صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
اللہ تعالیٰ سے قرآن مجید اور اذکار کے ذریعہ مدد چاہنا
حضرت زید بن اَسلم کہتے ہیں: جب حضرت عمر بن خطابؓنے دیکھا کہ مصر فتح ہونے میں دیر لگ رہی ہے تو انھوں نے حضرت عمرو بن عاصؓکو یہ خط لکھا:
امابعد! مجھے اس بات پر بہت تعجب ہے کہ مصر کی فتح میں آپ لوگوں کو دیر لگ رہی ہے۔ آپ ان سے کئی سالوں سے لڑرہے ہیں۔ اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ آپ لوگوں نے نئے نئے کام شروع کردیے ہیں اور جیسے آپ لوگوں کے دشمن کو دنیاسے محبت ہے ایسے ہی آپ لوگوں کے دلوں میں بھی دنیا کی محبت آگئی ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کی مدد صرف ان کی سچی نیت کی وجہ ہی سے کرتے ہیں۔ اور میں نے آپ کے پاس چار آدمی بھیجے ہیں اور آپ کو بتارہاہوں کہ میرے علم کے مطابق ان میں سے ہر آدمی ہزار آدمیوں کے برابر ہے، ہاں دنیا کی محبت جس نے دوسروں کو بدلاہے وہ ان کو بھی بدل دے تو اور بات ہے۔ جب میرا یہ خط آپ کو ملے تو آپ لوگوں میں بیان کریں، اور ان کو دشمن سے لڑنے کے لیے ابھاریں، اور ان کو صبر کی اور نیت خالص کرنے کی ترغیب دیں، اور ان چاروں کو سب لوگوں سے آگے رکھیں، اور لوگوں سے کہیں کہ وہ سب اکٹھے مل کر ایک دم دشمن پر حملہ کریں، اور یہ حملہ جمعہ کے دن زوال کے وقت کریں، کیوںکہ یہ ایسی گھڑی ہے جس میں رحمت نازل ہوتی ہے اور دعاقبول ہوتی ہے اور سب اللہ کے سامنے خوب گڑگڑائیں اور اس سے اپنے دشمن کے خلاف مدد مانگیں۔
جب یہ خط حضرت عمروؓکے پاس پہنچا تو حضرت عمرونے لوگوں کو جمع کرکے یہ خط سنایا، پھر ان چار آدمیوں کو بلاکر لوگوں کے آگے کیا اور پھر لوگوں سے کہا کہ وضو کرکے دو رکعت نماز پڑھیں اور پھر اللہ کی طرف متوجہ ہوکر اس سے مدد مانگیں۔ چناںچہ ایسا کرنے سے اللہ نے ان کے لیے مصر فتح کردیا۔1
حضرت عبداللہ بن جعفر اور عیاش بن عباس وغیرہ حضرات کچھ کمی بیشی کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمرو بن عاص ؓ کو مصر فتح کرنے میں دیر لگی تو انھوں نے مدد طلب کرنے کے لیے حضرت عمر ؓ کو خط لکھا۔ حضرت عمر ؓ نے ان کی مدد کے لئے چار ہزار آدمی بھیجے اور ہر ہزار آدمی پر ایک آدمی کو امیر بنایا اور ان کو حضرت عمر بن خطاب نے یہ خط لکھا کہ میں آپ کی مدد کے لیے چار ہزارآدمی بھیج رہاہوں۔ ہر ہزار پر ایک ایسا آدمی امیر مقرر کیا ہے جو ہزار کے برابر ہے۔ وہ چار حضرات یہ ہیں: حضرت زبیر بن عوام، حضرت مقداد بن اسود بن عمرو، حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت مَسْلَمہ بن مُخلَّد ؓ۔ اور آپ کو معلوم ہوناچاہیے کہ آپ کے ساتھ بارہ ہزار آدمی ہیں اور بارہ ہزار کا لشکر تعداد کی کمی کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوسکتا (کسی گناہ کی وجہ سے ہوسکتا ہے)۔1
حضرت عیاض اَشعری کہتے ہیں: میں جنگِ یرموک میں شریک تھا۔ اس جنگ میں مسلمانوں کے لشکر کے پانچ امیر تھے۔ حضرت ابوعبیدہ ، حضرت یزید بن ابی سفیان، حضرت شرحبیل بن حسنہ ، حضرت خالد بن ولید اور حضرت عیاضؓ۔ یہ حضرت عیاض دوسرے صاحب ہیں اس حدیث کے راوی نہیں ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: جب جنگ ہو تو آپ لوگوں کے امیر حضرت ابوعبیدہؓہواکریں گے۔ پھر ہم نے حضرت عمر ؓ کو مدد طلب کرنے کے لیے خط میں یہ لکھا کہ موت بڑے جوش وخروش سے ہماری طرف بڑھ رہی ہے۔ انھوں نے ہمیں جواب میں یہ لکھا کہ مدد طلب کرنے کے لیے آپ لوگوں کا خط میرے پاس آیا۔ میں آپ لوگوں کو ایسی ذات بتاتاہوں جس کی مدد بڑی زور دار ہے اور جس کا لشکر ہر جگہ موجود ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، لہٰذا اسی سے مدد مانگو، کیوںکہ حضرت محمد ﷺ کی جنگِ بدر میں مدد ہوئی حالاںکہ ان کی تعداد تم سے کم تھی۔2
احمد کی روایت میں یہ بھی ہے کہ جب آپ لوگوں کو میرا یہ خط ملے تو آپ لوگ ان سے جنگ کریں اور مجھ سے دوبارہ مدد طلب نہ کریں۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے ان سے جنگ کی اور انھیں خوب قتل کیا اور انھیں چار فرسخ یعنی بارہ میل تک شکست دی اور ہمیں بہت سامالِ غنیمت ملا۔ پھر ہم نے مشورہ کیا تو حضرت عیاضؓنے ہمیں مشورہ دیا کہ ہر مسلمان کے چھڑوانے کے بدلے دس کافر دیں۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ابوعبیدہؓ نے فرمایا: گھوڑا دوڑانے میں کون مجھ سے بازی لگاتاہے؟ اس پر ایک نوجوان نے کہا: اگر آپ خفانہ ہوں تو میں۔ چناںچہ یہ نوجوان دوڑ میں حضرت ابو عبیدہ ؓ سے آگے نکل گیا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت ابوعبیدہ بغیر زین کے گھوڑے پر سوار ہیں اور اس نوجوان کے پیچھے دوڑ رہے ہیں اور ان کے بالوں کی دونوں مینڈھیاں زور زور سے ہل رہی ہیں۔1
حضرت محمد، حضرت طلحہ اور حضرت زیاد ؓ اپنی اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے ایک نوجوان حضرت سعدؓکے ساتھ مستقل لگارکھا تھا جو کہ قاریوں میں سے تھا۔ جب حضرت سعد ؓ نماز ظہر پڑھاچکے تو اس نوجوان کو حکم دیا کہ وہ سورۂ جہاد یعنی سورۂ انفال پڑھے اور تمام مسلمان یہ سورت سیکھے ہوئے تھے۔ چناںچہ لشکر کا جو حصہ قریب تھا اس نوجوان نے ان کے سامنے وہ سورۂ جہاد پڑھی، پھر وہ سورت لشکر کے ہر دستے میں پڑھی گئی جس سے تمام لوگوں کے دلوں میں ذوق شوق بڑھ گیا اور سب نے اس کے پڑھتے ہی سکون محسوس کیا۔ 2
حضرت مسعود بن خراش کی روایت میں یہ ہے کہ لوگ سورہ ٔجہاد سیکھے ہوئے تھے، اس لیے حضرت سعد ؓ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے اسے پڑھیں۔ 3
حضرت ابراہیم بن حارث تیمی ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا اور ہمیں حکم دیا کہ ہم صبح اور شام {اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰـکُمْ عَبَثًا}4 پڑھا کریں۔ چناںچہ ہم یہ آیت پڑھتے رہے جس سے ہم خود صحیح سالم رہے اور ہمیں مالِ غنیمت بھی ملا۔5
حضرت محمد،حضرت طلحہ اور حضرت زیاد ؓ اپنی اپنی سندسے یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد ؓ نے فرمایا: آپ سب لوگ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں اور ظہر کی نماز پڑھنے تک کچھ حرکت نہ کریں۔ آپ لوگ جب ظہر پڑھ لیں گے تو میں زور سے اللہ اکبر کہوں گا اس وقت آپ لوگ بھی اللہ اکبر کہیں اور تیاری شروع کردیں۔ اور آپ لوگوں کو معلوم ہوناچاہیے کہ زور سے اللہ اکبر کہنا آپ لوگوں سے پہلے کسی کو نہیں دیاگیا، اور یہ آپ لوگوں کو مضبوط اور طاقت ور بنانے کے لیے دیاگیاہے۔ پھر جب آپ لوگ دوسری مرتبہ اللہ اکبر سنیں تو آپ لوگ بھی اللہ اکبر کہیں اور اپنی تیاری مکمل کرلیں۔ پھر جب میں تیسری مرتبہ اللہ اکبر کہوں تو آپ لوگ بھی اللہ اکبر کہیں، اور آپ لوگوں میں جو گھوڑے سوار ہیں وہ میدان جنگ میں اُترنے اور دشمن پر حملہ کرنے کے لیے پیدل ساتھیوں کا حوصلہ بڑھائیں۔ پھر جب میں چوتھی مرتبہ اللہ اکبر کہوں تو آپ سب لوگ اکٹھے چل پڑیں اور دشمن میں گھس جائیں اور لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ پڑھتے رہیں۔1
حضرت محمد،حضرت طلحہ اور حضرت زیاد ؓ اپنی اپنی سندسے بیان کرتے ہیں کہ جب قاری حضرات آیات جہاد کی تلاوت سے فارغ ہوگئے تو حضرت سعدؓنے زور سے اللہ اکبر کہا۔ اسے سن کر ان کے قریب والوں نے اللہ اکبر کہا، اس طرح ایک دوسرے سے سن کر سارے لوگوں نے اللہ اکبر کہا۔ اس سے لوگوں میں حملہ کی تیاری کے لیے حرکت شروع ہوگئی۔ پھر حضرت سعد ؓ نے دوبارہ اللہ اکبر کہا تو لوگوں نے تیاری مکمل کرلی۔ پھر انھوں نے تیسری مرتبہ اللہ اکبر کہا تو بہادرانِ لشکر آگے بڑھے اور انھوں نے گھمسان کی لڑائی شروع کردی۔ آگے اور بھی حدیث ذکر کی ہے۔ 2