صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
غلبہ و عزت کی حالت میں بھی ذمیوں کی رعایت کرنا
حضرت ابو نہیک اور حضرت عبداللہ بن حنظلہ ؓ کہتے ہیں: ہم ایک لشکر میں حضرت سلمان ؓ کے ساتھ تھے۔ ایک آدمی نے سورۂ مریم پڑھی تو دوسرے آدمی نے حضرت مریم اور ان کے بیٹے (حضرت عیسیٰ) ؑ کو برابھلا کہا (بظاہر یہ آدمی یہودی ہوگا)۔ ہم نے اسے مار مار کر لہولہان کردیا۔ جس انسان پر ظلم ہوتا تھا وہ جاکر حضرت سلمان ؓ سے شکایت کیا کرتاتھا۔ چناںچہ اس آدمی نے بھی جاکر حضرت سلمان ؓ سے شکایت کردی۔ اس سے پہلے اس نے کبھی ان سے کوئی شکایت نہیں کی تھی۔ حضرت سلمان ؓ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم نے اس آدمی کو کیوں مارا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے سورۂ مریم پڑھی تھی ،اس نے حضرت مریم اور ان کے بیٹے کو برابھلا کہا۔ انھوں نے فرمایا: تم لوگوں نے انھیں سورۂ مریم کیوں سنائی؟ کیا آپ لوگوں نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا؟
{وَلَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہَ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًام بِغَیْرِ عِلْمٍ}2
اور دشنام مت دو ان کو جن کی یہ لوگ خداکو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں، کیوںکہ پھر وہ براہِ جہل حدسے گزر کر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے۔
اے جماعتِ عرب! کیا آپ لوگوں کا مذہب سب سے زیادہ برا نہیں تھا؟ آپ لوگوں کا علاقہ سب سے برا نہیں تھا؟ کیا آپ لوگوں کی زندگی سب سے زیادہ بری نہیں تھی؟ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو عزت دی اور آپ لوگوں کو سب کچھ دیا۔ کیا آپ لوگ یہ چاہتے ہو کہ اللہ کی دی ہوئی عزت کی وجہ سے لوگوں کی پکڑکرتے رہو؟ اللہ کی قسم! یا تو آپ لوگ اس کام سے باز آجائو، ورنہ جوکچھ آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہے اللہ تعالیٰ اسے تم سے لے کر دوسروں کو دے دیں گے۔ پھر حضرت سلمان ؓ ہمیں سکھانے لگے اور فرمایا: مغرب اور عِشا کے درمیان نوافل پڑھاکرو، کیوںکہ ان نوافل میں بہت سا قرآن پڑھ لینے کی وجہ سے تمہارے روز کے قرآن پڑھنے کی مقررہ مقدار میں کمی ہوجائے گی اور اس طرح رات کا شروع کا حصہ بے کار ہونے سے بچ جائے گا، کیوںکہ جس کا رات کا شروع کا حصہ بے کار گزر جائے گا تو اس کی رات کا آخری حصہ یعنی تہجد کا وقت بھی بے کار گزر ے گا۔ 1