صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

صحابۂ کرامؓ کا مرنے کے بعد باتیں کرنا

حضرت سعید بن مسیب کہتے ہیں: قبیلۂ بنو حارث بن خزرج کے حضرت زید بن خارجہ انصاری ؓ کا حضرت عثمان بن عفان ؓ کے زمانہ میں انتقال ہوا تو لوگوں نے ان پر کپڑا ڈال دیا۔ پھر لوگوں نے ان کے سینہ میں آواز کی حرکت سنی، پھر وہ بول پڑے اور کہنے لگے: حضرت احمد، حضرت احمد (ﷺ) کا نام لوح محفوظ میں ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے سچ کہا، سچ کہا۔ وہ اپنی ذات کے بارے میں کمزور تھے، لیکن اللہ کے معاملے میں طاقت ور تھے۔ یہ سب کچھ لوحِ محفوظ میں ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے سچ کہا، سچ کہا۔ وہ طاقت ور اور امانت دار تھے۔ یہ بات بھی لوحِ محفوظ میں ہے۔ حضرت عثمان بن عفان ؓ نے سچ کہا، سچ کہا۔ وہ ان تینوں حضرات کے طریقہ پر ہیں۔ امن و امان کے چار سال گزر گئے دو سال رہ گئے ہیں، پھر فتنے آئیں گے اور زور دار آدمی کمزور کو کھا جائے گا اور قیامت قائم ہوجائے گی اور عن قریب تمہارے لشکر کی طرف زبردست خبر آئے گی۔ اَریس کا کنواں ایک زبردست چیز ہے اور یہ کنواں کیا زبردست چیز ہے۔ حضرت سعید کہتے ہیں: پھر بنو خطمہ کے ایک آدمی کا انتقال ہوا، لوگوں نے اس پر کپڑا ڈالاتو اس کے سینہ میں بھی آواز کی حرکت سنی، پھر وہ بھی بول پڑا اور کہنے لگا: بنوحارث بن خزرج کے آدمی نے سچ کہا، سچ کہا۔ 1 حضرت نعمان بن بشیر ؓ فرماتے ہیں: حضرت زید بن خارجہ ؓ ظہر عصر کے درمیان مدینہ کے ایک راستہ پر چلے جارہے تھے، چلتے چلتے ان کا انتقال ہوگیا اور وہ زمین پر گر گئے۔ اٹھا کر انھیں ان کے گھر لایاگیا، اور دو کپڑوں اور ایک چادر سے انھیں ڈھانپ دیاگیا۔ مغرب عِشا کے درمیان انصار کی عورتیں ان کے پاس جمع ہو کر اونچی آواز سے رونے لگیں۔ اتنے میں انھوں نے چادر کے نیچے سے دومرتبہ یہ آواز سنی: اے لوگو! خاموش ہوجائو۔ حضرت زیدؓ کے چہرے اور سینے سے کپڑاہٹایا گیا تو انھوں نے کہا: محمد رسول اللہ جو کہ اَن پڑھ نبی ہیں اور تمام نبیوں کے لیے مہر ہیں یہ بات لوح محفوظ میںہے (اس کے بعد وہ خاموش ہوگئے)۔ پھر کچھ دیر کے بعد ان کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے: حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے سچ کہا، سچ کہا، جو کہ اللہ کے رسول ﷺ کے خلیفہ ہیں، قوی اور امین ہیں۔ وہ اپنے بدن کے اعتبار سے تو کمزور تھے، لیکن اللہ کے معاملے میں بہت مضبوط اور طاقت ور تھے، اور یہ بات پہلی کتاب یعنی لوحِ محفوظ میںہے۔ پھر ان کی زبان سے یہ الفاظ تین مرتبہ اداہوئے: سچ کہا، سچ کہا، اور درمیانے جو کہ اللہ کے بندے امیرالمؤمنین ہیں، جو اللہ کے بارے میں کسی کی ملامت سے نہیں ڈرتے تھے اور طاقت ور کو کمزور کے کھاجانے سے روکتے تھے، یہ بات بھی پہلی کتاب یعنی لوحِ محفوظ میں ہے۔ پھر ان کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے: سچ کہا، سچ کہا۔ پھر انھوں نے کہا: حضرت عثمان امیرالمؤمنینؓ جوکہ مسلمانوں پر بہت مہربان ہیں۔ دوگزرگئے چاررہ گئے، پھر لوگوں میں اختلاف ہوجائے گا اور جوڑباقی نہ رہ سکے گا اور درخت بھی روئیں گے، یعنی کسی کا احترام واکرام باقی نہ رہے گااور قیامت قریب آجائے گی اور لوگ ایک دوسرے کو کھانے لگیں گے۔ 1 دوسری روایت میں ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر ؓ فرماتے ہیں: جب حضرت زید بن خارجہ ؓ کا انتقال ہوا تو میں حضرت عثمان ؓ کا انتظار کررہاتھا۔ میں نے سوچا کہ دورکعت نماز ہی پڑھ لوں (اور نماز شروع کردی)۔ اتنے میں حضرت زید نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹا کر کہا: السلام علیکم! السلام علیکم! گھر والے باتیں کررہے تھے میں نے نماز میں ہی کہا: سبحان اللہ! سبحان اللہ! پھر حضرت زید ؓ نے کہا: سب خاموش ہوجائیں، سب خاموش ہوجائیں۔ باقی حدیث پچھلی حدیث جیسی ہے۔ 2 طبرانی نے ’’اَوسط‘‘ میں یہ روایت ذکرکی ہے کہ تین خُلَفا میں سب سے زیادہ مضبوط جو اللہ کے بارے میں کسی کی ملامت کی پروا نہیں کرتے تھے اور کسی طاقت ور کو کسی کمزور کو کھا نے نہیں دیتے تھے وہ اللہ کے بندے اور امیرالمؤمنین تھے۔ انھوںنے سچ کہا، سچ کہا، یہ لوحِ محفوظ میں ہے۔ پھر حضرت زید ؓ نے کہا: حضرت عثما ن امیرالمؤمنین ہیں اور وہ لوگوں کے بہت زیادہ قصور معاف کردیتے ہیں۔ دوگزر گئے ہیں چارباقی ہیں۔ پھر لوگوں میں اختلاف ہوجائے گا اور ایک دوسرے کو کھانے لگ جائیں گے اور کوئی نظم برقرار نہ رہ سکے گا اور بڑے بڑے بہادر روئیں گے، پھر مسلمانوں کی ترقی رک جائے گی۔ اور یہ بھی کہا کہ یہ بات اللہ نے لکھی ہوئی ہے اور اسے مقدر فرمارکھا ہے۔ اے لوگو! اپنے امیر کی طرف متوجہ ہوجائو! اس کی بات سنو اور مانو! پھر جسے والی بنایاجائے گا اس کا خون محفوظ نہ رہے گا اور اللہ کا فیصلہ مقدر ہوچکا ہے۔ اللہ اکبر! یہ جنت ہے اور یہ جہنم ہے، اور سارے نبی اور صدیق سلام علیکم کہہ رہے ہیں۔ اے عبداللہ بن رواحہ! کیا آپ کو میرے والد حضرت خارجہ اور حضرت سعد کا کچھ پتا چلا؟ یہ دونوں حضرات جنگِ اُحد میں شہید ہوئے تھے؟ {کَلَّا اِنَّھَا لَظٰی آیت کا نشان نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی آیت کا نشان تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَتَوَلّٰی آیت کا نشان وَجَمَعَ فَاَوْعٰی آیت کا نشان}1 یہ ہرگز نہ ہوگا (بلکہ) وہ آگ ایسی شعلہ زن ہے جو کھال (تک) اتاردے گی۔ (اور) وہ اس شخص کو (خود) بلاوے گی جس نے (دنیا میں حق سے) پیٹھ پھیری ہوگی اور (اطاعت سے) بے رخی کی ہوگی۔ اور جمع کیا ہوگا پھر اس کو اٹھا کررکھا ہوگا۔ حضرت زید ؓ کی آواز بند ہوگئی۔ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ حضرت زید ؓ نے یہ بھی کہا: یہ حضرت احمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ سلام علیک یا رسول اللہ! ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ 2 حضرت نعمان بن بشیر ؓ فرماتے ہیں: ہم میں سے ایک آدمی کا انتقال ہوا جنھیں حضرت زید بن خارجہؓ کہا جاتاتھا۔ ہم نے ایک کپڑے سے انھیں ڈھانک دیا اور میں کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگا۔ اتنے میں کچھ شور سنائی دیا تو میں ان کی طرف متوجہ ہوا۔ میں نے دیکھا کہ ان کا جسم حرکت کررہاہے، پھر وہ کہنے لگے: لوگوں میں سب سے زیادہ طاقت ور (تین خُلَفامیں) درمیان والے اللہ کے بندے امیرالمؤمنین حضرت عمر ؓ ہیں، جو اپنے کام میں بھی خوب طاقت ور اور اللہ کے کام میں بھی خوب طاقت ور تھے۔ اور امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفانؓ پاک دامن اور انتہائی پاک باز ہیں، جو بہت سے قصور معاف کردیتے ہیں۔ دو راتیں گزرگئی ہیں اور چار باقی ہیں، پھر لوگوں میں اختلاف ہوجائے گا اور ان میں کوئی نظم برقرار نہیں رہ سکے گا۔ اے لوگو! اپنے امام کی طرف متوجہ ہوجائو! اور سنو اور مانو۔ یہ اللہ کے رسول ﷺ اور عبداللہ بن رواحہ ہیں۔ پھر (حضرت ابنِ رواحہ سے) کہا: میرے والد حضرت خارجہ بن زیدؓ کا کیا بنا؟ پھر کہا: اَریس کنواں ظلما ًلے لیا گیا۔ اس کے بعد ان کی آواز بند ہوگئی۔ 3