صحابہ کرام ؓ کی بیعت
ہجرت پر بیعت ہونا
حضرت یعلیٰ بن مُنْیہ ؓ کہتے ہیں کہ میں فتحِ مکہ کے اگلے دن حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے والد کو ہجرت پر بیعت فرما لیں۔ آپ نے فرمایا: ہجرت پر نہیں بلکہ ان کو میں جہاد پر بیعت کروں گا،کیوں کہ فتحِ مکہ کے دن سے ہجرت کا حکم ختم ہوگیا ہے۔ 2
اور صفحہ ۳۲۳ پرحضرت مجاشع ؓکی حدیث گذر چکی ہے جس میں یہ ہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ہجرت پر بیعت فرمالیں۔ آپ نے فرمایا: ہجرت تو اہلِ ہجرت کے ساتھ ختم ہوگئی۔ اور صفحہ ۳۲۴ حضرت جریر ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں یہ ہے کہ تم شرک سے بالکل بچ کر رہوگے۔اور’’ بیہقی‘‘میں حضرت جریر ؓ کی روایت میں یہ ہے کہ تم مؤمنوں کی خیر خواہی کروگے اور مشرکوں کو چھوڑ دوگے۔ 3
حضرت حارث بن زِیاد ساعدی ؓکہتے ہیں کہ میں غزوۂ خندق کے دن حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہواآپ لوگوں کو ہجرت پر بیعت فرمارہے تھے۔ میں یہ سمجھا کہ سب لوگوں کو (مدینہ والوںکو بھی اور باہر والوںکو بھی) اس بیعت کے لیے بلایا جارہا ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اسے ہجرت پر بیعت فرمالیں۔ آپ نے فرمایا: یہ کون ہے ؟ میں نے کہا:یہ میرے چچازاد بھائی حَوْط بن یزیدیا یزید بن حَوْط ہیں۔ آپ نے فرمایا:میںتم (انصارِ مدینہ)کو (ہجرت پر) بیعت نہیں کرتا ہوں۔ لوگ تمہارے پاس ہجرت کرکے آتے ہیں تم کو لوگوں کے پاس ہجرت کرکے نہیں جانا ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! جو بھی مرتے دم تک اَنصار سے محبت کرے گا وہ اللہ کا محبوب بن کر مرے گا،اور جو مرتے دم تک اَنصار سے بغض رکھے گاوہ اللہ کا مبغوض بن کر مرے گا۔ 1
حضرت ابو اُسید ساعدی ؓ فرماتے ہیں کہ خندق کی کھدائی کے موقع پر لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں آکر ہجرت پر بیعت ہو رہے تھے۔ جب آپ (بیعت سے) فارغ ہوگئے تو فرمایا: اے جماعتِ اَنصار! تم ہجرت پر بیعت نہ ہو، کیوں کہ لوگ ہجرت کرکے تمہارے پاس آتے ہیں۔ جو اَنصار سے محبت کرتے ہوئے مرے گا وہ اللہ کا محبوب بن کر اللہ کے سامنے حاضرہوگا، اور جو اَنصار سے بغض رکھتے ہوئے مرے گا وہ اللہ کا مبغوض بن کر اللہ کے سامنے حاضر ہوگا۔2