صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

صحابۂ کرام ؓ کے لیے دریائوں اور سمندروں کا مسخر ہونا

حضرت قیس بن حجاج اپنے استاد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر و بن عاصؓنے جب مصر فتح کرلیا تو عجمی مہینوں میں سے بُونہ مہینے کے شروع ہونے پر مصر والے اُن کے پاس آئے اور کہا: امیر صاحب! ہمارے اس دریائے نیل کی ایک عادت ہے جس کے بغیر یہ چلتا نہیں۔ حضرت عمرو نے ان سے پوچھا: وہ عادت کیا ہے؟ انھوں نے کہا:جب اس مہینے کی بارہ راتیں گزر جاتی ہیں تو ہم ایسی کنواری لڑکی کو تلاش کرتے ہیں جواپنے والدین کی اکلوتی لڑکی ہوتی ہے۔ اس کے والدین کو راضی کرتے ہیں، اور اسے سب سے اچھے کپڑے اور زیور پہنا کر اس دریائے نیل میں ڈال دیتے ہیں۔ حضرت عمروؓ نے کہا: یہ کام اسلام میں تو ہو نہیں سکتا، کیوںکہ اسلام اپنے سے پہلے کے تمام (غلط) طریقے ختم کردیتا ہے۔ چناںچہ مصروالے بُونہ، اَبیب اور مِسری تین مہینے ٹھہرے رہے، اور آہستہ آہستہ دریائے نیل کا پانی بالکل ختم ہوگیا۔ یہ دیکھ کر مصروالوں نے مصر چھوڑ کر کہیں اور چلے جانے کا ارادہ کرلیا۔ جب حضرت عمروؓنے دیکھا تو انھوں نے اس بارے میں حضرت عمر بن خطّابؓکو خط لکھا۔ حضرت عمرؓنے جواب میں لکھا: آپ نے بالکل ٹھیک کیا، بے شک اسلام اپنے سے پہلے کے تمام غلط طریقے ختم کردیتا ہے۔ میں آپ کو ایک پر چہ بھیج رہا ہوں، جب آپ کو میرا خط ملے تو آپ میرا وہ پرچہ دریائے نیل میں ڈال دیں۔ جب خط حضرت عمروؓکے پاس پہنچا تو انھوں نے وہ پرچہ کھولا، اس میں یہ لکھاہواتھا: اللہ کے بندے امیرالمؤمنین عمر کی طرف سے مصر کے دریائے نیل کے نام۔ امابعد! اگر تم اپنے پاس سے چلتے ہو تو مت چلو، اور اگر تمھیں اللہ واحد قہار چلاتے ہیں تو ہم اللہ واحد قہار سے سوال کرتے ہیں کہ وہ تجھے چلادے۔ چناںچہ حضرت عمروؓنے صلیب کے دن سے ایک دن پہلے یہ پرچہ دریائے نیل میں ڈالا۔ ادھر مصروالے مصر سے جانے کی تیاری کرچکے تھے، کیوںکہ ان کی ساری معیشت اور زراعت کا اِنحصار دریائے نیل کے پانی پر تھا۔ صلیب کے دن صبح لوگوں نے دیکھا کہ دریائے نیل میں سولہ ہاتھ پانی چل رہاہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے مصروالوں کی اس بری رسم کو ختم کردیا (اس دن سے لے کر آج تک دریائے نیل مسلسل چل رہاہے)۔ 1 قبیلۂ بنو سعد کے غلام حضرت عروہ اَعمیٰ کہتے ہیں: حضرت ابو ریحانہؓایک مرتبہ سمندر کا سفر کررہے تھے۔ وہ اپنی کچھ کاپیاں سی رہے تھے اچانک ان کی سوئی سمندر میں گرگئی۔ انھوں نے اسی وقت یوں دعامانگی: اے میرے ربّ! میں تجھے قسم دیتاہوں کہ تو میری سوئی ضرور واپس کردے۔ چناںچہ اسی وقت وہ سوئی (سطح سمندر) پر ظاہر ہوئی اور حضرت ابو ریحانہ نے وہ سوئی پکڑلی۔ 2 حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: جب نبی کریمﷺ نے حضرت علاء بن الحضرمیؓ کو بحرین کی طرف بھیجاتو میں بھی ان کے پیچھے ہولیا۔ میں نے ان کی تین باتیں دیکھیں، مجھے یہ پتا نہیں کہ ان میں سے سب سے زیادہ عجیب بات کون سی ہے۔ ایک بات تو یہ ہے کہ جب ہم سمندر کے کنارے پر پہنچے تو انھوں نے کہا:بسم اللہ پڑھ کر سمندر میں گھس جائو۔ چناںچہ ہم بسم اللہ پڑھ کر (بغیر کشتیوں کے) سمندر میں گھس گئے اور ہم نے (اپنے جانوروں پر سوار ہوکر) سمندر پار کرلیا اور ہمارے اونٹوں کے پائوں بھی گیلے نہیں ہوئے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہاں سے جب ہم واپس آرہے تھے تو ایک وسیع بیابان میں ہماراگزر ہوا۔ ہمارے پاس پانی بالکل نہیں تھا، ہم نے ان سے شکایت کی۔ انھوں نے دو رکعت نماز پڑھ کر دعامانگی تو ایک دَم آسمان پر ڈھال کی طرح کا بادل آیا اور وہ خوب برسا اور اس نے اپنے سارے دہانے کھول دیے۔ ہم نے خود بھی پانی پیا اور اپنے جانوروں کو بھی پلایا۔ تیسری بات یہ ہے کہ ان کا انتقال ہوگیا، ہم نے ان کو رَیت میں دفن کردیا۔ ابھی ہم وہاں سے تھوڑا سا آگے گئے تھے کہ ہمیں خیال آیا کہ اس علاقہ کی زمین پکی نہیں ہے ریتیلا علاقہ ہے، کوئی درندہ آکر ان کی قبر کھود کر انھیں کھاجائے گا۔ اس خیال سے ہم واپس آئے تو قبر تو ان کی صحیح سالم تھی، لیکن جب ہم نے ان کی قبر کھودی تو ہمیں ان کی نعش قبر میں نظر نہ آئی۔ 1 ابو نُعَیم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ جب (ہم سمندر پارکرکے جزیرہ میں پہنچ گئے اور) ہمیں کسریٰ کی طرف سے مقرر کردہ گورنر ابنِ مکعبر نے یوں جانوروں پر آتے دیکھا تو اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! نہیں، ہم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ پھر کشتی میں بیٹھ کر ایران چلاگیا۔ 2 حضرت انسؓفرماتے ہیں: میں نے اس اُمّت میں تین باتیں پائی ہیں۔ پھر اس کے بعد لمبی حدیث ذکرکی ہے، اس میں یہ مضمون بھی ہے کہ پھر حضرت عمر بن خطاب ؓ نے ایک لشکر تیار کیا اور حضرت علاء بن حضرمیؓ کو ان کا امیر بنایا۔ میں بھی اس غزوہ میں گیا تھا۔ جب ہم غزوہ کی جگہ پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ دشمن کو ہمارا پتا چل گیا تھا اور وہ پانی کے تمام نشان مٹاکر وہاں سے جاچکاتھا۔ گرمی پڑرہی تھی اور پیاس کے مارے ہمارا اور ہمارے جانوروں کا براحال ہوگیاتھا، اور جمعہ کا دن تھا۔ جب سورج غروب ہونے لگا تو حضرت علاء نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر انھوں نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور ہمیں آسمان میں بادل کا کہیں نام ونشان نظر نہیں آرہاتھا۔ اللہ کی قسم! حضرت علاء نے ابھی ہاتھ نیچے نہیں کیے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہوا بھیج دی اور ایک بادل ظاہر کردیا، اور وہ بادل اتنے زور سے برسا کہ سارے نالے، تالاب اور وادیاں پانی سے بھر گئیں، اور ہم نے خود پانی پیا اور اپنے جانوروں کو بھی پلایا اور اپنے مشکیزوں اور برتنوںکو بھر لیا۔ پھر ہم اپنے دشمن کے پاس پہنچے، وہ لوگ اپنی جگہ چھوڑ کر خلیج پار کرکے سمندر میں ایک جزیرے میں جاچکے تھے۔ اس خلیج کے کنارے کھڑے ہو کر حضرت علاء ؓ نے ان الفاظ سے اللہ کو پکارا: یَا عَلِيُّ! یَا عَظِیْمُ! یَا حَلِیْمُ! یَا کَرِیْمُ! پھر ہم سے کہا: اللہ کا نام لے کر اس سمندر کو پار کرو۔ چناںچہ ہم وہ سمندر پار کرنے لگے، ہمارے جانوروں کے کھر بھی گیلے نہیں ہورہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم نے دشمن کو جالیا۔ ہم نے انھیں قتل بھی کیا اور گرفتار بھی کیا اور انھیں غلام بھی بنایا۔ اس کے بعد ہم پھر اسی خلیج کے کنارے پر آئے اور حضرت علاء نے اللہ کو پھر ان ہی ناموں سے پکارا اور ہم پھر اس خلیج کو اس طرح پار کرنے لگے کہ ہمارے جانوروں کے کھر گیلے نہیں ہورہے تھے۔ آگے اور حدیث بھی ذکر کی۔ 1 حضرت سہم بن مِنجاب کہتے ہیں: ہم حضرت علاء بن حضرمیؓکے ساتھ غزوہ میں گئے۔ پھر سارا واقعہ ذکرکیا اور دعا میں یہ الفاظ ذکرکیے: یَا عَلِیْمُ! یَا حَلِیْمُ! یَا عَلِيُّ! یَا عَظِیْمُ! ہم تیرے بندے ہیں ،اور تیرے راستہ میں اور تیرے دشمن سے لڑنے کے ارادے سے نکلے ہیں۔ ہمیں ایسی بارش عطاکر جس سے ہمارے پینے اور وضو کے پانی کا انتظام ہوجائے، اور جب ہم اسے چھوڑ کر جائیں تو ہمارے علاوہ اور کسی کا اس میں حصہ نہ ہو۔ اور سمندر کی دعا میں یہ الفاظ ہیں: اور ہمارے لیے اپنے دشمن تک پہنچنے کا راستہ بنادے۔2 ابونُعَیم کی روایت میں ہے کہ حضرت علاءؓہمیں لے کر سمندر میں گھس گئے۔ جب ہم اندر گئے تو پانی ہماری سواریوں کے نمدوں تک بھی نہیں پہنچا اور ہم دشمن تک پہنچ گئے۔ اور ابنِ جریر نے اپنی تاریخ میں اور ابنِ کثیر نے ’’البدایۃ‘‘ میں یہ قصہ یوں بیان کیا ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ نے حضرت علاء بن حضرمیؓکو بحرین کے مرتدین سے لڑنے کے لیے بھیجا۔ اور اس میں یہ قصہ بھی ذکرکیا کہ جن اونٹوں پر لشکر کا زادِ سفر اور خیمے اور پینے کا پانی لداہواتھا وہ سارے اونٹ سامان سمیت بھاگ گئے تھے اور پھر خود ہی سامان سمیت آگئے تھے۔ اور یہ قصہ بھی ذکرکیا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے پڑائو کی جگہ کے ساتھ ہی صاف شفاف خالص پانی کا حوض پیدا فرمادیا۔ اور یہ بھی ذکرکیا کہ ان حضرات نے مرتدین سے جنگ کی۔ 1 ابنِ کثیر نے یہ قصہ یوں ذکرکیا ہے کہ حضرت علاءؓنے مسلمانوں سے کہا: آئو (بحرین جزیرے کے علاقے) دارین چلتے ہیں تاکہ وہاں جاکر دشمن سے جنگ کریں۔ اس پر سارے مسلمان فوراً تیار ہوگئے۔ وہ ان مسلمانوں کو لے کر چل پڑے یہاں تک کہ ساحلِ سمندر پر پہنچ گئے۔ پہلے تو ان کا خیال ہوا کہ کشتیوں کے ذریعے دارین کا سفر کرلیں، لیکن پھر یہ سوچا کہ سفر کافی لمباہے، کشتیوں میں جاتے جاتے دیر لگ جائے گی، اتنے میں اللہ کے دشمن وہاں سے آگے چلے جائیں گے۔ اور پھر دعاپڑھتے ہوئے اپنے گھوڑے کو لے کر سمندر میں گھس گئے: یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ! یَا حَکِیْمُ! یَا کَرِیْمُ! یَا أَحَدُ! یَا صَمَدُ! یَا حَيُّ! یَا مُحْیِيْ! یَا قَیُّوْمُ! یَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِکْرَامِ! لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ یَا رَبَّنَا۔ اور لشکر کو بھی حکم دیا کہ وہ یہ دعا پڑھتے ہوئے سمندر میں گھس جائیں۔ چناںچہ انھوں نے بھی ایساکیا اور اس طرح اللہ کے حکم سے ان سب کو لے کر حضرت علاء ؓخلیج کو پار کر گئے۔ وہ سمندر میں نرم ریت جیسی جگہ پر چل رہے تھے جس پر اتنا کم پانی تھا کہ اونٹوں کے پائوں بھی نہیں ڈوبتے تھے اور وہ پانی گھوڑوں کے گھٹنوں تک بھی نہیں پہنچ رہاتھا۔ یہ سفر کشتی میں ایک رات ایک دن میں طے ہوتا تھا، لیکن حضرت علاءؓ نے سمندر پار کیا اور جزیرہ کے ساحل پر پہنچ گئے۔ وہاں جا کر دشمن سے جنگ کی اور ان پر غلبہ حاصل کیا اور ان کا مالِ غنیمت سمیٹا اور پھر اپنی پہلی جگہ واپس بھی آگئے اور یہ سارے کام صرف ایک دن میں ہوگئے۔ 1 حضرت ابنِ رفیل کہتے ہیں: بَہُرسِیر قریب والا شہر تھا اور دریائے دِجلہ کے پار دور والا شہر تھا۔ جب حضرت سعدؓنے بَہُرسِیر کو فتح کرکے اس میں پڑائو ڈال لیا تو انھوں نے کشتیاں تلاش کیں تاکہ لوگ دریائے دِجلہ پارکرکے دور والے شہر جاسکیں اور اسے فتح کر سکیں، لیکن انھیں کوئی کشتی نہ مل سکی، کیوںکہ ایرانی لوگ تمام کشتیاں سمیٹ کر وہاں سے لے جاچکے تھے۔ چناںچہ مسلمان صفر مہینے کے کئی دن بَہُرسِیر میں ٹھہرے رہے اور حضرت سعد ؓ کے سامنے اس بات کا اظہار کرتے رہے کہ (کشتیوں کے بغیر ہی) دریا پارکرلیاجائے، لیکن شفقت کی وجہ سے وہ مسلمانوں کو ایسا کرنے نہیں دیتے تھے۔ پھر وہاں کے کچھ عجمی کافروں نے آکر انھیں دریا پار کرنے کے لیے وہ گھاٹ بتا دیا جو وادی کی سخت جگہ پہنچا دیتا تھا، لیکن حضرت سعد تردّدمیں پڑگئے اور اس گھاٹ میں سے جانے سے انکار کردیا۔ اتنے میں دریاکا پانی چڑھ گیا۔ پھر حضرت سعد ؓ نے خواب دیکھا کہ دریامیں پانی بہت زیادہ چڑھا ہوا ہے، لیکن مسلمانوں کے گھوڑے دریامیں گھسے ہیں اور پار ہوگئے ہیں۔ اس خواب کو دیکھ کر انھوں نے دریاپار کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا، اور لوگوں کو جمع کرکے بیان کیا اور اللہ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا: تمہارا دشمن اس دریاکی وجہ سے تم سے محفوظ ہوگیاہے۔ تم لوگ تو ان تک نہیں پہنچ سکتے، لیکن وہ لوگ جب چاہیں کشتیوں میں بیٹھ کرتم پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ تمہارے پیچھے ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس سے تم پر حملہ کا خطرہ ہو۔ میں نے پکارا رادہ کرلیا ہے کہ دریا پار کرکے دشمن پر حملہ کیاجائے۔ تمام مسلمانوںنے بہ یک زبان کہا: آپ ضرور ایسا کریں، اللہ ہمیں اور آپ کو ہدایت پر پکا رکھے۔ پھر حضرت سعد ؓ نے لوگوں کو دریا پارکرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: آپ لوگوں میں سے کون اس بات کے لیے تیار ہے کہ پہل کرے اور دریاپارکرکے گھاٹ کے دوسرے کنارے پر قبضہ کرلے اور اس کنارے کی دشمن سے حفاظت کرے، تاکہ دشمن مسلمانوں کو اس کنارے تک پہنچنے سے روک نہ سکے۔ اس پر حضرت عاصم بن عمرو ؓ فورًا تیارہوگئے، اور ان کے بعد اور چھ سو بہادر آدمی تیار ہوگئے۔ حضرت سعد نے حضرت عاصم کو ان کا امیر بنایا۔ حضرت عاصم ان کولے کر چلے، پھر دِجلہ کے کنارے کھڑے ہوکر اپنے ساتھیوںسے کہا: آپ میں سے کون میرے ساتھ چلنے کو تیار ہے تاکہ ہم گھاٹ کے پرلے کنارے کو دشمن سے محفوظ کرلیں؟ اس پر ان میں سے ساٹھ آدمی تیار ہوگئے۔ حضرت عاصم نے ان کو دوحصوں میں تقسیم کیا، آدھے لوگوں کو گھوڑوں پر اور آدھے لوگوں کو گھوڑیوں پر بٹھایا تاکہ گھوڑوں کے لیے تیرنے میں آسانی رہے، پھر وہ لوگ دِجلہ میں داخل ہوگئے (اور دریاکو اللہ کی مدد سے پار کرلیا)۔ جب حضرت سعد نے دیکھا کہ حضرت عاصم نے گھاٹ کے پَرلے کنارے پر قبضہ کرکے محفوظ کرلیاہے تو انھوں نے تمام لوگوں کو دریامیں گھس جانے کا حکم دیا اور فرمایا: یہ دعاپڑھو: نَسْتَعِیْنُ بِاللّٰہِ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْہِ، وَحَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِيِّ الْعَظِیْمِ۔ اور لشکر کے اکثر لوگ ایک دوسرے کے پیچھے چلنے لگے، اور گہرے پانی پر بھی چلتے رہے حالاںکہ دریائے دِجلہ بہت جوش میں تھا اور بہت جھاگ پھینک رہاتھا اور ریت اور مٹی کی وجہ سے اس کا رنگ سیاہ ہو رہا تھا اور لوگوں کی دو دو کی جوڑیاں بنی ہوئی تھیں اور وہ دریاپار کرتے ہوئے آپس میں اس طرح باتیں کررہے تھے جس طرح زمین پر چلتے ہوئے کیا کرتے تھے۔ ایران والے یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے، کیوںکہ اس کا انھیں وہم وگمان بھی نہیں تھا۔ وہ لوگ گھبراکر ایسے جلدی میں بھاگے کہ اپنا اکثر مال وہاںہی چھوڑ گئے اور ۱۶ ہجری صفر کے مہینہ میں مسلمان اس شہر میں داخل ہوئے، اور کسریٰ کے خزانوں میں جو تین ارب تھے ان پر بھی مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا، اور شیرویہ اور اس کے بعد کے بادشاہوں نے جو کچھ جمع کیا تھا اس پر بھی قبضہ ہوگیا۔ 1 حضر ت ابو بکر بن حفص بن عمر کہتے ہیں: گھوڑے مسلمانوں کو لے کر پانی پر تیر رہے تھے۔ حضرت سعد ؓکے ساتھ حضرت سلمان ؓ چل رہے تھے اور سعد کہہ رہے تھے: اللہ ہمیں کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ اللہ کی قسم! اگر ہمارے لشکر میں بدکاری اور گناہ اتنے نہیں ہیں جو نیکیوں پر غالب آجائیں تو اللہ ضرور اپنے دوست کی مدد کریں گے اور اپنے دین کو غالب کریں گے اور اپنے دشمن کو شکست دیں گے۔ حضرت سلمان نے ان سے کہا: اسلام ابھی نیاہے، اور اللہ کی قسم! مسلمانوں کے لیے آج سمندر اور دریا ایسے مسخر کردیے گئے ہیں جیسے ان کے لیے خشکی مسخر تھی۔ غور سے سنیں! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں سلمان کی جان ہے! مسلمان جیسے دریا میں فوج درفوج داخل ہوئے ہیں ایسے ہی اس سے فوج در فوج نکل بھی ضرور جائیں گے۔ چناںچہ مسلمان دریا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک ایسے چھاگئے کہ پانی کسی جگہ بھی نظر نہیں آرہاتھا اور خشکی پر چلتے ہوئے وہ جتنی باتیں آپس میں کرتے تھے اب اس سے زیادہ کر رہے تھے اور جیسے حضرت سلمان ؓ نے کہا تھا مسلمان آخر دریاسے باہرنکل گئے، نہ ان کی کوئی چیز گم ہوئی اور نہ ان میں سے کوئی ڈوبا۔ 1 حضرت ابوعثمان نَہدی ؓ فرماتے ہیں: سارے مسلمان صحیح سالم پار ہوگئے۔ البتہ بارق چشمے کارہنے والا ایک آدمی جسے غرقدہ کہا جاتاتھا وہ اپنی سرخ گھوڑی کی پشت پر سے نیچے گرگیا اور وہ منظر اب تک میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ اس کی گھوڑی اپنی گردن کے بالوں سے پسینہ جھاڑ رہی تھی، گرنے والے صاحب پانی کے اوپر ہی تھے۔ حضرت قعقاع بن عمرو ؓ نے اپنے گھوڑے کی لگام ان کی طرف موڑی اور اپنے ہاتھ سے انھیں پکڑکر کھینچتے رہے، یہاں تک کہ وہ بھی دریاکے پار ہوگئے۔ اور لشکر میں سے کسی کی بھی کوئی چیز پانی میں نہیں گری، صرف ایک پیالہ گراتھا جو ایک پرانی رسی سے بندھا ہوا تھا، وہ رسی ٹوٹ گئی اس لیے پیالہ گرگیا اور پانی اسے بہاکرلے گیا۔ پیالے والے کے جوڑی دار نے عاردلاتے ہوئے اس سے کہا: تمہارے پیالے کو تقدیر کا ایسا تیر لگا کہ وہ پانی میں گرگیا۔ پیالے والے نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! مجھے اس بات کا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ پورے لشکر میں سے صرف میراپیالہ ہرگز نہیں لیں گے۔ چناںچہ دریا کی موجوں نے وہ پیالہ ساحل پر پھینک دیا اور گھاٹ کے پرلے کنارے کے پہرہ دینے والوں میں سے ایک آدمی کی نگاہ اس پیالے پر پڑی، اس نے اپنے نیزے سے اسے اٹھالیا اور جب سارا لشکر دریاپارکرگیا تو وہ پیالہ لے کر لشکر میں آگیا اور پیالے کے مالک کو تلاش کرنے لگا۔ آخر وہ مالک مل گیا اور اس نے اپنا پیالہ لے لیا۔ 1 حضرت عمیر صائدی کہتے ہیں: جب حضرت سعد ؓ لوگوں کو لے کر دِجلہ میں داخل ہونے لگے تو سب لوگوںنے جوڑیاں بنالیں۔ حضرت سلمان ؓ حضرت سعد کے جوڑی دار تھے اور پانی پر ان کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ حضرت سعد ؓ نے یہ آیت پڑھی: {ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ آیت کا نشان}2 یہ اندازہ باندھا ہواہے اس (خدا) کا جوزبردست، علم والاہے۔ دریامیں پانی بہت چڑھاہواتھا اور گھوڑا کچھ دیر سیدھاکھڑا رہتا، جب تھک جاتا تو دریامیں ایک ٹیلہ ظاہر ہوجاتا جس پر وہ زمین کی طرح کھڑے ہوکر آرام کرلیتا۔ مدائن شہر میں اس سے زیادہ عجیب منظر کبھی پیش نہیں آیاتھا، چوںکہ پانی کے بہت زیادہ ہونے کے باوجود جگہ جگہ ٹیلے ظاہر ہوئے تھے اس وجہ سے اس دن کو ٹیلوں کا دن کہاجاتاتھا۔ 3 ابو نُعَیم نے بھی حضرت عمیر صائدی سے اسی جیسی روایت نقل کی ہے، لیکن اس کی روایت میں مضمون اس طرح سے ہے کہ مدائن میں اس سے زیادہ عجیب واقعہ کبھی پیش نہیں آیا تھا اور چوںکہ جو بھی تھک جاتاتھا اس کے سامنے فوراً ایک ٹیلہ نمودار ہوجاتاتھا جس پر وہ آرام کرلیتا تھا، اس لیے اس دن کو ٹیلوں والادن کہاجاتاتھا۔4 حضرت قیس بن ابی حازم ؓ فرماتے ہیں: جب ہم دِجلہ میں داخل ہوئے تو وہ کناروں تک لبالب بھراہواتھا۔ جب ہم اس جگہ پہنچے جہاں پانی سب سے زیادہ تھا، وہاں گھوڑے سوار کچھ دیر کھڑارہا تو پانی اس کی پیٹی تک بھی نہ پہنچا۔ 5 حضرت حبیب بن صُہبان کہتے ہیں: مسلمانوں میں سے ایک آدمی جن کا نام حجر بن عدی تھا، انھوں نے کہا: کیا تمھیں پارکرکے دشمن تک جانے سے صرف پانی کا یہ قطرہ ہی روک رہاہے؟ پانی کے قطرے سے مراد وہ دریائے دِجلہ لے رہے تھے۔ حالاںکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے: {وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِِذْنِ اللّٰہِ کِتٰـبًا مُّؤَجَّلاً}1 اور کسی شخص کو موت آنا ممکن نہیں بدون حکم خدا تعالیٰ کے، اس طور سے کہ اس کی میعادمعین لکھی ہوئی رہتی ہے۔ پھر انھوں نے اپنا گھوڑا دریائے دِجلہ میں ڈال دیا۔ جب انھوں نے ڈالا تو تمام لوگوں نے اپنے گھوڑے ڈال دیے۔ جب دشمن نے انھیں یوں دریاپار کرتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے: یہ تو دیو ہیں دیو۔ اور پھر وہ سارے بھاگ گئے۔ 2 حضرت حبیب بن صُہبان ابومالک کہتے ہیں: جب مسلمان مدائن والے دن دریائے دِجلہ پارکررہے تھے تو دشمن انھیں دریاپار کرتے ہوا دیکھ کر فارسی میں کہنے لگا: یہ تو دیو ہیں۔ اور پھر آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے: اللہ کی قسم! تمھیں اب انسانوں سے نہیں بلکہ جنات سے لڑناہوگا۔ اس سے وہ مرعوب ہوگئے اور انھیں شکست ہوگئی۔ 3 حضرت اَعمش اپنے ایک ساتھی سے نقل کرتے ہیں کہ جب ہم دِجلہ کے پاس پہنچے تو وہ بہت چڑھاہواتھا اور عجمی لوگ دریاکے اس پار تھے۔ ایک مسلمان نے بسم اللہ پڑھ کر اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا اور وہ ڈوبا نہیں، بلکہ اس کا گھوڑا پانی کے اوپر چلنے لگا۔ یہ دیکھ کر باقی تمام لوگوں نے بھی بسم اللہ پڑھ کر اپنے گھوڑے دریامیں ڈال دیے اور وہ سب پانی کے اوپر چلنے لگے۔ جب عجمی لوگوں نے انھیں دیکھا تو کہنے لگے: یہ تو دیو ہیں، دیو ہیں۔ پھر ان کا جدھر منہ اُٹھا اُدھر بھاگ گئے۔ 4