صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
بھوک کے اثر کا چلے جانا
حضرت عمران بن حُصَین ؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں حضورﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں حضرت فاطمہؓ آئیں اور آکر حضورﷺ کے سامنے کھڑی ہوگئیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے فاطمہ! قریب آجاؤ۔ وہ قریب آگئیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے فاطمہ! اور قریب آجائو۔ وہ اور قریب آگئیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے فاطمہ! اور قریب ہو جائو۔ وہ بالکل قریب ہوکر سامنے کھڑی ہوگئیں۔ میں نے دیکھا کہ ان کے چہرے پر بھوک اور کمزوری کی وجہ سے زردی چھائی ہوئی ہے اور خون کا نام ونشان نہیں ہے (اس وقت تک عورتوں کے لیے پردہ کا حکم نہیں آیاتھا)۔ حضور ﷺ نے اپنی انگلیاں پھیلا کر ہاتھ ان کے سینے پر رکھا اور سر اٹھا کر یہ دعا کی: اے اللہ! اے بھوکوں کا پیٹ بھرنے والے! اے حاجتوں کو پورا کرنے والے! اور اے گرے پڑے لوگوں کو اونچا کرنے والے! محمد کی بیٹی فاطمہ کو بھوکا مت رکھ۔ میں نے دیکھا کہ حضرت فاطمہؓکے چہرے سے وہ زردی چلی گئی اور خون کی سرخی آگئی۔ پھر میں نے اس کے بعد حضرت فاطمہؓسے پوچھا، انھوں نے کہا: اے عمران! اس کے بعد مجھے کبھی بھوک نہیں لگی۔ 1