صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
صحابۂ کرام ؓ کا عذاب میں مبتلا لوگوں کے عذاب کو دیکھنا
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: ایک دفعہ میں میدانِ بدر کے کنارے چلا جارہاتھا کہ اتنے میں ایک آدمی ایک گڑھے سے باہر نکلا۔ اس کی گردن میں زنجیر پڑی ہوئی تھی، اس نے مجھے پکار کر کہا: اے عبداللہ! مجھے پانی پلادے۔ اے عبداللہ! مجھے پانی پلادے۔ اے عبداللہ! مجھے پانی پلادے۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ اسے میرا نام معلوم تھا یا اس نے ویسے ہی عربوں کے دستور کے مطابق عبداللہ کہہ کر پکارا اور نام معلوم نہیں تھا۔ پھر اسی گڑھے سے ایک اور آدمی باہر نکلا اس کے ہاتھ میں کوڑا تھا۔ اس نے مجھے پکار کر کہا: اے عبداللہ! اسے پانی نہ پلانا کیوںکہ یہ کافر ہے۔ پھر اسے کوڑا مارا جس پر وہ آدمی اپنے گڑھے میں واپس چلاگیا۔ میں جلدی سے حضور ﷺ کی خدمت میں گیا اور سارا واقعہ حضورﷺ کو بتایا۔ آپﷺ نے مجھ سے فرمایا: کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ اللہ کا دشمن ابوجہل تھا اور اسے قیامت کے دن تک یوںہی عذاب ہوتارہے گا۔ 1