صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

جہاں سے روزی ملنے کا گمان نہ ہو وہاں سے روزی ملنا

حضرت سَلَمہ بن نُفَیل ؓ فرماتے ہیں: میں نے حضورﷺ سے پوچھا: کیا کبھی آپ کے لیے آسمان سے بھی کھانا اُتاراگیا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا اس میں سے کچھ بچا تھا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پوچھا: اس کا کیا ہوا؟ آپ نے فرمایا: اسے آسمان کی طرف اُٹھالیاگیا۔3 حضرت سَلَمہ بن نُفَیل سکونی ؓ نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے تھے۔ وہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ ہم لوگ حضورﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا کبھی آپ کے پاس آسمان سے کھانا آیاہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں دیگچی میں گرم گرم آیاتھا۔ اس آدمی نے پوچھا: کیا آپ کے کھانے کے بعد کچھ کھانا بچاتھا؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: پھر اس بچے ہوئے کھانے کا کیا ہوا تھا؟ حضور ﷺ نے فرمایا: اسے آسمان کی طرف اٹھالیا گیا تھا اور وہ چپکے چپکے مجھے یہ کہہ رہاتھا کہ میں آپ لوگوں میں تھوڑا عرصہ ہی رہوں گا اور آپ لوگ بھی میرے بعد تھوڑا عرصہ ہی رہو گے، بلکہ زندگی لمبی معلوم ہونے لگے گی اور تم لوگ کہوگے: ہم یہاں دنیا میں کب تک پڑے رہیں گے؟ پھر آپ لوگ مختلف جماعتیں بن کر آئوگے اور ایک دوسرے کو فناکروگے اور قیامت سے پہلے بہت زیادہ اَموات واقع ہوںگی اور اس کے بعد زلزلے کے سال ہوں گے۔1 ایک لمبی حدیث میں حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں: لوگوں نے حضورﷺ سے بھوک کی شکایت کی۔ حضورﷺ نے فرمایا: عن قریب اللہ تعالیٰ تمھیں کھلائیں گے۔ چناںچہ ہم لوگ سمندر کے کنارے پہنچے تو سمندر میں ایک زبردست موج آئی جس سے ایک بہت بڑی مچھلی باہر آگئی۔ ہم نے اس کا ایک ٹکڑا کاٹا اور آگ جلاکر کچھ گوشت بھونا اور باقی پکالیا اور خوب پیٹ بھرکرکھایا۔ وہ مچھلی اتنی بڑی تھی کہ میں اس کی آنکھ کے حلقہ کے اندر داخل ہوگیا اور میرے علاوہ فلاں اور فلاں پانچ آدمی داخل ہوگئے۔ اور وہ حلقہ اتنا بڑا تھا کہ ہم باہر کے کسی آدمی کو نظر نہیں آرہے تھے، پھر ہم اس میں سے باہر آئے۔ اس کے جسم میں بڑے بڑے کانٹے تھے۔ ہم نے ایک کانٹا لے کر کمان کی طرح کھڑا کیا اور قافلہ کے سب سے لمبے آدمی کو اور سب سے لمبے اونٹ کو اور سب سے اونچی کاٹھی کو منگوایا، اور اس کاٹھی کو اس اونٹ پر رکھ کر اس آدمی کو اس پربٹھایا۔ وہ آدمی اس کانٹے کے نیچے سے گزر گیا، لیکن اس کا سر اس کانٹے کو نہ لگا۔ 1 حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے تین سوصحابہ ؓ کا ایک لشکر ساحلِ سمندر کی طرف بھیجا اور حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓکو ان کا امیر بنایا۔ چناںچہ ہم مدینہ سے چلے راستہ میں توشہ ختم ہوگیا۔ حضرت ابوعبیدہؓنے حکم دیا کہ لشکر کے تمام توشے جمع کیے جائیں۔ چناںچہ تمام توشے جمع کیے گئے تو کھجور کے دو توشہ دان بن گئے۔ حضرت ابو عبیدہ ؓ ہمیں ان میں سے تھوڑا تھوڑا روز دیتے۔ پھر یہ توشے دان بھی ختم ہوگئے اور ہمیں روزانہ صرف ایک کھجور ملنے لگی۔ راوی نے حضرت جابرؓسے کہا: ایک کھجور سے کیا بنتا ہوگا؟ حضرت جابر ؓ نے فرمایا: اس ایک کھجور کا فائدہ ہمیں تب معلوم ہوا جب وہ بھی ملنی بندہوگئی۔ پھر ہم جب ساحل سمندر پر پہنچے تو وہاں چھوٹے پہاڑ جتنی اونچی ایک مچھلی ملی جس کے گوشت کو سارا لشکر اٹھارہ دن تک کھاتارہا (دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ ؓ ایک ماہ تک کھاتے رہے)۔ پھر حضرت ابوعبیدہؓکے فرمانے پر اس مچھلی کے دوکانٹے کھڑے کیے گئے اور ایک اونٹنی پر کجاوہ رکھاگیا، پھر وہ اونٹنی ان کانٹوں کے نیچے سے گزری اور اس کا سریا کو ہان کانٹوں کو نہ لگا۔2 حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے ہمیں تین سو سواروں کے لشکر میں بھیجا۔ ہمارے امیر حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓتھے۔ ہم قریش کے ایک تجارتی قافلہ کی گھات میں گئے تھے۔ اس سفر میں ہمیں سخت بھوک لگی اور کھانے کے تمام سامان ختم ہوگئے اور ہمیں درختوں کے گرے ہوئے پتے کھانے پڑے اور اس وجہ سے اس لشکر کا نام پتوں والالشکر پڑگیا۔ ایک آدمی نے لشکر کے لیے تین اونٹ ذبح کیے، پھر تین اونٹ ذبح کیے، پھر تین اونٹ ذبح کیے، پھر حضرت ابوعبیدہؓنے اس آدمی کو اور اونٹ ذبح کرنے سے منع کردیا۔ پھر سمندر کی تیز موج نے ایک بہت بڑی مچھلی کنارے پر لاڈالی جسے عنبر کہاجاتاہے۔ آدھے مہینہ تک ہم اس کا گوشت کھاتے رہے اور اس کی چربی کو جسم پر لگاتے رہے جس سے ہمارے جسموں کی کمزوری اور دبلاپن وغیرہ سب جاتارہا اور جسم پہلے کی طرح ٹھیک ٹھاک ہوگئے۔ اس کے بعد کانٹے کاقصہ ذکرکیا۔ 1 حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے ہمیں قریش کے ایک تجارتی قافلے پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا اور حضرت ابوعبیدہؓکو ہمارا امیر بنایا اور حضورﷺ نے کھجوروں کا ایک تھیلہ ہمیں زادِ سفر کے لیے دیا۔ دینے کے لیے آپ کو اس کے علاوہ اور کچھ نہ ملا۔ حضرت ابو عبیدہ ہمیں روزانہ ایک کھجور دیاکرتے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے حضرت جابر ؓ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ لوگ ایک کھجور کا کیا کرتے ہوں گے؟ حضرت جابر نے کہا:ہم بچے کی طرح اسے چوستے تھے، پھر اس کے بعد پانی پی لیتے اور ایک دن ایک رات اسی پر گزار لیتے۔ پھر ہم لاٹھی مار کر درختوں کے پتے جھاڑ لیتے اور انھیں پانی میں بھگو کرکھالیتے۔ ہم چلتے چلتے سمندر کے کنارے پر پہنچے تو ہمیں دور سے ایک بہت بڑے ٹیلے جیسی کوئی چیز نظر آئی۔ ہم نے وہاں پہنچ کر دیکھا تو وہ عنبر نامی بہت بڑی مچھلی تھی۔ پہلے تو حضرت ابوعبیدہ ؓ نے کہا: یہ مردار ہے اسے مت کھائو۔ پھر فرمایا: اچھا نہیں، ہم تو اللہ کے رسول ﷺ کے بھیجے ہوئے ہیں اور اللہ کے راستے میں ہیں اور تم لوگ حالت اِضطرار کو پہنچ چکے ہو (جس میں مردار حلال ہوجاتاہے) اس لیے اسے کھالو۔ ہم تین سو آدمی تھے، ایک مہینے تک اس کا گوشت کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے ہوگئے۔ اور اس کی آنکھ کے حلقہ میں سے بڑے بڑے مٹکے بھرکر چربی نکالتے تھے اور بیل جتنے بڑے اس کے گوشت کے ٹکڑے کاٹتے تھے۔ اور حضرت ابو عبیدہؓ نے اس کی آنکھ کے حلقہ میں چربی نکالنے کے لیے تیرہ آدمی داخل کیے تھے، اور اس کا ایک کانٹا لے کر اسے کھڑاکیا اور سب سے لمبے اونٹ پر کجاوہ کَس کر اس پر آدمی بٹھا کر اسے اس کانٹے کے نیچے سے گزارا تو وہ گزرگیا۔ اور اس کے گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑے ہم نے واپسی کے سفر میں اپنے ساتھ رکھ لیے۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو حضورﷺ کی خدمت میں حاضرہوکر ہم لوگوں نے مچھلی کا سارا واقعہ ذکرکیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ وہ روزی ہے جو اللہ نے اپنے غیبی خزانے سے تمھیں عطافرمائی ہے۔ ہمیں کھلانے کے لیے کیا اس مچھلی کا کچھ گوشت تم لوگوں کے پاس ہے؟ اس پر ہم نے حضور ﷺ کی خدمت میں کچھ گوشت بھیجا جسے آپ نے نوش فرمایا: (آپ نے یہ گوشت اس لیے کھایا کہ یہ گوشت برکت والاتھا اور تاکہ صحابہ ؓ کو یہ بھی معلوم ہوجائے کہ یہ مچھلی مردار نہیں تھی بلکہ حلال تھی، مچھلی کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں) 1 حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں: ایک آدمی اپنے گھر میں داخل ہوا۔ جب اس نے گھر میں فقروفاقہ کی حالت دیکھی تو وہ جنگل کی طرف چلاگیا۔ جب اس کی بیوی نے یہ دیکھا تو وہ اٹھی اور چکی کااوپر والاپاٹ نیچے والے پر رکھا اور پھر تندور میں آگ جلائی پھر دعا مانگی: اے اللہ! ہمیں روزی عطافرما۔ وہ عورت کیا دیکھتی ہے کہ بڑاپیالہ آٹے سے بھراہوا ہے اور پھر جاکر تندور کو دیکھا تو وہ روٹیوں سے بھراہواتھا۔ اتنے میں اس کا خاوند بھی واپس آگیا۔ اس نے پوچھا: کیا میرے بعد تمھیں کچھ ملا؟ اس کی بیوی نے کہا: ہاں، ہمارے ربّ کی طرف سے کچھ آیاہے۔ وہ مرد اُٹھا اور اس نے چکی کا اوپر والاپاٹ اُٹھالیا (پھر چکی کا چلنا بند ہوگیا)۔ کسی نے جاکر اس بات کا حضورﷺ سے ذکر کیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: غور سے سنو! اگر یہ چکی کا پاٹ نہ اٹھاتا تو یہ چکی قیامت تک چلتی رہتی۔ 2 دوسری روایت میں ہے کہ اس عورت نے یہ دعا مانگی: اے اللہ! ہمیں وہ چیز عطافرما جسے ہم پیسیں اور گوندھیں اور اس کی روٹی پکائیں۔ پھر اس نے دیکھا کہ بڑا پیالہ روٹیوں سے بھرا ہوا ہے اور چکی آٹا پیس رہی ہے اور تندور بھنی ہوئی چانپوں سے بھراہواہے۔ پھر اس کے خاوند نے آکر پوچھا: تمہارے پاس کچھ ہے؟ اس کی بیوی نے کہا: اللہ نے روزی عطافرمائی ہے۔ خاوند نے چکی کا پاٹ اٹھایا، چکی کے ارد گرد کی جگہ کو اچھی طرح صاف کیا۔ حضورﷺ کو جب معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: اگر یہ چکی کو اپنے حال پر رہنے دیتے تو چکی قیامت تک پیستی رہتی۔ 1 حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: ایک انصاری بہت ہی ضرورت مند اور غریب تھا۔ اس کے گھر والوں کے پاس کچھ نہیں تھا۔ وہ گھر سے باہر چلاگیا۔ اس کی بیوی نے اپنے دل میں کہا: اگر میں چکی چلائوں اور تندور میں کھجور کی ٹہنیاں دال کر آگ جلائوں تو میرے پڑوسی چکی کی آواز سنیں گے اور دھواں دیکھیں گے اس سے وہ یہ سمجھیں گے کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ ہے اور ہمارے ہاں فقروفاقہ نہیں ہے۔ اس نے اُٹھ کر تندور میں آگ جلائی اور بیٹھ کر چکی چلانے لگی۔ اتنے میں اس کا خاوند آگیا اور اس نے باہر سے چکی کی آواز سنی، پھر دروازہ کھٹکھٹایا۔ بیوی نے کھڑے ہو کر دروازہ کھولا۔ خاوند نے پوچھا: تم کیا پیس رہی ہو؟ بیوی نے ساری کارگزاری سنائی۔ وہ دونوں اندر گئے تو دیکھا کہ چکی خود بخود چل رہی ہے اور اس کے اندر سے آٹا نکل رہاہے۔ بیوی برتنوں میں آٹا بھر نے لگی تو گھر کے سارے برتن آٹے سے بھر گئے۔ پھر اس نے باہر جاکر تندور کو دیکھا تو وہ روٹیوں سے بھرا ہوا تھا۔ خاوند نے جاکر حضور ﷺ کو سارا واقعہ سنایا۔ حضورﷺ نے پوچھا: پھر چکی کا کیاہوا؟ خاوند نے کہا: میں نے اسے اٹھا کر جھاڑدیاتھا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اگر تم چکی کو اس کے حال پر رہنے دیتے تو وہ میری زندگی تک یوں ہی چلتی رہتی۔ یا فرمایا: تمہاری زندگی تک یوںہی چلتی رہتی۔ 2 حضرت ابوبکر ؓ فرماتے ہیں: میں حضورﷺ کے ساتھ مکہ سے چلا۔چلتے چلتے ہم عرب کے ایک قبیلہ کے پاس پہنچے۔ قبیلہ کے کنارے کے ایک گھر پر حضورﷺ کی نگاہ پڑی۔ حضور ﷺ وہاں تشریف لے گئے۔ جب ہم وہاں پہنچ کر سواریوں سے نیچے اُترے تو وہاں صرف ایک عورت تھی۔ اس عورت نے کہا: اے اللہ کے بندے! میں عورت ذات ہوں، میرے ساتھ اور کوئی نہیں ہے اکیلی ہوں، آپ لوگ مہمان بننا چاہتے ہیں تو قبیلہ کے سردار کے پاس چلے جائیں۔ حضورﷺ نے اس کی یہ بات قبول نہ فرمائی بلکہ وہیں ٹھہر گئے۔ شام کا وقت تھا تھوڑی دیر میں اس عورت کا بیٹا اپنی بکریاں ہانکتاہوا آیا۔ اس عورت نے بیٹے سے کہا: اے بیٹے! یہ بکری اور چھری ان دوآدمیوں کے پاس لے جائو، اور ان سے کہو: میری والدہ کہہ رہی ہیں: یہ بکری ذبح کر کے آپ دونوں خود بھی کھائیں اور ہمیں بھی کھلائیں۔ جب وہ لڑکا آیا تو حضورﷺ نے اس سے فرمایا: چھری لے جائو اور (دودھ نکالنے کے لیے) پیالہ لے آئو۔ اس لڑکے نے کہا: یہ بکری تو چراگاہ سے دور رہی تھی اور اس کا دودھ بھی نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: نہیں، تم جائو۔ وہ جاکر پیالہ لے آیا۔ حضورﷺ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیر کر دودھ نکالنا شروع کیا تو اتنا دودھ نکلا کہ ساراپیالہ بھر گیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: جاکر اپنی والدہ کو دے آئو۔ چناںچہ اس کی ماں نے خوب سیرہوکر دودھ پیا۔ وہ پیالہ لے آیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: یہ بکری لے جا اور دوسری بکری لے آ۔ وہ دوسری بکری لے آیا۔ حضورﷺ نے اس کا دودھ نکال کر مجھے پلایا۔ پھر وہ لڑکا تیسری بکر ی لے آیا، اس کا دودھ نکال کر حضورﷺ نے خود پیا۔ پھر وہ رات ہم نے وہاں گزاری اور صبح وہاں سے آگے چلے۔ اس عورت نے آپ کا نام مبارک رکھ دیاتھا۔ پھر اللہ نے اس کی بکریوں میں خوب برکت ڈالی اور وہ بیچنے کے لیے بکریوں کا ریوڑ لے کر مدینہ آئی۔ میرا وہاں سے گزرہواتو اس عورت کے بیٹے نے دیکھ کر مجھے پہچان لیا اور کہنے لگا: اے اماں جان! یہ آدمی وہی ہے جو اس مبارک ہستی کے ساتھ تھا۔ وہ عورت کھڑی ہو کر میرے پاس آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے بندے! وہ مبارک آدمی جو تمہارے ساتھ تھا وہ کون تھا؟ میں نے کہا: اچھا! تمھیں معلوم نہیں کہ وہ کون ہیں؟ اس عورت نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: وہ تو نبی کریم ﷺ ہیں۔ اس نے کہا: مجھے اس کے پاس لے چلو۔ چناںچہ میں اسے حضور ﷺ کی خدمت میں لے گیا۔ حضورﷺ نے انھیں کھانا کھلایا، درہم ودینار دیے، اور ہدیہ میں اسے پنیر اور دیہاتیوں والا سامان دیا، پہننے کے کپڑے بھی دیے اور وہ مسلمان بھی ہوگئی۔ 1 حضرت ابنِ مسعودؓ فرماتے ہیں: میں عُقبہ بن ابی مُعَیط کی بکریاں چراتا تھا۔ حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ میرے پاس سے گزرے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے لڑکے! کیا دودھ ہے؟ میں نے کہا: ہے، لیکن یہ بکریاں اور ان کا دودھ میرے پاس بطورِ امانت ہے، اور میں امانت دار ہوں (مالک کی اجازت کے بغیر دودھ نہیں دے سکتا)۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا ایسی کوئی بکری ہے جو اب تک بیاہی نہ گئی ہو؟ (وہ لے آئو) میں ایسی بکری حضور ﷺ کی خدمت میں لے آیا۔ حضورﷺ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیر ا تو اس کے تھن میں دودھ اُتر آیا۔ حضور ﷺ نے ایک برتن میں اس کا دودھ نکالا،خود پیا اور حضرت ابوبکر ؓ کو پلایا۔ پھر آپ نے تھن کو فرمایا: سکڑ جا! تو وہ سکڑ گیا۔ حضرت ابنِ مسعودؓفرماتے ہیں: میں اس کے بعد حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بھی یہ کلام سکھادیں۔ آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا: اللہ تجھ پر رحم فرمائے! تُو تو سیکھا سکھایا ہے۔ 1 بیہقی میں اس جیسی روایت میں یہ ہے کہ میں حضورﷺ کی خدمت میں بکری کا ایک بچہ لایا جس کی عمر ایک سال سے کم تھی۔ آپ نے اس کی ٹانگ کو اپنی ٹانگ سے دبایا، پھر آپ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا اور دعا فرمائی۔ حضرت ابوبکرؓآپ کے پاس ایک پیالہ لائے۔ آپ نے اس میں دودھ نکالا،پھر حضرت ابوبکرؓکو وہ دودھ پلایا، اس کے بعد آپ نے خود پیا۔ 2 حضرت خبَّاب ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا، اس سفر میں ہمیں بہت سخت پیاس لگی اور ہمارے پاس پانی بالکل نہیں تھا۔ اتنے میں ہمارے ایک ساتھی کی اونٹنی بیٹھ گئی اور اس کے تھن دودھ سے اتنے بھر گئے کہ مشکیزہ کی طرح نظر آنے لگے، پھر ہم نے اس کا دودھ خوب پیا۔ 3 حُجَیر بن ابی اِہاب کی باندی حضرت ماویّہ ؓ جو کہ بعد میں مسلمان ہوگئی تھیں، وہ فرماتی ہیں: حضرت خُبیبؓکو میرے گھر میں قید کیا گیا تھا۔ ایک دفعہ میں نے دروازے کی درز سے جھانکا تو اُن کے ہاتھ میں انسان کے سرکے برابر انگور کا ایک خوشہ تھا جس میں سے وہ کھارہے تھے،۔میرے علم میں اس وقت روئے زمین پر کہیں بھی کھانے کے لیے انگور نہیں تھے۔1 حضرت سالم بن ابی الجعدؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے اپنے کسی کام کے لیے دو آدمی بھیجے۔ ان دونوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس زادِ راہ بالکل نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ایک مشک ڈھونڈ کر میرے پاس لائو۔ وہ دونوں حضور ﷺ کی خدمت میں ایک مشک لے آئے۔ حضورﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ اسے (پانی سے) بھردو۔ ہم نے اسے پانی سے بھردیا۔ پھر حضورﷺ نے اس کے منہ کو رسی سے باندھ دیا اور فرمایا: اسے لے جائو۔ جب تم چلتے چلتے فلاں جگہ پہنچو گے تو وہاں تمھیں اللہ غیب سے روزی دیں گے۔ چناںچہ وہ دونوں چل پڑے اور جب چلتے چلتے دونوں حضورﷺ کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچے تو مشک کا منہ خود بخود کھل گیا، انھوں نے دیکھا تو مشک (پانی کے بجائے) بکری کے دودھ اور مکھن سے بھری ہوئی تھی۔ انھوں نے پیٹ بھر کر مکھن کھایا اور دودھ پیا۔ 2