صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
پُروا ہوا کے ذریعہ صحابۂ کرام ؓ کی مدد
حضرت سعید بن جُبیر کہتے ہیں: غزوۂ خندق مدینہ میں ہواتھا۔حضرت ابوسفیان بن حرب ؓ (اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، وہ) قریش کو اور اپنے پیچھے چلنے والے تمام قبائلِ عرب کو لے کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے۔ ان قبائل میں کِنانہ، عُیینہ بن حصن، غطفان، طلیحہ، بنو اسد، ابوالاعور اور بنو سُلیم شامل تھے۔ اور قریظہ کے یہودیوں اور حضور ﷺ کے درمیان پہلے سے معاہدہ تھا جسے انھوںنے توڑ دیا اور مشرکوں کی مدد کی، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
{وَاَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاھَرُوْھُمْ مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْھِمْ}1
اور جن اہلِ کتاب نے ان کی مدد کی تھی ان کو ان کے قلعوں سے نیچے اتار دیا۔
حضرت جبرائیل ؑ ہوا کو ساتھ لے کر آئے۔ جب حضورﷺ نے حضرت جبرائیل ؑ کو دیکھا تو تین دفعہ فرمایا: غور سے سنو! تمھیں خوش خبری ہو۔پھر اللہ نے ان پر ایسی ہوا بھیجی جس نے ان کے خیمے پھاڑ دیے اور ان کی دیگیں اُلٹ دیں اور ان کے کجاوے مٹی میں دبادیے اور خیموں کے باندھنے کے کھونٹے توڑدیے اور وہ لوگ ایسے گھبرا کر بھاگے کہ کوئی مُڑ کر دوسرے کو نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
{اِذْ جَائَ تْکُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًا وَّجُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا}2
جب تم پر بہت سے لشکر چڑھ آئے، پھر ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی اور ایسی فوج بھیجی جوتم کو دکھائی نہ دیتی تھی۔
کفارکے بھاگنے کے بعد حضور ﷺ مدینہ واپس آگئے۔ 3
حضرت حُمید بن ہلال کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ اور قریظہ کے درمیان کچا پکا معاہدہ تھا۔ جب غزوۂ خندق میں کفارکے گروہ اپنے لشکر لے کر آئے تو قریظہ نے وہ معاہدہ توڑ دیا اور مشرکوں کی مدد کی۔ پھر اللہ نے فرشتوں کے لشکر اور ہوا بھیجی جس سے یہ گروہ بھاگ گئے، اور قریظہ کے یہود نے اپنے قلعہ میں پناہ لی۔ اس کے بعد غزوۂ بنو قریظہ کے بارے میں حدیث ذکر کی۔ 1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: غزوۂ خندق کی ایک رات کو مشرقی ہوا شمالی ہوا کے پاس آئی اور کہنے لگی: چل اور حضورﷺ کی مدد کر۔ شمالی ہوانے کہا:آزاد اور شریف عورت رات کو نہیں چلاکرتی (اس لیے میں نہیںچلوںگی)۔ چناںچہ جس ہوا کے ذریعہ حضورﷺ کی مدد کی گئی وہ پُر وا یعنی مشرقی ہوا تھی۔ 2