صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
جولوگ اللہ تعالیٰ کے حکم چھوڑ دیں ان کی بری حالت سے عبرت حاصل کرنا
حضرت جُبیر بن نُفیر ؓ فرماتے ہیں: جب قبرص جزیرہ فتح ہواتو وہاں کے رہنے والے سارے غلام بنالیے گئے اور انھیں مسلمانوں میں تقسیم کردیاگیا۔ وہ ایک دوسرے کی جدائی پر رورہے تھے، میں نے دیکھا کہ حضرت ابو درداء ؓ اکیلے بیٹھے ہوئے رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: اے ابو الدرداء! آج تو اللہ نے اسلام اور اہلِ اسلام کو عزت عطافرمائی ہے تو آپ کیوں رورہے ہیں؟ فرمایا: اے جبیر! تیرا بھلا ہو! اس مخلوق نے جب اللہ کے حکم کو چھوڑ دیا تو یہ اللہ کے ہاں کتنی بے قیمت ہوگئی۔ پہلے تو یہ زبردست اور غالب قوم تھی اور انھیں بادشاہت حاصل تھی، لیکن انھوں نے اللہ کا حکم چھوڑ دیا تو ان کا وہ براحال ہوگیا جو تم دیکھ رہے ہو۔ 2
ابنِ جریر کی روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اب تو ان کا وہ براحال ہوگیا جو تم دیکھ رہے ہو کہ ان پر اللہ نے غلامی مسلط کردی، اور جب کسی قوم پر اللہ غلامی مسلط کردیں تو سمجھ لو کہ اللہ کو ان کی کوئی ضرورت نہیں (کیوںکہ ان کی اللہ کے ہاں کوئی قیمت نہیں رہی)۔ 3