صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
قیدی کا قید سے رہا ہوجانا
حضرت محمد بن اِسحاق کہتے ہیں: حضرت مالک اَشجعیؓ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ میرا بیٹا عوف قید ہوگیا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اس کے پاس یہ پیغام بھیج دو کہ حضورﷺ اسے فرمارہے ہیں کہ وہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِکثرت سے پڑھے۔ چناںچہ قاصدنے جاکر حضرت عوف ؓ کو حضور ﷺ کا پیغام پہنچادیا۔ حضرت عوف ؓ نے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِِ خوب کثرت سے پڑھنا شروع کردیا۔کافروں نے حضرت عوف ؓ کو تانت سے باندھا ہوا تھا ایک دن وہ تانت ٹوٹ کر گرگئی، تو حضرت عوف ؓ قید سے باہر نکل آئے۔ باہر آکر انھوں نے دیکھا کہ ان لوگوں کی اونٹنی وہاں موجود ہے۔ حضرت عوف ؓ اس پر سوار ہوگئے۔
آگے گئے تو دیکھا کہ ان کافروں کے سارے جانور ایک جگہ جمع ہیں۔ انھوںنے ان جانوروں کو ایک آواز لگائی تو سارے جانور ان کے پیچھے چل پڑے اور انھوں نے اچانک اپنے ماںباپ کے گھر کے دروازے پر جاکر آواز لگائی تو ان کے والد نے کہا: ربِّ کعبہ کی قسم! یہ تو عوف ہے۔ ان کی والدہ نے کہا: ہائے! یہ عوف کیسے ہوسکتاہے؟ عوف تو تانت کی تکلیف میں گرفتار ہے۔ بہرحال والد اور خادم دوڑ کر دروازے پر گئے تو دیکھا کہ واقعی حضرت عوف ؓ موجود ہیں، اور سارا میدان اونٹوں سے بھرا ہواہے۔ حضرت عوف ؓ نے اپنے والد کو اپنا اور اونٹوں کا ساراقصہ سنایا۔ ان کے والد نے جاکر حضورﷺ کو یہ سب کچھ بتایا۔ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا: ان اونٹوں کے ساتھ تم جوچاہے کرو (یہ اونٹ تمہارے ہیں، اس لیے) اپنے اونٹوں کے ساتھ جوکچھ تم کرتے ہو وہی ان کے ساتھ کرو۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی:
{وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا آیت کا نشان وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُط وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ}1
جومحض اللہ سے ڈرتاہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے (مضرتوں سے) نجات کی شکل نکال دیتاہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچاتاہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس (کی اِصلاحِ مہمات) کے لیے کافی ہے۔ 1
ابنِ جریر کی روایت میں یہ بھی ہے کہ عوف کے والد حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور اپنے بیٹے کے قید میں ہونے اور اس کی پریشانی کی شکایت کرتے۔ حضورﷺ انھیں صبر کی تلقین فرماتے اور ارشاد فرماتے: اللہ تعالیٰ عن قریب اس کے لیے اس پریشانی سے نکلنے کا راستہ بنائیں گے۔