صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
ایسی جگہ سے مال کا مل جانا جہاں سے ملنے کا گمان نہ ہو
حضرت مِقداد ؓ کی بیوی حضرت ضُباعہ بنت زبیرؓ فرماتی ہیں: لوگ دو یا تین دن کے بعد قضائے حاجت کے لیے جاتے تھے (کیوںکہ کھانے کو ملتا نہیں تھا اور جوکھانے کو ملتا تھا وہ ایسا خشک ہوتا تھا کہ) اونٹ کی طرح مینگنی کیا کرتے تھے۔ ایک دن حضرت مقداد ؓ قضائے حاجت کے لیے گئے۔ بقیع الغرقد میں ججبہ مقام میں ایک بے آباد جگہ قضائے حاجت کے لیے بیٹھ گئے۔ اتنے میں ایک بڑا سا چوہا ایک دینار اپنے بل میں سے باہر لایا اور ان کے سامنے رکھ کر اپنے بل میں چلاگیا اور ایک ایک دینار لاتا رہا یہاں تک کہ سترہ دینار ہوگئے۔ حضرت مِقداد ؓ وہ سترہ دینار لے کر حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ عرض کیا۔ حضورﷺ نے پوچھا:کیا تم نے اپنا ہاتھ بل میں داخل کیاتھا؟ حضرت مقداد ؓ نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا! حضورﷺ نے فرمایا: (چوںکہ یہ دینار تم نے اپنی محنت سے حاصل نہیں کیے ہیں بلکہ اللہ نے اپنی قدرت سے غیبی خزانے سے دیے ہیں، اس لیے) ان دیناروں میں خمس دینا تم پر لازم نہیں آتا۔ اللہ تمھیں ان دیناروں میں برکت عطافرمائے۔ حضرت ضباعہ کہتی ہیں: اللہ نے ان دیناروں میں بہت برکت عطا فرمائی اور وہ اس وقت ختم ہوئے جب میں نے حضرت مِقدادؓکے گھر میں چاندی کے درہموں کی بوریاں دیکھیں۔ 1
حضرت سائب بن اَقرعؓ کو حضرت عمر ؓ نے مدائن کا گورنر بنایا۔ ایک مرتبہ وہ کِسریٰ کے ایوان میں بیٹھے ہوئے تھے، ان کی نظر دیوار پر بنی ہوئی ایک تصویر پر پڑی جو اپنی انگلی سے ایک جگہ کی طرف اشارہ کررہی تھی۔ حضرت سائب ؓ فرماتے ہیں: میرے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ کسی خزانے کی طرف اشارہ کررہی ہے۔ چناںچہ میں نے اس جگہ کو کھودا تو بہت بڑا خزانہ وہاں سے نکل آیا۔ میں نے خط لکھ کر حضرت عمر ؓ کو خزانہ ملنے کی خبر دی اور یہ بھی لکھا کہ یہ خزانہ اللہ نے میری محنت سے مجھے دیا ہے، اس میں کسی مسلمان نے میری مدد نہیں کی ہے (لہٰذا یہ خزانہ میرا ہونا چاہیے)۔ حضرت عمرؓنے جواب میں لکھا: بے شک یہ خزانہ ہے تو تمہارا، لیکن تم ہو مسلمانوں کے امیر، اس لیے اسے مسلمانوں میں تقسیم کردو۔1
حضرت شعبی کہتے ہیں: مہرجان کی فتح میں حضرت سائبؓشریک ہوئے تھے۔ وہ ہُرمُزان کے محل میں داخل ہوئے تو انھیں پتھر اور چونے کی ہرنی نظر آئی جس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ہواتھا۔ وہ کہنے لگے: میں اللہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ یہ کسی قیمتی خزانے کی طرف اشارہ کررہی ہے۔ انھوں نے اس جگہ کو دیکھا تو انھیں وہاں ہُرمُزان کا خزانہ مل گیا جس میں بہت قیمتی جواہرات والی تھیلی بھی تھی۔ 2
حضرت عبدالرحمن بن یزید بن جابر کہتے ہیں: حضرت ابو اُمامہؓکی ایک باندی (جوکہ پہلے عیسائی تھیں انھوں) نے مجھے یہ واقعہ بیان کیا کہ حضرت ابو اُمامہؓکو دوسروں پر خرچ کرنا بہت پسند تھا، اور وہ اس کے لیے مال جمع کیاکرتے تھے اور کسی سائل کو خالی ہاتھ واپس نہیں کرتے تھے، اور کچھ نہ ہوتا تو ایک پیاز یا ایک کھجور یا کھانے کی کوئی چیز ہی دے دیتے۔ ایک دن ایک سائل ان کے پاس آیا اس وقت ان کے پاس ان میں سے کوئی چیز نہیں تھی، صرف تین دینار تھے۔ اس سائل نے مانگا تو ایک دینار اسے دے دیا۔ پھر دوسرا آیا تو ایک دینار اسے دے دیا۔ پھر تیسرا آیا تو ایک اسے دے دیا۔ جب تینوں دے دیے تو مجھے غصہ آگیا۔ میں نے کہا: آپ نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑا۔ پھر وہ دوپہر کو آرام کرنے لیٹ گئے۔ جب ظہر کی اذان ہوئی تو میں نے انھیں اُٹھایا۔ وہ وضوکرکے اپنی مسجد چلے گئے چوںکہ ان کا روزہ تھا اس لیے مجھے ان پرترس آگیا اور میرا غصہ اُتر گیا۔ پھر میں نے قرض لے کر ان کے لیے رات کا کھانا تیار کیا اور شام کو ان کے لیے چراغ بھی جلایا۔ پھر میں چراغ ٹھیک کرنے کے لیے ان کے بستر کے پاس گئی اور بستر اُٹھایا تو اس کے نیچے سونے کے دینار رکھے ہوئے تھے۔ میں نے انھیں گِناتو وہ پورے تین سو تھے۔ میں نے کہا: چوںکہ اتنے دینار رکھے ہوئے تھے اس وجہ سے انھوں نے تین دینار کی سخاوت کی ہے۔
پھر وہ عِشا کے بعد گھر واپس آئے تو دستر خوان اور چراغ دیکھ کر مسکرائے اور کہنے لگے: معلوم ہوتا ہے یہ سب کچھ اللہ کے ہاں سے آیاہے (کیوںکہ ان کا خیال یہ تھا کہ گھر میں کچھ بھی نہیں تھا، اس لیے نہ کھاناہوگا نہ چراغ)۔ میں نے کھڑے ہوکر انھیں کھانا کھلایا۔ پھر میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے! آپ اتنے سارے دینار یوں ہی چھوڑ گئے جہاں سے ان کے گم ہونے کا خطرہ تھا، مجھے بتایا بھی نہیں کہ اُٹھاکر رکھ لیتی۔ کہنے لگے: کون سے دینار؟ میں تو کچھ بھی نہیں چھوڑ کرگیا۔ پھر میں نے بستر اُٹھاکر انھیں وہ دینار دکھائے۔ دیکھ کر وہ خوش بھی ہوئے اور بہت حیران بھی ہوئے (کہ اللہ نے اپنے غیبی خزانے سے عطافرمائے ہیں)۔ یہ دیکھ کر میں بھی بہت متأثر ہوئی اور میں نے کھڑے ہوکر زنّار کاٹ ڈالا (زُنار اس دھاگے یا زنجیر کو کہتے ہیں جسے عیسائی کمر میں باندھتے تھے) اور مسلمان ہوگئی۔ حضرت ابنِ جابرؓ کہتے ہیں: میں نے اس باندی کو حِمص کی مسجد میں دیکھاکہ وہ عورتوں کو قرآن، فرائض اور سنتیں سکھارہی تھی اور دین کی باتیں سمجھارہی تھی۔ 1