللہ سے ڈرنے کی تاکید کرتا ہوںچاہے وہ لوگوں کے سامنے کا ہو یا ان سے پوشیدہ۔اور جب تم سے کوئی گناہ ہوجائے تو فوراً نیکی کرلواور کسی سے کوئی چیز ہرگز نہ مانگنا، حتیٰ کہ گرے ہوئے کوڑے کوبھی اٹھاکر دینے کو نہ کہنااور امانت ہرگز نہ لینا۔ 1
حضرت سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں، حضرت ابو ذر، حضرت عُبادہ بن صامت، حضرت ابو سعید خدری، حضرت محمد بن مَسْلَمہ ؓ اور ایک اور چھٹے شخص ہم سب حضور ﷺ سے اس بات پر بیعت ہوئے کہ اللہ کے بارے میں کسی کی ملامت سے ہم بالکل متاثر نہ ہوں گے۔ اس چھٹے آدمی نے حضور ﷺ سے بیعت واپس کرنے کا مطالبہ کیا، آپ نے اسے بیعت واپس کردی ۔ 2
حضرت عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ میں (مدینہ کے) ان سرداروں میں سے ہوں جنھوں نے حضور ﷺ سے بیعت کی تھی۔ آپ نے ہمیں ان باتوں پر بیعت کیا تھا کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیںکریں گے، چوری نہیں کریں گے، زِنا نہیں کریں گے، جس شخص کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اسے ناحق قتل نہیں کریںگے، لوٹ مار نہیں کریں گے اور نافرمانی نہیں کریںگے۔ اگر ہم اس عہد کو پورا کریںگے تو اس کے بدلہ میں ہمیں جنت ملے گی، اور اگر ہم ان (حرام )کاموں میں سے کوئی کام کر بیٹھے تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے۔3
حضرت عبادہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔ آپ نے فرمایا: مجھ سے ان باتوں پر بیعت ہوجاؤ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کروگے اور چوری نہیں کروگے اور زنا نہیں کروگے۔ تم میں سے جس نے اس عہد کو پورا کردیا اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے،اور جو اُن میں سے کوئی کام کر بیٹھا اور اللہ تعالیٰ نے اس پرپردہ ڈالا تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور اگر چاہے تو اسے معاف کردے۔ 4
حضرت عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ بیعتِ عَقَبہ اُولیٰ میںہم گیارہ آدمی تھے۔ اس وقت تک ہم پر جنگ کرنا فرض نہیں ہوا تھا، اس لیے آپ نے ہمیں ان باتوں پر بیعت کیا جن پر آپ عورتوں کو بیعت کیا کرتے تھے۔ ہم نے آپ سے ان باتوں پر بیعت کی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گے اور چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، نہ اولاد کا بہتان باندھیں گے جسے اپنے ہاتھوں اور پیروں کے درمیان گھڑا ہو، نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گے، اور نیکی کے کسی کام میں نافرمانی نہیں کریں گے۔ جو اس عہد کو پورا کرے گا اسے جنت ملے گی،اور جو اُن میںسے کوئی کام کر بیٹھا تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو معاف کردے۔ اگلے سال یہ لوگ دوبارہ آکر حضورﷺ سے بیعت ہوئے۔1