صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

بڑھاپے کے اثر کا چلے جانا

حضرت ابوزید انصاری ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: میرے قریب آجائو۔ آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور یہ دعافرمائی: اے اللہ! اسے خوب صورت بنادے اور پھر اس کی خوب صورتی ہمیشہ باقی رکھ۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ابوزید ؓ کی عمر سوسال سے زیادہ ہوگئی تھی اور ان کی ڈاڑھی میں تھوڑے سے سفید بال تھے اور ان کا چہرہ کِھلا رہتاتھا اور موت تک ان کے چہرے پر جھریاں نہیں پڑی تھیں۔ 2 امام احمد کی ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابونہیک کہتے ہیں: مجھ سے حضرت ابوزید ؓ نے بیان کیا کہ مجھ سے حضورﷺ نے پانی طلب فرمایا۔ میں ایک پیالے میں پانی لے کر حضورﷺ کی خدمت میں گیا۔ اس میں ایک بال تھا وہ میں نے پکڑ کر نکال دیا۔ اس پر حضورﷺ نے دعادی: اے اللہ! اسے خوب صورت بنادے۔ حضرت ابونہیک کہتے ہیں: میں نے حضرت ابو زید ؓ کو دیکھا کہ ان کی عمر چورانوے سال ہوچکی تھی اور ان کی ڈاڑھی میں ایک بھی سفید بال نہیں تھا۔ 1 ابونُعَیم کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابونہیک کہتے ہیں: میں نے انھیں دیکھا کہ ان کی عمر ترانوے سال ہوچکی تھی اور ان کے سر اور ڈاڑھی میں ایک بھی سفید بال نہیں تھا۔ حضرت ابوالعلاء کہتے ہیں: حضرت قتادہ بن مِلحان ؓ کا جس جگہ انتقال ہوا میں اس جگہ ان کے پاس تھا۔ گھر کے پچھلے حصے میں ایک آدمی گزرا اس کا عکس مجھے حضرت قتادہ کے چہرے میں نظر آیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک مرتبہ حضورﷺ نے ان کے چہرے پر ہاتھ پھیراتھا (اس کی برکت سے ہر وقت ایسے لگتا تھا کہ ان کے چہرے پر تیل لگا ہوا ہے)۔ اس سے پہلے جب بھی میں نے حضرت قتادہ ؓ کو دیکھاتو ایسے لگتاتھا کہ ان کے چہرے پر تیل لگاہواہے۔ 2 حضرت حَیَّان بن عمیر کہتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے حضرت قتادہ بن مِلحانؓ کے چہرے پر اپنا ہاتھ پھیرا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ جب وہ بہت بوڑھے ہوگئے تھے اور ان کے جسم کے ہر حصے پر بڑھاپے کے آثار ظاہر ہوگئے تھے تو چہرے پر کوئی اثر نہیں تھا۔ چناںچہ میں وفات کے وقت ان کے پاس تھا ان کے پاس سے ایک عورت گزری، تو مجھے اس عورت کا عکس ان کے چہرے میں اس طرح نظر آیا جیسے کہ شیشے میں نظر آتاہے۔ 3 حضرت نابغہ جَعْدی ؓ فرماتے ہیں: میں نے حضورﷺ کو یہ شعر سنایا جو حضورﷺ کو بہت پسند آیا : بَلَغْنَا السَّمَائَ مَجْدُنَا وَثَرَانَا وَإِنَّا لَنَرْجُوْ فَوْقَ ذٰلِکَ مَظْھَرَا ہماری بزرگی اور بلندی آسمان تک پہنچ گئی ہے، اور ہمیں اس سے بھی اوپر چڑھنے کا یقین ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے ابولیلیٰ! اور اوپر کہاں چڑھناہے؟ میں نے کہا: جنت میں۔ آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے اِن شاء اللہ، اور شعر پڑھو۔ پھر میں نے یہ شعر پڑھے: وَلَا خَیْرَ فِيْ حِلْمٍ إِذَا لَمْ یَکُنْ لَہٗ بَوَادِرُ تَحْمِيْ صَفْوَہُ أَنْ یُکَدَّرَا وَلَا خَیْرَ فِيْ جَھْلٍ إِذَا لَمْ یَکُنْ لَہٗ حَلِیْمٌ إِذَا مَا أَوْرَدَ الْأَمْرَ أَصْدَرَا بُردباری میں اس وقت تک خیر نہیں ہوسکتی جب تک کہ جلدی جلدی کیے جانے والے کچھ کام ایسے نہ ہوں جو بُردباری کو گدلاہونے سے بچائیں۔ اور سخت کلامی میں اس وقت تک خیر نہیں ہوسکتی جب تک کہ انسان بُردبارنہ ہو کہ وہ جب کوئی کام شروع کرے تو اسے پورا کرکے چھوڑے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تم نے بہت عمدہ شعر کہے ہیں، اللہ تمہارے دانتوں کو گر نے نہ دے۔ یعلیٰ راوی کہتے ہیں: میں نے حضرت نابغہ کو دیکھا کہ ان کی عمر سوسال سے زیادہ ہوچکی تھی، لیکن ان کا ایک بھی دانت نہیں گرا تھا۔ 1 حضرت عبداللہ بن جراد کہتے ہیں: بنو جعدہ قبیلہ کے حضرت نابغہ ؓ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اپنا یہ شعر عَلَوْنَا السَّمَائَ سنایا، حضورﷺ کو غصہ آگیا۔ آپ نے فرمایا: اے ابولیلیٰ! چڑھ کر اوپر کہاں جاناہے؟ میں نے کہا: جنت میں۔ آپ نے فرمایا: ہاں ٹھیک ہے، اِن شاء اللہ۔ مجھے اپنے اور اشعار سنائو۔ اس پر میں نے ’’وَلَا خَیْرَ فِيْ حِلْمٍ ‘‘ والے دونوں شعر سنائے تو آپ نے مجھ سے فرمایا: تم نے بہت اچھے شعر کہے ہیں، اللہ تمہارے دانتوں کو گرنے نہ دے۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا تو مجھے حضرت نابغہ ؓ کے دانت مسلسل گرنے والے اولوں کی طرح چمک دار نظر آئے، اور نہ کوئی دانت ٹوٹا ہوا تھا اور نہ کوئی مڑاہوا۔ عاصم لیثی کی روایت میں ہے کہ حضرت نابغہ کے دانت عمر بھر بڑے خوب صورت رہے، جب بھی ان کا کوئی دانت گرجاتاتو اس کی جگہ دوسرا نکل آتا اور ان کی عمر بہت زیادہ ہوئی تھی۔ 1