صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
آگ کا صحابۂ کرام ؓ کی اطاعت کرنا
حضرت معاویہ بن حرمل کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ گیا تو حضرت تمیم داری ؓ مجھے اپنے ساتھ کھانے کے لیے لے گئے۔ میں نے کھانا تو خوب کھایا، لیکن مجھے بھوک بہت زیادہ تھی اس وجہ سے میرا پیٹ پوری طرح نہیں بھرا، کیوںکہ میں تین دن سے مسجد میں ٹھہرا ہواتھا اور کچھ نہیں کھایاتھا۔ ایک دن اچانک مدینہ کے پتھریلے میدان میں آگ ظاہر ہوئی۔ حضرت عمر ؓ نے آکر حضرت تمیم سے کہا: اُٹھو اور اس آگ کے بجھانے کا انتظام کرو۔ حضرت تمیم نے کہا: اے امیرالمؤمنین! میں کون ہوتا ہوں اور میری کیا حیثیت ہے؟ لیکن حضرت عمر اصرار فرماتے رہے جس پر وہ حضرت عمر کے ساتھ چل دیے۔ میں بھی ان دونوں حضرات کے پیچھے چل دیا۔ وہ دونوں حضرات آگ کے پاس گئے۔ وہاں جاکر حضرت تمیم اپنے ہاتھ سے آگ کو اس طرح دھکے دینے لگے یہاں تک کہ آگ گھاٹی میں اسی جگہ واپس داخل ہوگئی جہاں سے نکلی تھی۔ آگ کے پیچھے حضرت تمیم بھی اندر داخل ہوگئے اور حضرت عمر فرما رہے تھے: (یہ ایمانی منظر) نہ دیکھنے والا دیکھنے والے جیسا نہیں ہوسکتا۔ 1
حضرت معاویہ بن حُرمل کہتے ہیں: میں نے حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے امیرالمؤمنین! آپ کے لشکر کے قابوپانے سے پہلے ہی میں نے توبہ کرلی ہے۔ حضرت عمر نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں مُسَیلمہ کذ ّاب کا داماد معاویہ بن حرمل ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا: جائو اور جو مدینہ والوں میں سب سے بہترین آدمی ہے اس کے مہمان بن جائو۔ میں حضرت تمیم داری کا مہمان بن گیا۔ ایک دفعہ مدینہ کے پتھریلے میدان میں آگ نکل آئی۔ اس وقت ہم لوگ باتیں کررہے تھے۔ حضرت عمر نے آکر حضرت تمیم سے کہا: (چلو اور اس آگ کا انتظام کرو)۔ حضرت تمیم نے کہا: میری کیا حیثیت ہے؟ اور کیا آپ اس بات سے نہیں ڈرتے کہ میرے پوشیدہ عیوب آپ پر ظاہرہوں؟ اس طرح حضرت تمیم کسرِ نفسی کررہے تھے۔ (لیکن حضرت عمر نے اصرار فرمایاتو) حضرت تمیم کھڑے ہوئے اور آگ کو دھکے دیتے رہے یہاں تک کہ جس دروازے سے نکلی تھی اسی میں اسے واپس کردیا اور پھر خود بھی آگ کے پیچھے اس دروازے کے اندر چلے گئے، پھر باہر آگئے اور اس سب کے باوجود آگ انھیں کچھ نقصان نہ پہنچا سکی۔ 1
اور ابو نُعَیم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت تمیم ؓ سے فرمایا: ان ہی جیسے کاموں کے لیے ہم نے تمھیں چھپارکھاہے اے ابورقیہ! (یہ حضرت تمیم ؓ کی کنیت ہے)۔ 2